Book Name:Takleef Na Dijiye

        حضرت سیدنا عبداللّٰہبن عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ماکا بیان ہے کہ  سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جانور لڑوانے سے منع فرمایا ۔(ترمذی، کتاب الجھاد، باب ما جاء فی کراھیۃ التحریش، ۳/۲۷۱، حدیث :  ۱۷۱۴)

       مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : اللّٰہ تعالٰی رحم فرمائے، آج مسلمانوں میں مرغ لڑانا، کتے لڑانا، اونٹ، بیل لڑانے کا بہت شوق ہے یہ حرام سخت حرام ہے کہ اس میں بلا وجہ جانوروں کو ایذاء رسانی ہے، اپنا وقت ضائع کرنا۔بعض جگہ مال کی شرط پر جانور لڑائے جاتے ہیں یہ جوا بھی ہے حرام دَرحرام ہے۔جب جانوروں کو لڑانا حرام ہے تو انسان کو لڑانا سخت حرام ہے۔(مراٰۃ المناجیح، ۵/۶۵۹)   

(حکایت : 79)

زخمی گدھا

         امیرِاَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ایک باراپنے سنّتوں بھرے بیان ’’جانوروں کو ستانا حرام ہے‘‘ میں ضمناً فرمایا کہ میں ایک دن اپنے گھر سے نماز ظہر کیلئے نکلا تو دیکھا کہ اپنی گلی کے تھوڑے فاصلے پر ایک بیمار گدھا پڑا ہے ۔ اس میں اٹھنے کی سکَت نہ تھی، بے چارے کی گردن پر خارش کے باعث زخْم ہوگیا تھا۔ جس کے سبب اس نے گردن کو زمین سے اوپر اٹھا رکھا تھا، گردن میں تکلیف بڑھنے پر جیسے ہی گردن زمین پر رکھنا چاہتا تو تکلیف کے باعث دوبارہ گردن اٹھالیتا، وہ انتہائی تکلیف اور بے بسی کے عالم میں مبتلا تھا۔میں نے جب اُس کی یہ حالت دیکھی تو مجھے اُس پر بہت رحم آیا کہ یہ (بے زبان) جانور ہے کس سے فریاد کرے۔ بہرحال میں نے اپنے گھر سے ایک  پُرانی گدڑی منگوالی اور اس کی گردن کے نیچے رکھ دی(تاکہ زمین کی سختی کی تکلیف سے اس کو نجات ملے ) ایسا کرنے سے اسے فی الواقع تسکین ہوئی، اور اس نے اپنی گردن سے گدڑی پر ٹیک لگالی، آپ مانیں یا نہ مانیں ، وہ مجھے سر اٹھا کر شکریہ بھری نظروں سے دیکھنے لگا۔ (تعارف امیر اہلسنت ، ص۴۶)

مچھر ، ٹِڈی اور بلی پر شفقت 

         حضرتِ سیِّدُنا احمد کبیر رفاعی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے جسم پر مچھر بیٹھ جاتا تو اُسے نہ ہی خود اڑاتے اورنہ کسی کو اُڑانے دیتے بلکہ فرماتے :  اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ نے جو خون اس کے حصے میں لکھ دیا ہے وہی پی رہا ہے ، اور جب آپ دھوپ میں چل رہے ہوتے اورکوئی ٹِڈی آپ کے کپڑوں میں سایہ دار جگہ پر بیٹھ جاتی توجب تک اُڑنہ جاتی آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اُسی جگہ ٹھہرے رہتے اور فرماتے :  اس نے ہم سے سایہ حاصل کیا ہے ۔ اسی طرح جب آستین پر بلی سو جاتی اور نماز کا وقت ہوجاتا تو آستین کو کاٹ دیتے مگر بلی کو نہ جگاتے ، اور نماز سے فَراغت کے بعد آستین دوبارہ سی لیتے ۔  

(فیضان سید احمد کبیر رفاعی ، ص ۱۱)

(حکایت : 80)

