Book Name:Takleef Na Dijiye

ہاں یہیں کرتی ہیں چڑیاں فریاد ہاں یہیں چاہتی ہے ہرنی داد

               اِسی در پرشُترانِ ناشاد گلۂ رنج و عنا کرتے ہیں    (حدائقِ بخشش، ص۱۱۳)

چڑیا کی شکایت

        سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : جوشخص کسی چڑیا کو بلاضرورت قتل کریگا تو وہ چڑیا قیامت کے دن اللّٰہ    عَزَّوَجَلَّ  کی بارگاہ میں فریاد کرتے ہوئے عرض کرے گی : اے میرے رب!فلاں نے مجھے بِلاضرورت قتل کیا تھا کسی نفع کے لئے قتل نہیں کیا۔(نسائی ، ۳/۷۳ حدیث : ۴۵۳۵)   

(حکایت : 73)

چڑیا کو تکلیف دینے کا انجام

        حضرتِ علّامہ کمالُ الدّین دَمیری علیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ القوی نَقل کرتے ہیں :  ’’زَمَخْشَری‘‘ (جو کہ مُعتزِلی فرقے کا ایک مشہور عالم گزرا ہے اُس)کی ایک ٹانگ کٹی ہوئی تھی ، لوگوں کے پوچھنے پر اُس نے انکِشاف کیا کہ یہ میری ماں کی بد دُعا کا نتیجہ ہے، قِصّہ یوں ہوا کہ میں نے بچپن میں ایک چِڑیا پکڑی اور اُس کی ٹانگ میں ڈوری باندھ دی ، اِتِّفاق سے وہ میرے ہاتھ سے چھوٹ کر اُڑتے اُڑتے ایک دیوار کی دراڑ میں گُھس گئی مگرڈوری باہَر ہی لٹک رہی تھی، میں نے ڈوری پکڑ کرزور سے کھینچی تو چِڑیا پھڑکتی ہوئی باہَر نکل پڑی، مگربے چاری کی ٹانگ ڈوری سے کٹ چکی تھی، میری ماں نے یہ درد ناک منظر دیکھا تو صدمے سے تڑپ اُٹھی اور اُس کے منہ سے میرے لئے یہ بددُعا نکل گئی :  ’’جس طرح تو نے اِس بے زَبان کی ٹانگ کاٹ ڈالی، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ تیری ٹانگ کاٹے ۔‘‘بات آئی گئی ہو گئی، کچھ عرصے کے بعد تحصیلِ علم کیلئے میں نے ’’ بُخارا‘‘ کا سفر اختیار کیا، اِثنائے راہ سُواری سے گر پڑا، ٹانگ پر شدید چوٹ لگی، ’’ بُخارا‘‘ پَہنچ کر کافی علاج کیا مگر تکلیف نہ گئی بالآخِر ٹانگ کٹوانی پڑی۔ (اوریوں ماں کی بددعا رنگ لائی)  (حیاۃُ الحیوان الکبرٰی ، ۲ / ۱۶۳)

نیک بندے چیونٹیوں کو بھی اِیذا نہیں دیتے

         اللّٰہ    عَزَّوَجَلَّ   کے نیک بندے کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ چیونٹیوں تک کو اِیذا دینے سے گُریز کرتا ہے۔ چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا خواجہ حسن بصری علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی  اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۙ(۲۲) (ترجَمۂ کنزالایمان : بے شک نکوکار ضرور چین میں ہیں (پ۳۰، المطففین ۲۲)کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :  اَلَّذِیْنَ لَایُؤْذُوْنَ الذَّرّ  یعنی نیک بندے وہ ہیں جو چیونٹیوں کو بھی اَذِیَّت نہ دیں ۔

  (تفسیر حسن بصری ، ۵ /۲۶۴ )     (غصے کا علاج، ص۲۷)

چیونٹیوں کے لئے روٹی رکھا کرتے

        صحابی ٔ رسول حضرتِ سیِّدُنا ابو طَریف عَدی بن حاتِم طائی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ چیونٹیوں کے لئے روٹی چورا کر کے رکھا کرتے تھے ، اور فرماتے تھے :  یہ بھی ہماری پڑوسی ہیں ، اِن کا بھی حق ہے ۔ (شعب الایمان ، الباب الخامس والسبعون ، ۷/ ۴۸۳ ، رقم : ۷۹۔ ۱۱۰۷۸)

