Book Name:Takleef Na Dijiye

تکلیف دینا ۔ (شرحُ الصُّدور ص ۲۷)

مجھے دیدے ایمان پر اِستقامت

                 پئے سیِّدِ مُحْتَشَم یاالٰہی   (وسائلِ بخشش، ص۵۷۳)

 (حکایت : 3)

چھڑی باغ میں واپس رکھ آئے

حضرتِ سیِّدُناصالح دَہّان علیہ رحمۃُ الحنّان بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا جابربن زید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ایک مرتبہ اپنے گھروالوں میں سے کسی کے ساتھ گفتگوکرتے ہوئے ایک باغ سے گزرے تو کتوں کو بھگانے کے لئے وہاں سے ایک شاخ اٹھالی اورگھرلوٹتے وقت مسجدمیں رکھ دی ۔مسجدمیں موجود لوگوں سے کہا :  اس کا خیال رکھنا ! یہ میں نے ایک قوم کے باغ کے پاس سے گزرتے وقت اٹھالی تھی ۔ لوگوں نے کہا :  اے ابوشَعْثاء ! اس شاخ کی کیا اہمیت ہے ؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا :  اگرباغ سے گزرنے والا ہرشخص ایک ایک شاخ لیتارہے توباغ میں کچھ بھی نہیں بچے گا ۔ چنانچہ صبح ہوئی توآپ وہ شاخ اُسی باغ میں واپس رکھ آئے ۔   (حلیۃ الاولیاء ، جابر بن زید ، ۳/ ۱۰۳ ، رقم :  ۳۳۳۵)

دو اچھی اور دو بُری خصلتیں

        منقول ہے : دو خصلتیں ایسی ہیں کہ ان سے افضل کوئی خصلت نہیں :  (۱)اللّٰہ تعالٰیپر ایمان لانا(۲)مسلمانوں کو نفع پہنچانا، جبکہ دو خصلتیں ایسی ہیں کہ     

ان سے زیادہ بُری کوئی خَصلت نہیں (۱) اللّٰہ    عَزَّوَجَلَّ  کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا (۲)مسلمانوں کو تکلیف دینا۔ (اَلمُنَبِّہات، ص۳)

کروں یا خدا مومِنوں کی میں خدمت

نہ پہنچے کسی کو بھی مجھ سے اَذِیَّت

 (حکایت : 4)

        عبادت کا طعنہ دینے کا انجام

بَحْرُ الْعُلُوْم حضرت علامہ مولانا مفتی عبدالمنّانعلیہ رحمۃُ المنّان اپنے دادا مرحوم عبدالرحیم بن دوست محمد کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : دادا جان ایک بازار میں مزدوری کرتے تھے، ایک دفعہ اُجرت لینے کے لئے اس شخص کے پاس گئے جس کے یہاں مزدوری کرتے تھے تو اس کے لڑکے نے کہا : ابھی گزشتہ ہفتے تو خرچی لے کر گئے تھے، آج پھرچلے آئے، اتنی عبادت و ریاضت تو کرتے ہیں ، اسی سے خوب ڈھیر سارا روپیہ کیوں نہیں مانگ لیتے!دادا جان نے ان کو کوئی جواب نہ دیا، فوراً گھر واپس لوٹ آئے اور دیر تک یہ فرماتے رہے : کیسے لوگ ہیں ، یہ مسلمان کہے جائیں گے؟اللّٰہ کا نام لینے اور بندگی کرنے پر طعنہ دیتے ہیں ۔بھلا ان لوگوں کو کیا احساس ہوتا، البتہ حضرت اس جملے پر نہایت دُکھی رہے اور آپ نے اس شخص کے لئے کام کرنا چھوڑ دیا۔بحر العلوم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے مزید فرمایا :  اللّٰہ تعالٰیکسی کی سرکشی پسند نہیں فرماتا، میرے زمانے تک وہ لوگ زندہ رہے، ساری اکڑفوں ختم ہوگئی تھی۔ ان میں ایک صاحب تو اس طرح مرے کہ مرتے دم انہیں کوئی ایک چمچہ پانی دینے والا نہ تھاحالانکہ تین چار جوان بچے موجود تھے۔(بحرالعلوم نمبر ملخصاً، ص۲۲۴)

لوگوں کو تکلیف دینے والا ملعون ہے

        امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضور تاجدارِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمان عبرت نشان ہے :  جس نے مسلمان کو تکلیف یا دھوکا دیا وہ ملعون ہے ۔ (ترمذی ، کتاب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی الخیانۃ والغش ، ۳/ ۳۷۸ ، حدیث :  ۱۹۴۸)

 (حکایت : 5)

لوگوں کوتکلیف دینے والے کا عذاب

حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ ہم شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّمکے ساتھ چل رہے تھے ، ہمارا گزر دو قبروں کے پاس سے ہوا تو آپصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّمرُک گئے لہٰذا ہم بھی آپ کے ساتھ ٹھہر گئے۔ آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کا رنگ مبارک متغیر ہونے لگا یہاں تک کہ آپ کی قمیص مبارک کی آستین کپکپانے لگی۔ ہم نے عرض کی :  یارسولَاللّٰہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کیا ماجرا ہے؟ ارشاد فرمایا : کیا تم بھی وہ آواز سن رہے ہو جو میں سن رہا ہوں ؟ ہم نے عرض کی : یارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  !آپ کیا سماعت فرما رہے ہیں ؟ارشاد فرمایا : ان دونوں افراد پر ان کی قبروں میں انتہائی سخت عذاب ہو رہا ہے وہ بھی ایسے گناہ کی وجہ سے جو حقیر ہے(یعنی ان دونوں کے خیال میں حقیر تھا یا پھر یہ کہ اس سے بچنا ان کے لئے آسان تھا)۔ہم نے عرض کی : وہ کون سا گناہ ہے؟ ارشاد فرمایا : ان میں سے ایک پیشاب سے نہ بچتا تھا اور دوسرا اپنی زبان سے لوگوں کو اذیت دیتا تھااور چغلی کرتا تھا۔پھر آپصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم نے کھجور کی دو ٹہنیاں منگوائیں اور ان میں سے ہر ایک قبر پر ایک ایک ٹہنی رکھ دی۔ ہم نے عرض کی : یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کیا یہ چیز ان کو کوئی نفع دے گی؟ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا : ہاں !جب تک یہ دونوں ٹہنیاں تَر رہیں گی ان سے عذاب میں تخفیف ہوتی رہے گی۔(صحیح ابن حبان، کتاب الرقائق، باب الأذکار، ۲/۹۶، حدیث : ۸۲۱ )

آگ میں پھینک دیا جائے گا

        مدینے کے تاجدار ، رسولوں کے سالار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اِستفِسار فرمایا :  کیا تم جانتے ہومُفلِس کون ہے؟ صحابۂ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی :  یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ! ہم میں سے جس کے پاس دراہِم و سامان نہ ہوں وہ مُفلِس ہے۔ فرمایا :  میری اُمّت میں مُفلِس وہ ہے جو قِیامت کے دن نَماز، روزے اور زکوٰۃ لے کر آیا اور یوں آیا کہ اِسے گالی دی، اُس پرتُہمت لگائی، اِس کا مال کھایا، اُس کا خون بہایا، اُسے مارا تو اس کی نیکیوں میں سے کچھ اِس مظلوم کو دے دی جائیں اور کچھ اُس مظلوم کو پھر اگر اِس کے ذمّے جو حُقُوق تھے ان کی ادائیگی



Total Pages: 52

Go To