Book Name:Takleef Na Dijiye

ملک شام پہنچا، بَیتُ الْمُقَدَّس حاضری دی ، پھر بغداد جانے کے ارادے سے روانہ ہوگیا لیکن ’’حَلَب‘‘ (ملک شام کے ایک قدیم شہر)میں بھوک اور سخت سردی سے دوچار ایک مسجد میں داخل ہوگیا ۔مسجد کے نمازیوں نے مجھے امامت کے لئے آگے کردیا ، میں نے انہیں نماز پڑھائی ۔ انہوں نے مجھے کھانا پیش کیا ، ماہِ رمضان شروع ہوچکا تھا ، لوگوں نے کہا :  ہمارے امام صاحب وفات پاگئے ہیں تو اس مہینے آپ ہمیں نمازیں پڑھائیں ۔ میں نے حامی بھرلی اور سارا مہینہ ان کی امامت کی ۔بعدِ رمضان انہوں  نے مرحوم امام صاحب کی بیٹی کا رشتہ پیش کیا جسے میں نے قبول کرلیا ۔شادی کے ایک سال بعد ہمارے یہاں بیٹا پیدا ہوا تو میری زوجہ بیمار پڑ گئی ۔ایک دن میں اسی پریشانی کے عالم میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ میری نظر اپنی زوجہ کے گلے کے ہار پرپڑی ، یہ بالکل ویسا ہی ہار تھا جو میں نے دورا نِ حج نابینا حاجی کو واپس کیا تھا ۔میں نے ہار کا سارا قصہ اپنی زوجہ کو سنایا تو وہ رونے لگی اور بولی :  اللّٰہ    عَزَّوَجَلَّ  کی قسم ! آپ وہی ہیں جن کے بارے میں میرے والد رو رو کر یہ دعا کرتے تھے کہ اے اللّٰہ    عَزَّوَجَلَّ  ! میری بیٹی کو ہار لوٹانے والے شخص جیسا شوہر عطا فرمانا ، اور اللّٰہ    عَزَّوَجَلَّ  نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی ۔ کچھ ہی عرصے میں میری زوجہ کا انتقال ہوگیا ۔میں اس کی مِیراث اور ہار لے کر بغداد لَوٹ آیا  ۔  (سیر اعلام النبلاء ، ۱۴/۳۹۴)

(51)قیمتِ خرید پر تبصرے

        بعضوں کو قیمتِ خرید پر تبصرہ کرنے کا بڑا شوق ہوتا ہے ، چیز کوئی بھی خریدے یہ اس سے ضرور پوچھیں گے کہ کتنے میں خریدی ؟ پھر جوبھی جواب ملے ان کا واحد تبصرہ یہ ہوتا ہے کہ بہت مہنگی خرید لائے ، یہ سن کر بعض اوقات خریدنے والے کی دل شکنی بھی ہوتی ہے کہ میں اتنا گھوم پھر کر بھاؤ تاؤ کرکے اپنے گمان میں سستی چیز خرید کر لایا مگر موصوف نے اسے بھی مہنگا قرار دے دیا ۔یہ الگ بات ہے کہ تبصرہ کرنے والے کو یہی چیز خرید کرلانے کا کہا جائے تو شاید اس سے بھی مہنگی خرید لائے ۔ بہرحال ہمیں چاہئے کہ اگر ہمارا کوئی شناسا واقعی مہنگے داموں چیز خرید لایا ہوتو بھی ضرورتاً ایسی حکمت عملی سے نشاندہی کریں کہ خریداری کرنے والے کی دل شکنی نہ ہو ۔

(52)گِھن دلانے والی حرکتیں کرنا

        بعض لوگ کبھی کان میں انگلی ماریں گے تو کبھی ناک میں ، کبھی بغلیں کھجائیں گے تو کبھی سر میں خارش کریں گے پھر ہاتھ دھوئے بغیر کھانے پینے میں بھی مشغول ہوجائیں گے ، ان کی اس حرکت سے دیکھنے والے کو کیسی گِھن آتی ہے ! کاش وہ اس کا اِدراک کرپاتے ۔ اللّٰہ    عَزَّوَجَلَّ    عقلِ سلیم نصیب کرے ۔

(53) ہاتھا پائی کی عادت

        بعضوں کو زبان کے ساتھ ساتھ ہاتھ چلانے کی بھی بیماری ہوتی ہے ، چنانچہ دورانِ گفتگو کبھی سامنے والے کے کندھے پر ہاتھ ماریں گے تو کبھی اس کی کمر پر  تھپڑ جَڑ دیں گے ، کبھی اس کا سر پکڑ کر جھٹکا دیں گے تو کبھی ہاتھ پر ہاتھ مارنے کی فرمائش کریں گے ۔ ان کا یہ انداز بھی سامنے والے کے لئے تکلیف دہ ہوسکتا ہے ۔

