Book Name:Takleef Na Dijiye

ہوتی ، اس سے بچنا چاہئے۔

(حکایت : 47)

بلند آواز سے گفتگو کرنے والوں کو سمجھایا

شیخِ طریقت امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہایک مرتبہ نماز پڑھ رہے تھے تو قریب کھڑے ہوئے بعض اسلامی بھائیوں نے اونچی آواز میں گفتگو شروع کردی ، جس سے امیر اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو نماز میں تشویش ہورہی تھی ، کچھ ہی دیر میں وہ اسلامی بھائی وہاں سے ہٹ گئے ۔امیرِ اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے سلام پھیرنے کے بعد ان کو جمع کرکے اَحسن طریقے سمجھایاتو ان اسلامی بھائیوں نے فوراً توبہ کرلی۔

(حکایت : 48)

اصلاح فرما دی

        اسی طرح کا ایک اور واقعہ پیش آیا کہ ایک ا سلامی بھائی سوئے ہوئے تھے اورقریب ہی دوسرے اسلامی بھائی مدنی منے یا مُنی سے کھیل رہے تھے، جس سے آوازیں پیدا ہورہی تھیں ، اس پر بھی امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اس اسلامی بھائی کو شرعی مسئلہ سمجھایا تو انہوں نے ہاتھوں ہاتھ توبہ کی ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(45)وقت پر دعوت شروع نہ کرنا

        دعوت ایک دوسرے سے محبت بڑھانے کا ذریعہ ہے لیکن یہ بھی اس وقت باعثِ تکلیف بن جاتی ہے جب وقت پر شروع نہ ہو، کئی اسلامی بھائیوں کا تجربہ ہوگا کہ شادی وغیرہ کی دعوت کا وقت 10 بجے کا دیا لیکن رات کے12 بجے جاکر شروع ہوتی ہے ، وقت پر پہنچنے والے مہمان بڑی آزمائش میں آجاتے ہیں کہ رات کا کھاناگھر سے کھا کر جائیں تو دعوت میں شرکت کس بات کی ؟ اور نہ کھانے کی صورت میں بھوکے بیٹھے میزبان کی تسلیاں سنتے رہتے ہیں کہ جی بس ابھی فلاں کا انتظار ہے وہ آجائیں تو دعوت شروع ہوجائے گی ، کئی گھنٹے وقت ضائع ہونے کے بعد رات کے ایک بجے فارغ ہوکر دوتین بجے گھر پہنچنے والا صبح اپنی ملازمت یا کاروبار پر کس طرح جائے یہ الگ آزمائش ہے ۔کئی لوگ اسی وجہ سے دعوت میں شرکت سے معذرت کرلیتے ہیں لیکن کچھ دعوتیں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ انکار نہیں کرسکتے مگر تاخیر کی وجہ سے تکلیف میں آجاتے ہیں ۔ کاش! میزبان اور مہمان وقت کی پابندی کریں تو کسی کو تکلیف نہ پہنچے ۔

(حکایت : 49)

گوشت بھننے کی آواز

        امام محمد بن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللّٰہِ الوالی لکھتے ہیں : ایک شخص نے اپنے ہاں کسی دوست کوبلایا ، لیکن اُسے کھانے کو کچھ نہ دیا ، بیٹھے بیٹھے عَصْر کا وقت ہوگیا ، یہاں تک کہ اُسے شدید بھوک لگ گئی اوراس پرجُنونی کیفیت طاری ہوگئی ۔ میز بان نے سِتار (گٹار) لیا اوردوست سے کہا :  تم کون سی آواز سننا پسند کرو گے ؟ اس نے کہا :  گوشت بھننے کی آواز ۔  (احیاء علوم الدین ، ۳/۳۱۶)

(46)ٹرین ، بس میں صفائی کا خیال نہ رکھنا

        بعض لوگ اپنے گھر میں صفائی پسند ہوتے ہیں اور باہر بھی ، جبکہ کچھ لوگ گھر میں تو صفائی رکھنا پسند کرتے ہیں لیکن باہر گندگی پھیلانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ، بازار، بس ، ٹرین ان کی اس عادت کا نشانہ بنتے ہیں ، پھلوں کی باقیات، مونگ پھلی کے چھلکے ، استعمال شدہ ٹشو پیپر، بچا ہوا پانی پھینک کر دوسرے مسافروں کے لئے مصیبت کھڑی کردیتے ہیں ۔ ٹرین کا واش روم استعمال کریں گے تو اس انداز سے کہ ان کے بعد وہاں جانے والے کو گھن آئے گی۔ اللّٰہ    عَزَّوَجَلَّ   نظافت پسندی نصیب کرے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

 (47)گھریلو استعمال کی شے اس کی جگہ پر نہ رکھنا

        نیل کٹر(ناخن کاٹنے کا آلہ ) کنگھی ، جوتوں کی پالش ، ازاربند دانی ، بیرونی دروازے کی چابی ، چھری ، ماچس جیسی کئی گھریلو اشیاء مشترکہ استعمال میں آتی ہیں ، ان کو استعمال کرنے کے بعد مقررہ جگہ نہ رکھا جائے تو دوسروں کے لئے پریشانی کا باعث ہوتا ہے ۔

(48)قرض خواہ کو بلاوجہ ٹالنا

        قرض دار کو چاہئے کہ وعدے کے مطابق قرض لوٹا دے ، بغیر کسی مجبوری کے یہ کہنا : کل دوں گا ، پہلی تاریخ کو لے لینا ، شام کو لے لینا ، تھوڑی دیر تک آنا الغرض قرض خواہ کو بلاوجہ چکر لگوانا اچھی بات نہیں ۔

(حکایت : 50)

اب میری رقم بھی لوٹادو

        نگران شوریٰ حاجی محمد عمران عطاری سلمہ الغنی کا کچھ یوں بیان ہے کہ میں ایک شخص کے پاس بیٹھا تھا ، اس دوران اسے کسی کا فون آیا کہ میں فیملی سمیت حج پر جارہا ہوں ، فون وصول کرنے والے نے مبارک دینے کے بعد بڑی نرمی سے کچھ یوں کہا کہ یار آپ فیملی سمیت عمرے پر جاتے ہو، حج بھی کر آتے ہو، کافی مدت گزر گئی اب میری رقم (جوبڑی اماؤنٹAmount میں تھی) بھی لوٹا دو۔   

قرض کی ادائیگی میں اچھی نیت کا صلہ

         نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا :  جس نے قر ض لیا اور وہ اسے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے بلکہ اسے ادا کرنے کے معا ملہ میں حریص ہے پھر وہ اسے ادا کئے بغیر مرگیا تو اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  اس با ت پر قا در ہے کہ اس کے قرض خواہ کو اپنے پسندیدہ انعامات کے ذریعے راضی کر دے اور مرنے والے کی مغفرت فرمادے اور جس نے قر ض لیا اور وہ اسے ادا



Total Pages: 52

Go To