Book Name:Takleef Na Dijiye

        شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالے ’’ابلق گھوڑے سوار‘‘ کے صفحہ15پر لکھتے ہیں : گائے وغیرہ کوگرانے سے پہلے ہی قبلے کا تَعَیُّن کر لیا جائے ، لِٹانے کے بعد بِالخصوص پتھریلی زمین پر گھسیٹ کر قبلہ رُخ کرنا بے زَبا ن جانورکیلئے سخت اذیَّت کا باعث ہے ۔ ذَبْح کرنے میں اتنا نہ کاٹیں کہ چھری گردن کے مُہرے(ہڈی) تک پہنچ جائے کہ یہ بے وجہ کی تکلیف ہے پھر جب تک جانور مکمَّل طور پر ٹھنڈا نہ ہو جائے نہ اس کے پاؤں کاٹیں نہ کھال اُتاریں ، ذَبْح کر لینے کے بعد جب تک رُوح نہ نکل جائے چھری کٹے ہوئے گلے پر مَس(TOUCH) کریں نہ ہی ہاتھ۔بعض قصّاب جلد ’’ٹھنڈی ‘‘ کرنے کیلئے  ذَبْح کے بعد تڑپتی گائے کی گردن کی زندہ کھال اُدھیڑ کر چُھری گھونپ کر دل کی رگیں کاٹتے ہیں ، اِسی طرح بکرے کوذَبْح کرنے کے فوراً بعد بے چارے کی گردن چٹخا دیتے ہیں ، بے زَبا نو ں پر اِس طرح کے مظالم نہ کئے جائیں ۔ جس سے بن پڑے اس کے لئے ضروری ہے کہ جانور کوبِلا وجہ اِیذا پہنچانے والے کو روکے ۔ اگر باوُجُودِ قدرت نہیں روکے گا تو خود بھی گنہگار اور جہنَّم کا حقدار ہو گا۔دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِداریمکتبۃُ الْمدینہ کی مطبوعہ 1197 صَفْحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد 3صَفْحَہ660پر ہے : ’’ جانو ر پرظُلم کرنا ذِمّی کافرپر(اب دنیا میں سب کافر حَربی ہیں )ظلم کرنے سے زیادہ بُرا ہے اور ذِمّی پر ظلم کرنا مسلم پر ظلم کرنے سے بھی بُرا ہے کیوں کہ جانور کا کوئی مُعِین و مددگار اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا نہیں اس غریب کو اس ظلم سے کون بچائے!‘‘ (دُرِّمُختارو رَدُّالْمُحتارج۹ص۶۶۲)

مرنے کے بعد مظلوم جانور مُسَلّط ہو سکتا ہے

        ذَبْح کرنے کے بعد رُوح نکلنے سے قبل چُھریاں چلا کر بے زَبان جانوروں کو بِلاوجہ تکلیف دینے والوں کو ڈر جانا چاہئے کہیں مرنے کے بعد عذاب کیلئے یِہی جانور مُسَلَّط نہ کر دیا جائے۔دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ1012 صَفْحات پر مشتمل کتاب ، ’’ جہنَّم میں لے جانے والے اعمال ‘‘ جلد2  صَفْحَہ323 تا 324 پر ہے :  انسان نے ناحق کسی چوپائے کو مارا یا اسے بھوکا پیاسا رکھا یا اس سے طاقت سے زیادہ کام لیا تو قِیامت کے دن اس سے اسی کی مثل بدلہ لیا جائے گا جو اس نے جانور پر ظُلم کیایا اسے بھوکا رکھا۔ اس پر درجِ ذَیل حدیث ِ پاک دَلالت کرتی ہے۔چُنانچِہ رَحمت ِ عالَم ، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جہنَّم میں ایک عورت کو اس حال میں دیکھا کہ  وہ لٹکی ہوئی ہے اور ایک بلّی اُس کے چِہرے اور سینے کو نوچ رہی ہے اور اسے ویسے ہی عذاب دے رہی ہے جیسے اس(عورت) نے دنیا میں قید کر کے اور بھوکا رکھ کراسے تکلیف دی تھی۔ اس روایت کا حکم تمام جانوروں کے حق میں عام ہے۔  (اَلزَّواجِرُج۲ ص۱۷۴)

(حکایت : 76)