(54)بات کاٹنا

        کسی کی بات غور سے مکمل سننے کی بعضوں کو عادت نہیں ہوتی چنانچہ ایسے افراد ’’کان‘‘ بننے کے بجائے’’ زبان ‘‘بننے کے شوقین ہوتے ہیں ، سامنے والا کتنی ہی اہم بات کررہا ہو یہ اس کی با ت کاٹ کر اپنی بات شروع کردیں گے جس سے سامنے والا کوفت میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔حضرتِ سیِّدُناابو امامہ باہلی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ہم بحث ومباحثہ کر رہے تھے کہ  رسولُ اللّٰہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہمارے پاس تشریف لائے اور رنجیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اِرشاد فرمایا : بات کاٹنا چھوڑ دو کہ اس میں بھلائی کم ہے ، بات کاٹنا چھوڑ دو کہ اس میں نفع تھوڑا ہے کیونکہ یہ دو بھائیوں کے درمیان دشمنی پیدا کر دیتی ہے ۔(تاریخ مدینۃدمشق، ۳۳/۳۷۰)

        اُم المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ انے اِرشاد فرمایا : جب تم لوگوں کو گفتگو کرتے دیکھو تو ان کی بات نہ کاٹو۔(مساویٔ الاخلاق للخرائطی، ص۲۲۱، رقم : ۵۳۸)حضرت عبد اﷲبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ما کاارشاد ہے : کسی بیوقوف کی بات نہ کاٹو کہ وہ تمہیں اذیت دے گا اور کسی عقل مند کی بات نہ کاٹو کہ وہ تم سے بُغْض رکھے گا۔(احیاء العلوم ، ۲؍۲۲۴)

        فتاویٰ رضویہ جلد24صفحہ 170پر ہے : بے ضرورت شرعیہ دوسرے کی بات کاٹنا (ممنوع) ہے جبکہ وہ علمِ شرعی کے ذکر میں ہو۔

(55)کیلے وغیرہ کے چھلکے پلیٹ فارم پر پھینک دینا

        بعضوں کا صفائی کا ذہن نہیں ہوتا، ایسے لوگ کسی کے کمرے یا گاڑی میں مونگ پھلی کھائیں گے تو چھلکے وہیں پھیلا دیں گے ، آم ، کینو یا کیلا وغیرہ کھا کر اُس کا چھلکا روڈ یا پلیٹ فارم پر پھینک دیں گے ، ان کا یہ عمل کسی کو زخمی کر سکتا بلکہ کسی کی جان بھی لے سکتا ہے چنانچہ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے بڑے بھائی عبدالغنی صاحب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پنجاب سے بابُ المدینہ آتے ہوئے ٹرین جب زم زم نگر(حیدر آباد)کے ا سٹیشن پر رُکی تو وہ پانی پینے کیلئے اُترے ، جب ٹرین چل پڑی تو تیزی سے اُس کی طرف لپکے، کسی کے پھینکے ہوئے کیلے کے چھلکے پر پاؤں پڑا ، آہ! پھسل کرچلتی ٹرین کے نیچے جا پڑے اور کٹ جانے کے سبب انتقال کرگئے ۔ اللّٰہ    عَزَّوَجَلَّ  ان کی بے حساب مغفرت فرمائے ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

(56)محافل میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال

        بیانات اور نعت خوانی کرنا بڑی سعادت کی با ت ہے لیکن بلندآواز والا ساؤنڈسسٹم لگا کر محلے والوں کی نیند میں خلل ڈال کر اس کا اِنعقاد کرنا دین کی خدمت نہیں بلکہ لوگوں کی حق تلفی کا گناہ اپنے سر لینا ہے ۔اگر کوئی یوں اپنے دل کو منائے کہ ہم نے گھر گھر جاکر اِجازت لے لی ہے تو سفید بالوں والی ضعیف بڑھیا، بیمار بوڑھے ، دودھ پیتے بچے اور گھر میں بستر پر دَراز مریض کی اجازت کیونکر مل گئی ، اس لئے حاضرین کی تعداد کے مطابق بغیر اسپیکر ہی نعت وبیان کی ترکیب بنالینے میں عافیت ہے یا پھر کھلے گراؤنڈ میں جہاں سے گھروں تک آواز نہ پہنچے اتنی آواز میں اسپیکر چلائے جائیں جتنی حاجت ہو ، الغرض جس نے احتیاط کرنی ہو اس کے لئے راستے ہزار اور جس نے نہ کرنی ہو اس کے لئے بہانے بے شمار ۔

(حکایت : 57)

 



Total Pages: 52

Go To