Book Name:Takleef Na Dijiye

قَبْرپر بیٹھنے والے کو تَنبِیہ

    عُمارَہ بن حَزْم رضی اﷲتعالٰی عنہ فرماتے ہیں : حُضُورِ اقدس صَلیَّ اللّٰہُ تعالٰی عَلیہ واٰلہٖ وسلَّمنے مجھے ایک قَبْر پر بیٹھے دیکھا، فرمایا : اوقَبْر والے!قَبْر سے اُتر آ، نہ تو صاحِبِ قَبْر کواِیذا دے نہ وہ تجھے۔

(فتاوٰی رضویہ، ۹/۴۳۴ )

 اِس مَدَنی حکایت سے وہ لوگ عبرت حاصل کریں جوجنازے کے ساتھ قبرِستان جاتے ہیں اور تدفین کے دَوران مَعَاذَاللّٰہ بِلا تکلُّف قبروں پر بیٹھ جاتے ہیں ۔

(حکایت : 69)

قَبر پر پاؤں رکھا تو آواز آئی

        حضرت ِسیِّدُناقاسم بنمُخَیْمَررَحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ کہتے ہیں : کسی شخص نے ایک قبر پر پاؤں رکھا، قبر سے آواز آئی : اِلَیْکَ عَنِّیْ وَلَاتُؤْذِنِی اپنی طرف ہٹ ، (یعنی دور ہو !اے شخص میرے پاس سے!)اور مجھے اِیذا نہ دے۔(فتاوٰی رضویہ، ۹/۴۵۲  ، شَرْحُ الصُّدُور، ص۳۰۱)

(حکایت : 70)

اٹھ تُو نے مجھے اِیذا دی!

     حضرتِ سَیِّدُنَا ابنِ مِینا تابِعی عَلیہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِ ی فرماتے ہیں : میں قبرِستان میں گیا ، دورَکعات پڑھ کرایک قَبْر پر لیٹا رہا۔ خدا کی قسم!میں خوب جاگ رہاتھا کہ سُنا، صاحبِ قبر کہتا ہے : قُمْ فَقَدْ اٰذَیْتَنِی اُٹھ کہ تونے مجھے ایذا دی ۔  (دَلَائِلُ النُّبُوَّۃِ لِلْبَیْہَقِی، ۷/ ۴۰)

قبر پر پاؤں رکھنا حرام ہے

    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ قَبْرپرپاؤں رکھنے یاسونے سے قَبْر والے کو اِیذا ہوتی ہے اور بلا اجازتِ شرعی کسی مسلمان کو ایذا دینا حرام اور جہنَّم میں لے جانے والاکام ہے۔لہٰذا کسی مسلمان کی قَبْر پر پاؤں نہ رکھے، نہ کسی قَبْر کو رَوندے اور نہ کسی قَبْر پر بیٹھے اور نہ ہی ٹیک لگائے کیونکہ اس سے نبیِّ کریم ، رَء ُوْفٌ رَّحیم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِوَ التَّسْلِیم نے منع فرمایا ہے : دو فَرامینِ مصطَفٰیصلی اللّٰہُ تعالٰی عَلیہ واٰلہ وسلَّم : (۱)مجھے آگ کی چِنگاری پر یا تلوار پر چلنا یا میرا پاؤں جُوتے میں سِی دیا جانا زیادہ پسند ہے اِس سے کہ میں کسی مسلمان کی قَبْرپر چلوں ۔(اِبن ماجہ، ۲  /۲۵۰، حدیث : ۱۵۶۸)

 (۲)ایک آدمی کو آگ کی چنِگاری پر بیٹھارہنا یہاں تک کہ وہ اس کے کپڑے کو جَلا کر اس کی کھال تک پہنچ جائے، اس کے لیے بہتر ہے اس سے کہ قَبْرپر بیٹھے۔(مسلم، ص۴۸۳، حدیث :  ۹۷۱)

قَبْر کے قریب گندگی کرنا

     قَبْر پررہنے کامکان بنانا، یاقَبْرپر بیٹھنا، یاسونا، یا اس پر بَول وبَراز (یعنی پیشاب پاخانہ)کرنا یہ سب اُموراَشَدّ (یعنی سخت ترین )مَکرُوہ قریب بحَرام ہیں ۔ (فتاوٰی رضویہ ، ۹/۴۳۶)