مکّھی پر رَحم کرنا باعثِ مغفِرت ہو گیا

       کسی نے خواب میں حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمد بن محمد بن محمد غزالی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالیکو دیکھ کر پوچھا : ما فَعلَ اللّٰہُ بِکَ؟ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا مُعامَلہ فرمایا؟ جواب دیا : اللہ  عَزَّوَجَلَّ نے مجھے بخش دیا، پوچھا :  مغفِرت کا کیا سبب بنا؟ فرمایا :  ایک مکّھی سیاہی(INK) پینے کے لئے میرے قلم پر بیٹھ گئی ، میں لکھنے سے رک گیا یہاں تک کہ وہ فارِغ ہو کر اُڑگئی۔(لطائفُ الْمِنَن وَالْاَخلاق لِلشَّعرانی ص۳۰۵)

رَحْمتِ حق ’’بہا‘‘نہ می جوید

رَحْمتِ حق ’’بہانہ‘‘می جوید

(اللّٰہ    عَزَّوَجَلَّ  کی رَحمت ’’بہا‘‘یعنی قیمت نہیں مانگتی ۔اللّٰہ    عَزَّوَجَلَّ  کی رَحْمت تو ’’بہانہ‘‘طلب کرتی ہے)

مکّھی کو مارنا کیسا؟

        یادرہے! مکھیاں تنگ کرتی ہوں تو ان کو مارنا جائز ہے تاہم جب بھی حُصولِ نَفْعْ یا دَفعِ ضَرر(یعنی فائدہ حاصِل کرنے یا نقصان زائِل کرنے) کیلئے مکھی یا کسی بھی بے زَبان کی جان لینی پڑے تو اُس کو آسان سے آسان طریقے پر مارا جائے خوامخواہ اُس کو بار بار زندہ کُچلتے رہنے یاایک وار میں مار سکتے ہوں پھر بھی زخم کھا کر پڑے ہوئے پر بِلاضَرورت ضَربیں لگاتے رہنے یا اُس کے بدن کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اُس کو تڑپا نے وغیرہ سے گُریز کیا جائے۔ اکثر بچّے نادانی کے سبب چیونٹیوں کو کچلتے رہتے ہیں اُن کو اِس سے روکا جائے ۔ چیونٹی بہت کمزور ہوتی ہے چٹکی میں اٹھانے یا ہاتھ یا جھاڑو سے ہٹانے سے عُمُوماً زخمی ہوجاتی ہے، موقع کی مُناسَبَت سے اس پر پھونک مار کر بھی کام چلایاجا سکتا ہے۔(ابلق گھوڑے سوار، ص۱۵ تا ۲۱)

(حکایت : 77)

اُونٹ والے کو مار کیوں پڑی ؟

         حضرتِ سیِّدُنا مسیَّب بن دارِم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں :  ایک بار میں نے امیر المومنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو دیکھا کہ ایک اونٹ والے کو مار رہے ہیں اور فرمارہے ہیں :  تم اپنے اونٹ پر اتنا بوجھ کیوں لادتے ہو جسے وہ اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا ۔(الامر بالمعروف والنھی عن المنکر ، ص۴۵)

(حکایت : 78)

ایک مچھلی بھی نہ چکھی

        حضرتِ سیِّدُنا اسلم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک دن امیر المومنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ارشاد فرمایا :  میرا تازہ مچھلی کھانے کا دل کر رہا ہے ۔ یہ سن کر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا غلام ’’یَرْفا‘‘ چار میل دور کسی جگہ سے تازہ مچھلیوں کا ایک ٹوکرا خرید لایا ۔ بعدازاں اپنی سواری اور اس کے کجاوے وغیرہ کو دھویا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ تشریف لائے اور فرمایا :  چلو ! میں بھی تمہاری سواری دیکھ لوں ۔ جب ملاحظہ کیا تو فرمایا :  تم اس کے کانوں کے نیچے کا پسینہ دھونا بھول گئے ، تم نے عمر کی خواہش پوری کرنے کیلئے اس جانور کو تکلیف میں ڈالا ، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! اب عمر تمہارے ٹوکرے کی ایک مچھلی بھی نہیں چکھے گا۔    (کنز العمال ، فضائل الصحابۃ ، جزء ۱۲ ، ۶/ ۲۸۷ ، حدیث :  ۳۵۹۶۶)

(75)جانورلڑوانے سے منع فرمایا

 



Total Pages: 52

Go To