Book Name:Takleef Na Dijiye

عصا توڑ دیا

        حضرت سیدنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ماسے روایت ہے کہ حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ا کے گھر کے باہر ایک واعظ بیان کیا کرتا تھا جس کی آواز سے آپ کو تکلیف ہوتی اور کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ا نے حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو پیغام بھیج کر اس بات کی شکایت فرمائی۔حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس واعظ کو اس فعل سے منع فرمایا جس پر وہ وقتی طور پر بازآیا لیکن چند دنوں بعد دوبارہ وہی سلسلہ شروع کردیا۔اس پر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنا عصا لیکر اس واعظ کے پاس گئے اور مار مار کراس پر اپنا عصا توڑدیا۔(تاریخ المدینۃ المنورۃ ، ذکر القصص ، ۱/ ۱۵)

لاؤڈاسپیکر کا غلط استعمال نہ کریں

             مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّانسمجھاتے ہوئے لکھتے ہیں :  وہ واعظین عبرت پکڑیں جو تیز لاؤڈسپیکروں پر آدھی آدھی رات تک تقریریں کرکے مزدوروں ، بیماروں کو پریشان کرتے ہیں ، ساری بستی کو جگاتے ہیں ۔دیکھا گیا ہے کہ پھرعوام حکومت کو درخواستیں دیتے ہیں جس پر دفعہ144 نافذ کی جاتی ہے، کتنی بڑی ذلت اور علم کی توہین ہے۔ اگر یہ واعظین اس فرمان پرعمل کرتے تو یہ نوبت کیوں آتی، حکام اور افسران خود ان سے عِلْم سیکھنے ان کی خدمت میں حاضر ہوتے۔(مراٰۃ المناجیح، ۱/۲۱۷)

(57)بے مقصد ملاقات میں وقت ضائع کرنا

        بعضوں کو نہ اپنے وقت کی دولت کااحساس ہوتا ہے نہ دوسرے کے وقت کی قدروقیمت کا پاس ، چنانچہ وہ بے مقصد کسی بھی وقت کسی سے ملاقات کے لئے جاپہنچتے ہیں اور اگر وہ وقت نہ دے تو اسے مغرور ، متکبر جیسے القابات سے نواز کر اس کا سینہ چھلنی کردیتے ہیں اور اگر وہ ملاقات کرنے پر تیار ہوجائے تو پھر جلدی ٹلتے نہیں ۔

میں خود ان کے پاس پہنچ جاتا ہوں

        ایک شخص کسی فرم میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھا ، اس کی عادت تھی کہ جب اسے کسی ماتحت سے کوئی کام ہوتا یا اس کو کوئی فائل دینی ہوتی تو وہ خود اٹھ کر اس کی ٹیبل پر جاتا اور فائل دے کر واپس آجا تا ، کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ میں ان کو اپنے کمرے میں بلاسکتا ہوں لیکن یہ آئیں گے اپنی مرضی سے اور میرا وقت ضائع ہوگا، اس لئے میں اپنا وقت بچانے کے لئے خود ان کے پاس چلا جاتا ہوں اور کام پورا ہونے کے بعد واپس آجاتا ہوں ۔

(58)گاڑی چلاتے ہوئے کیچڑ اُڑانا

         سڑک پر بعض اوقات پانی کھڑا ہوتا ہے ، یا گٹر سے رسنے والا ناپاک پانی جمع ہوجاتا ہے یا بارش کے بعد کیچڑ بن جاتی ہے ، ایسے میں بعض کار یا ویگن چلانے والے پیدل چلنے والوں کے لئے مصیبت بن جاتے ہیں ، وہ یوں کہ کیچڑ وغیرہ سے تیزی سے گاڑی گزاریں گے اور اُڑنے والے چھینٹے پیدل چلنے والوں کے منہ اور کپڑوں پر جاپڑتے ہیں ، اب وہ بے چارا کہیں نوکری کا انٹرویودینے جارہا ہو یا اس کی نوکری کا پہلا دن ہویا دعوت میں جارہا ہو ، اس سے ان کو کوئی غرض نہیں ہوتی کیونکہ ان کے اپنے کپڑے اور چہرے محفوظ رہتے ہیں ، اگر یہ خود کبھی پیدل ہوں اور کسی تیز رفتار گاڑی سے اُڑنے والے چھینٹوں کا نشانہ بنیں تو انہیں صحیح معنوں میں دوسروں کی تکلیف کا احساس ہوگا ۔

