Book Name:Takleef Na Dijiye

چابک رکھنا پسند نہیں کرتا ، اس خوف سے کہ کہیں جانور کے سرکشی کرتے وقت مجھ پر نفس کی گرمی حاوی نہ ہوجائے اور میں اسے مارنے لگوں ، یوں ہی جانور کے مالک کی اِجازت سے بھی کسی کو اپنے ساتھ جانور کی پیٹھ پر سوار نہیں کرتا ، ہاں جب اندازہ ہو کہ جانور کو تکلیف نہیں ہوگی (تب کسی کو بٹھالیتا ہوں ) ، اسی طرح اس پر سواری کے دوران یا جب وہ لڑکھڑائے اور مجھے زمین پر گرادے اسے گالی نہیں دیتا اور نہ ہی بد دعا دیتا ہوں ۔حضرتِ سیِّدُنا عبد العزیز دِیْرِیْنِی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِجب جانور پر سوار ہوتے تو لاٹھی ساتھ نہیں رکھتے تھے ، اور نہ ہی آنکڑا مارتے ، اور فرماتے :  جب یہ راستہ سے ہٹنے لگے گا تو اپنی آستین کے ذریعے اسے سیدھا کرنا کفایت کر جائے گا ، کیونکہ روز قیامت جیسا میں نے اسے مارا ہوگا ویسا ہی مجھ سے بھی بدلہ لیا جائے گا ، اور میں اس کے جیسا خود کو لاٹھی سے مارنے کی طاقت نہیں رکھتا اور نہ ہی اپنی گدی پر آنکڑا مارنے کی ہمت ہے کہ خون نکلے گا ۔ (المنن الکبری ، الباب الرابع عشر ، ص۵۷۷)

(حکایت : 82)

(77)پرندوں کو نشانہ بازی کے لئے استعمال کرنا

        حضرت عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  قریش کے بچوں کے پاس سے گزرے، جو ایک پرندے کو باندھ کر اُس پر نشانہ بازی کر رہے تھے جبکہ انہوں نے پرندے کے مالِک سے یہ طے کیا ہوا تھا کہ جو تیر(Arrow) نشانے پر نہ لگا وہ اس کا ہو گا۔ جب انہوں نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو آتے دیکھا تو بھاگ گئے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دریافت فرمایا :  ’’یہ کس نے کیا ہے؟ اللّٰہ     عَزَّوَجَلَّ  ایسا کرنے والے پر لعنت فرمائے، بے شک رسولِ اَکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کسی ذِی رُوح (یعنی جاندار، Alive)کو تیر اندازی کا نشانہ بنانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔‘‘

( مسلم، ، ص۷۲۰۱، حدیث : ۲۶۰۵)

(حکایت : 83)

مگر مچھ نے جان بچائی

        علامہ عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ النورانی لکھتے ہیں کہ میں نے کم عمر ی کے زمانے میں دریائے نیل میں تیرنا شروع کردیا ، دریاچڑھا ہوا تھا لہٰذامیں جلد ہی تھک گیا اور ڈوبنے لگا ۔ ٹھیک اسی وقت  اللّٰہ    عَزَّوَجَلَّ  نے ایک مگر مچھ کو بھیج دیا جومیرے پاؤں کے نیچے آٹھہراجس سے میں نے سکون کا سانس لیا اور سمجھا کہ میرے پاؤں کسی چٹان پر ہیں ۔پھر وہ مگر مچھ پانی کی سطح پر آکر تیرنے لگا اور مجھے سہارا دیتا رہا یہاں تک کہ میں کنارے تک پہنچ گیا ۔اس مگر مچھ نے ڈُبکی لگائی اور میری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا ، یہ اللّٰہ    عَزَّوَجَلَّ    کا مجھ پر کرم ہوا کہ میری جان بچ گئی ۔(لطائف المِنَن ص۵۶)

(حکایت : 84)

اجمیری گا ئیں

        حیدرآباد(باب الاسلام سندھ) کے اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ مجھے ۱۴۲۰ھجری( بمطابق1999عیسوی) میں عاشقانِ رسول کے ہمراہ ہندکے سفر کا موقع ملا۔ سلطان الہند خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے مزارِ پر انوار کی زیارت کیلئے  امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی امارت میں جو قافلہ روانہ ہوا میں بھی خوش قسمتی سے اس میں شامل تھا۔ رات کم و بیش00 3:بجے اجمیرشریف کے اسٹیشن پر اتر کر مطلوبہ مقام تک پہنچنے کیلئے پیدل روانہ ہوئے۔ امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ برہنہ پا تھے، یہ دیکھ کر تقریباً شرکاء نے بھی ادباًاپنے پاؤں سے چپل اتار دئیے۔ چلتے چلتے جب ایک گلی میں داخل ہونے لگے تو دیکھا کہ ’’چند گائیں ‘‘ بیٹھی ہوئیں ہیں ۔آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے قافلے کو آگے بڑھنے سے روکتے ہوئے ارشاد فرمایاکہ ہمارے اس گلی سے گزرنے سے ’’گائیں ‘‘ تشویش میں مبتلا ہونگی ، ان کے کھڑے ہوئے کان اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں ۔ آخر کار مطلوبہ مقام تک پہنچنے کیلئے دوسری گلی میں داخل ہوگئے۔

(حقوق العباد کی احتیاطیں ، ص ۱۶)

(حکایت : 85)

شہد کی مکھی کا ڈنک

        عرب امارات کے قیام کے دوران غالباً ۴ ربیع الآخر ۱۴۱۸ھ کو قیام گاہ پر علی الصبح اندھیرے میں شیخِ طریقت امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکا پاؤں ایک شہد کی مکھی پر پڑگیا۔ اس نے آپ کے پاؤں کے تلوے پر ڈنک مار دیا، جس پر آپ  نے بے تاب ہو کر قدم اٹھالیااور وہ شہدکی مکھی رینگنے لگی ۔ایک اسلامی بھائی اس مکھی کو مارنے کیلئے دوا کا اسپرے(Flying Insect Killer) اٹھالائے لیکن آپ نے فوراً اس کا ہاتھ روک دیا اور فرمایا : ’’ اس بے چاری کا قصور نہیں ، قصور میرا ہی ہے کہ میں نے بغیر دیکھے غریب پر پاؤں رکھ دیا، اب وہ اپنی جان بچانے کے لئے ڈنک نہ مارتی تو اورکیا کرتی؟‘‘پھرفرمایا، ’’ شہد کی مکھی کے ڈنک میں عذاب قبرو جہنم کی تذکیر یعنی یاد ہے ، یہ تو مقامِ شکر ہے کہ مجھے شہد کی مکھی نے کاٹا ، اگر اس کی جگہ کوئی بچھو ہو تا تو میں کیا کرتا؟‘‘

 (تعارف امیر اہلسنّت ، ص۴۵)

ڈنک مچھر کا سَہا جاتا نہیں ، کیسے میں پھر

                   قبر میں بچھّو کے ڈنک آہ سہوں گا یاربّ!   (وسائلِ بخشش، ص۸۴)

(78)جِنّا ت کو بھی تکلیف نہ دیجئے

        رَحمت والے آقا ، دو جہاں کے داتا، شافِعِ روزِ جزا، مکّی مَدَنی مصطَفٰے، محبوبِ کبریا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ شفقت نشان ہے :  تم میں سے کوئی شخص سُوراخ میں پیشاب نہ کرے۔ (سُنَنِ نَسائی ص۱۴حدیث۳۴)

(حکایت : 86)

جِنّ نے شہید کر دیا

 



Total Pages: 52

Go To