خارش زَدہ کتے کی خبر گیری

        ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا احمد کبیر رفاعی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک خارش زَدہ کتے کودیکھا جسے بستی والوں نے باہر نکال دیا تھا ، آپ اسے جنگل میں لے گئے اور اس پرسائبان بنایا ، نیز اسے کھلاتے پلاتے اور ہر طرح سے اس کا خیال رکھتے رہے ، حتّی کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی بھرپور توجُّہ کے نتیجے میں جب وہ تَندُرُسْت ہوگیا تو آپ نے اسے گرم پانی سے نہلاکر اُجلا کردیا ۔      (فیضان سید احمد کبیر رفاعی ، ص ۱۱)

(حکایت : 81)

بلی پر رحم رحمت خداوندی کا ذریعہ

        حضرتِ سیِّدُناابوبکرشِبْلِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کوخواب میں دیکھا گیا ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا :  اللّٰہ    عَزَّوَجَلَّ  نے مجھے اپنے در بارمیں کھڑاکرکے اِرشاد فرمایا :  تمہیں معلوم ہے میں نے تمہیں کیوں بخش دیا؟ میں اپنے نیک اعمال شمار کرنے لگا جونجات کا ذریعہ بن سکتے تھے ، تواللّٰہ     عَزَّوَجَلَّ  نے ارشاد فرمایا :  میں نے ان اعمال میں سے کسی عمل کے سبب تیری بخشش نہیں فرمائی ۔ میں نے عرض کی :  الٰہی ! پھرتونے کس سبب سے میری مغفرت فرمائی ؟ ارشاد فرمایا :  ایک مرتبہ تم بغداد کی گلی سے گزر رہے تھے کہ تم نے ایک بلی کو دیکھا جسے سردی نے کمزورکردیاتھاتواس پر ترس کھاتے ہوئے تم نے اسے اپنے چوغے (جبے)میں چھپالیاتاکہ وہ سردی سے بچ جائے، پس بلی پررحم کی وجہ سے میں نے آج تم پر رحم فرمایاہے ۔(حیاۃ الحیوان ، باب الھاء تحت الھر ، ۲/ ۵۲۲)

طالِبِ مغفِرت ہوں یااللّٰہ

                  بخش حیدر کا واسطہ یاربّ   (وسائلِ بخشش، ص۸۰)

(76)گھریلوبلی اور پرندوں کا خیال رکھئے

        امام قرطبی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوینے فرمایا : جس گھر میں اس کی بلی کو اس کی خوراک اور ضروریات نہ ملیں اور جس کے پنجرے میں بندپرندوں کی پوری خبر گیری نہ ہوتی ہوتووہ کتنی ہی عبادت کرے مُحسِنِین میں شمار نہیں ہوگا۔ (الجامع لاحکام القرآن، ۵/۱۲۲تحت الایۃ : ۹۰)

تکلیف دینے والی بلی کا کیا کیا جائے؟

سوال : بلی تکلیف دیتی ہو توا س کوبستی میں چھڑوانا گناہ تونہیں ہے؟

جواب : بلی اگرایذادیتی ہو تو اسے باہرچھوڑدینے میں حرج نہیں اورتیزچھُری سے ذبح بھی کرسکتے ہیں مگر چھڑوانا ایسی جگہ جائزنہیں جہاں سے وہ اپنے کسی رِزْق تک نہ پہنچ سکے۔ فقط۔

(فتاوی رضویہ، ۲۴/۶۶۰)  

جانور کو چابُک یا آنکڑا نہیں مارتے تھے

        حضرتِ سیِّدُنا عبد الوہاب شَعْرانی قُدِّسَ سرُّہُ السّامی فرماتے ہیں :  جس جانور پر بھی مجھے سوار ہونے کا موقع ملے چاہے وہ اونٹ ہو ، گدھا ہو یا کوئی اور جانور میں اس پر بہت شفقت کرتا ہوں اور



Total Pages: 52

Go To