(59)مصافحے اور معانقے میں زور سے دبانا

        اسلامی بھائیوں کا ایک دوسرے سے مصافحہ ومعانقہ کرنا بقائے محبت کا ذریعہ ہے لیکن بعضوں کو ایک دَم شرارت سوجھتی ہے کہ مصافحے کے دوران دوسرے کا ہاتھ ایک دم جَکڑ کر دبانا شروع کر دیتے ہیں ، اسی طرح مُعَانقے(یعنی ایک دوسرے سے گلے ملنے )کے دوران بھی اتنی زور سے دباتے ہیں کہ سامنے والے کی چیخیں نکل جاتی ہیں ۔

(حکایت : 58)

بے ہوش ہوگیا

        کئی برس پہلے ہیڈپنجند(جنوبی پنجاب)کے اسکول ماسٹر کے ساتھ اسی طرح کا واقعہ پیش آیا کہ کسی نے اس سے عید ملنے کے دوران اتنی زور سے دبایا کہ بے چارا بے ہوش ہوکر زمین پر گر گیا پھر اسے اسپتال لے جانا پڑا ، جہاں اسے بڑی مشکل سے ہوش میں لایا گیا۔

(60)کسی کو جھوٹا ، بددیانت یا رشوت خور قرار دینا

        جھوٹ بولنا، خیانت کرنا یا رشوت خوری بہت ہی بُرے اور جہنم میں لے جانے والے کام ہیں لیکن اس سے بھی بُرا کام یہ ہے کہ کسی کو بلادلیلِ شرعی جھوٹا، بددیانت یا رشوت خور قرار دیا جائے ۔ایسا کرنا تہمت ہے اور اس کی سزا بہت سخت ہے چنانچہ نبیِّ رَحمت ، شفیعِ امّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : جو کسی مسلمان کی بُرائی بیان کرے جو اس میں نہیں پائی جاتی تو اس کو اللّٰہ    عَزَّوَجَلَّ  اس وقت تک رَدْغَۃَ الْخَبَال میں رکھے گا جب تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات سے نہ نکل آئے۔[1]؎          (ابوداوٗد، کتاب الاقضیۃ، باب فیمن یعین علی خصومۃ ۔۔الخ، ۳ /۴۲۷، حدیث :  ۳۵۹۷ )

گر تُو ناراض ہوا میری ہلاکت ہوگی

                      ہائے! میں نارِجَہنَّم میں جلوں گا یاربّ!       (وسائلِ بخشش، ۸۵)

(61) زوجہ کو چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے اٹھانا

       اپنا کا م اپنے ہاتھ سے کرنا باعثِ سعادت اور عظیم سنّت ہے۔ اُمُّ المؤمنین  حضرت سیِّدَتُناعائشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ا   فرماتی ہیں کہ سلطانِ مکّۂ مکرّمہ ، سردارِمدینۂ منورہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    اپنے کپڑے خودسی لیتے اوراپنے نعلینِ مبارَکَین گانٹھتے اوروہ سارے کام کرتے جومرداپنے گھروں میں کرتے ہیں ۔ (کنزالعمال ، ۴/۶۰، جز۷، حدیث : ۱۸۵۱۴)

 



     رَدْغَۃَ الْخَبَال دوزخ کا وہ مقام ہے جہاں دوزخیوں کا پیپ و خون جمع ہوتا ہے۔ (مراٰ ۃ المناجیح، ۵/۳۱۳) [1]



Total Pages: 52

Go To