(حکایت : 74)

بے تاب چیونٹی

         امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ انسان تو انسان بِلا وجہ جانوروں بلکہ چیونٹی تک کو بھی تکلیف دینا گوارا نہیں کرتے حالانکہ عوامُ النّاس کی نَظَر میں اس کی کوئی وُقْعَت نہیں ۔ ایک مرتبہ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی خِدمت میں پیش کئے گئے کیلوں کے ساتھ اتفاقاً ایک چھلکا بھی آگیا جس پر ایک چیونٹی بڑی بے تابی سے پِھر رہی تھی۔ آپ فوراً معاملہ سمجھ گئے لہٰذا فرمایا کہ دیکھو یہ چیونٹی اپنے قبیلے سے بِچھڑ گئی ہے۔کیونکہ چیونٹی ہمیشہ اپنے قبیلے کے ساتھ رہتی ہے اس لئے بے تاب ہے ۔برائے مہربانی کوئی اسلامی بھائی اس چِھلکے کو چیونٹی سمیت لے جائیں اور واپس وہیں جا کر رکھ آئیں جہاں سے اُٹھایا گیا ہے، یوں وہ چِھلکا چیونٹی سمیت اپنی جگہ پہنچا دیا گیا۔(تعارفِ امیر اہلسنّت ، ص۴۴)

(حکایت : 75)

چیونٹیوں کے ہٹنے کا انتظار

        اسی طرح ایک بار آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ واش بیسن(Washbasin) پَر ہاتھ دھونے کیلئے پہنچے مگر رُک گئے، پھر ارشاد فرمایا کہ واش بیسن میں چند چیونٹیاں  رِینگ رہی ہیں ، اگر میں نے ہاتھ دھوئے تو یہ بہہ کر مر جائیں گی، لہٰذا کچھ دیر انتظار فرمانے کے بعد جب چیونٹیاں آگے پیچھے ہوگئیں تو پھرآپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ہاتھ دھوئے۔   (تعارف امیر اہلسنت ، ص۴۵)

(74)ذبح کے وقت جانور کو غیر ضروری تکلیف نہ دیجئے

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حصولِ نفع کے لئے اگرچہ شریعت نے جانور ذبح کرنے کی اجازت دی ہے لیکن اس عمل کے دوران ہر ایسے کام سے منع بھی کیاہے جو جانور کے لئے بلاسبب تکلیف کا باعث بنے، چنانچہ صَدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ  علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویارشاد فرماتے ہیں : ہر وہ فعل جس سے جانور کو بلا فائدہ تکلیف پہنچے مکروہ ہے مثلاً جانور میں ابھی حیات باقی ہو ٹھنڈا ہونے سے پہلے اس کی کھال اتارنا اس کے اعضاکاٹنا یا ذبح سے پہلے اس کے سر کو کھینچنا کہ رگیں ظاہر ہو جائیں یا گردن کو توڑنا یوہیں جانور کو گردن کی طرف سے ذبح کرنا مکروہ ہے بلکہ اس کی بعض صورتوں میں جانور حرام ہو جائے گا۔ (الھدایۃ، کتاب الذبائح، ۲/۳۵۰)(بہار شریعت ، ۳/۳۱۵)

اس طرح ذبح کرے کہ چاروں رگیں کٹ جائیں یا کم سے کم تین رگیں کٹ جائیں ۔ اس سے زیادہ نہ کاٹیں کہ چھری گردن کے مہرہ تک پہنچ جائے کہ یہ بے وجہ کی تکلیف ہے پھر جب تک جانور ٹھنڈا نہ ہو جائے یعنی جب تک اس کی روح بالکل نہ نکل جائے اس کے نہ پاؤں وغیرہ کاٹیں نہ کھال اُتاریں ۔ (البحرالرائق، کتاب الصلاۃ، باب مایفسد الصلاۃ...إلخ، ۲/۵۷) (بہار شریعت ، ۳/۳۵۳)

جانوروں پر رحم کی اپیل

 



Total Pages: 52

Go To