سیِّدِ عالم صلیَّ اللہُ تعالٰی عَلیہ واٰلہ وسلَّمفرماتے ہیں : مُردے کو قَبْر میں بھی اس بات سے اِیذا ہوتی ہے جس سے گھر میں اسے اَذِیَّت ہوتی۔(فِردَوس  الاخبار، ۱/۱۲۰، حدیث : ۷۴۹)

ردالمحتار میں ہے : قبرستان میں پیشاب کرنے کو نہ بیٹھے : لِاَنَّ الْمَیِّتَ یَتَاَذَّی بِمَا یَتَاَذَّی بِہِ الْحَیُّ اس لئے کہ جس چیز سے زندو ں کو اَذیت ہوتی ہے اس سے مرُدے بھی اِیذا پاتے ہیں ۔ (ردالمحتار، ۱/۶۱۲)

(72)بد اعمالیوں سے تکلیف نہ دو

        سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمان عبرت نشان ہے :  ہر پیر اور جمعرات کو اعمال اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے حضور پیش ہوتے ہیں ، اور ہر جمعہ کو انبیام     ئے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اور والدین کے سامنے پیش ہوتے ہیں ، وہ نیکیوں پر خوش ہوتے ہیں اور انکے چہروں کی چمک دمک بڑھ جاتی ہے ، لہٰذا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو ! اور اپنے فوت شدگان کو اپنی بداعمالیوں سے تکلیف نہ دو ۔(نوادر الاصول ، الاصل التاسع والستون والمأۃ ، جزء ۱ ، ص ۶۷۱ ، حدیث :  ۹۲۵)

   

جانوروں کو بھی تکلیف نہ دیجئے

        جس طرح ہم پر انسانوں کے حقوق ہوتے ہیں اسی طرح جانوروں کے بھی ہم پر حقوق ہیں ، لہٰذا جانوروں کو بلاوجہ شرعی تکلیف پہنچانا جائز نہیں ۔حضرتِ سیِّدُنا احنف بن قَیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :  ہم وفْد کی صورت میں ایک بار بارگاہِ فاروقی میں عظیم فتح کی خوشخبری لے کر حاضر ہوئے ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے استفسار فرمایا :  تم لوگ کہاں ٹھہرے ہو ؟ میں نے جگہ کے بارے میں بتایا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہمارے ساتھ اس جگہ تک آئے اور ہر سواری کو غور سے دیکھتے رہے ، پھر فرمایا :  تم لوگ اِن سواریوں کے معاملے میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے نہیں ڈرتے ؟ تم نہیں جانتے کہ ان جانوروں کا بھی تم پر حق ہے !(حکایت : 71)  (تاریخ دمشق ، ۴۴/ ۲۹۱ملتقطاً)

(73)جانوروں کو کرسی نہ بنالو

        سرکارِ ابد قرار، شافعِ روزِ شمارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ عالیشان ہے : ان جانوروں پر اچھی طرح سواری کرو اور( جب ضرورت نہ ہوتو) ان سے اُترجاؤ، راستوں اور بازاروں میں گفتگو کرنے کے لئے انہیں کرسی نہ بنالوکیونکہ کئی سواری کے جانور اپنے سوار سے بہتر اوراس سے زیادہ اللّٰہ    عَزَّوَجَلَّ   کا ذکر کرنے والے ہوتے ہیں ۔ (جامع الاحادیث، ۱/۴۰۴، حدیث : ۲۷۶۵)   

(حکایت : 72)

اس کے بچے اسے لوٹا دو

        حضرت سیدنا عبداللّٰہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ ہم سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔آپ قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے تو ہم نے ایک چڑیا دیکھی جس کے دو بچے تھے، ہم نے انہیں پکڑلیا، چڑیا آئی اور پھڑپھڑانے لگی۔ سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف لائے تودریافت فرمایا : کس نے اسے اس کے بچوں کے معاملے میں تکلیف پہنچائی ہے؟اس کے بچے اسے لوٹادو۔(ابوداؤد، ۳/۷۵ حدیث

Total Pages: 52

Go To