Book Name:Takleef Na Dijiye

اکثر ناگوار گزرتی ہے لیکن وہ اس کامروتاً اظہار نہیں کرپاتا ، کبھی وہ جی کڑا کرکے دل کی بات زبان پر بھی لے آتا ہے کہ آپ اپنے کام سے کام رکھئے یہ ہمارا ذاتی معاملہ ہے ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(41)ہجوم میں دھکے مارنا

        کسی بھی عوامی مقام مثلاًاسٹیشن ، حج ، عُرس اور دیگر مذہبی اجتماعات وغیرہ میں رش میں پھنس جانا پریشان کن ہوتا ہے لیکن کچھ لوگ اس پریشانی کے عالَم میں بھی لوگوں کو پریشان کرنے سے باز نہیں آتے اور دوسروں کو دھکے مارنا شروع کردیتے ہیں ، حالانکہ سب اپنی نارمل(Normal)  رفتار میں چلتے رہیں تو بھیڑ سے نکل ہی آتے ہیں لیکن ان بے صبروں اور جلدبازوں کی وجہ سے کئی مرتبہ بھگدڑ بھی مچ جاتی ہے جس سے لوگ زخمی ہوتے ہیں بلکہ بعض تو انتقال بھی کرجاتے ہیں ۔

(42) وال چاکنگ کرنا ، اشتہار لگانا

        کسی بھی کاروباری شے یا مذہبی اجتماع کی تشہیر کی اپنی اہمیت ہوتی ہے لیکن اس تشہیر کے لئے کسی کی دیوار پربلااجازت چاکنگ کرکے اسے بدنُما کردینے ، گوند سے کاغذی اشتہار چپکا کر دیوار خراب کردینے کو کوئی بھی مفتیٔ اسلام جائز نہیں کہے گا ۔ لیکن ہمارے معاشرے میں یہ کام بھی اپنا حق سمجھ کر کیا جاتا ہے ، اگر مکان یا فیکٹری کا مالک اپنی دیوار پر چاکنگ سے منع کرنے کی جراء ت کر لے تو اسے بُرا بھلا کہا جاتا ہے بلکہ بھیانک نتائج کی دھمکیاں دی جاتی ہیں ۔ہم میں سے ہر ایک کو اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہئے کہ کیا ہمیں یہ پسند ہوگا کہ کوئی ہماری دیوار پر چاکنگ کرجائے ، یقینا نہیں تو دوسروں کے لئے بھی یہی ذہن رکھئے اور اس کی حق تلفی سے بچئے۔

(حکایت : 45)

دیوار کی کیچڑ

        حضرتِ سیِّدُناامام فخرالدین رازی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللّٰہِ الھادیفرماتے ہیں :  امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم   اپنے ایک مَقروض مَجوسی (یعنی آتَش پرست) کے یہاں قَرضہ وُصُول کرنے کیلئے تشریف لے گئے۔ اِتِّفاق سے اُس کے مکان کے قریب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   کے جوتوں میں کیچڑ لگ گئی، کیچڑ چُھڑانے کیلئے جوتے کو جھاڑا تو کچھ کیچڑ اُڑ کر مَجوسی کی دیوار سے لگ گئی، پریشان ہوگئے کہ اب کیا کروں ! کیچڑ صاف کرتا ہوں تو دیوار کی مِٹّی بھی اُکھڑے گی اور صاف نہیں کرتا تو دیوار خراب ہورہی ہے۔ اِسی شَش وپَنج میں دروازے پر دستک دی،  مَجُوسی نے باہَر نکل کر جب امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم   کو دیکھا تو اُس نے قَرض کی ادائیگی کے سلسلے میں ٹالَم ٹَول شروع کردی۔ امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم   نے قَرض کامُطالَبہ کرنے کے بجائے دیوار پر کیچڑ لگ جانے کی بات بتا کر نہایت ہی لَجاجت (یعنی عاجزی)کے ساتھ مُعافی مانگتے ہوئے ارشاد فرمایا :  مجھے یہ بتائیے کہ آپ کی دیوار کس طرح صاف کروں ؟ امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم   کی حُقُوقُ الْعِباد کے مُعاملے میں بے قراری اور خوفِ خداوندی   عَزَّوَجَلَّ  دیکھ کر  مَجُوسیبے حدمُتَأَثِّر (مُ۔تَ ۔ اَث۔ ثِر )  ہُوا اور کچھ اس طرح بولا :  اے مسلمانوں کے امام! دیوار کی کیچڑ تو بعد میں بھی صاف ہوتی رہے گی، پہلے میرے دل کی کیچڑ صاف کرکے مجھے مسلمان بنا دیجئے۔ چُنانچِہ وہ مَجُوسی امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم   کا تقویٰ دیکھ کر حلقہ بگوشِ اسلام ہوگیا۔ (تفسیر کبیر ، ۱/۲۰۴)

جو بے مثال آپکا ہے تقوٰی، تو بے مثال آپکا ہے فتوٰی

                     ہیں علم و تقوٰی کے آپ سنگم، امامِ اعظم ابوحنیفہ    (وسائلِ بخشش، ص۵۷۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(43)قربانی کے جانورکے خون وغیرہ سے کسی کی دیوار وغیرہ خراب کرنا

        عیدِ قربان کے موقع پر جانور کی قربانی دینابڑی سعادت کی بات ہے لیکن اس دوران حقوق العباد کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے ، بعض لوگ کسی کے گھر کے قریب جانور ذبح کرتے ہیں اوربے احتیاطی کی وجہ سے جانور کے خون کے چھینٹے اس کی دیوار پر جاپڑتے ہیں ، جانور کے جسم سے نکلنے والی آلائشیں بھی بدبو اور گندگی پھیلاتی ہیں لیکن قربانی کرنے والااس پر شرمندہ ہوتا ہے اور نہ معذرت کرتا ہے ۔

(حکایت : 46)

جب پڑوسی کی دیوار پر خون کے چھینٹے پڑے

        شیخِ طریقت امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ایک مدنی مذاکرے میں ارشاد فرمایا  [1]؎ :  دو سال پہلے میرے بیٹے (حاجی عبیدرضا)کے یہاں قربانی کا بڑا جانور پڑوسی کے گھر کے پاس بندھا ہوا تھا ، اس کے ذبح کے وقت خون اُڑ کردیواروں پر پھیل گیا، میری توجہ گئی تو بڑی تشویش ہوئی اور میں نے کہا کہ اب تو ہم پر لازم ہے کہ اس سے ترکیب بنائیں کہ معاف بھی کردو اور رنگ بھی کردیتے ہیں ۔ پھر میں نے اپنے بیٹے کو ہی بولا کہ تم جا کر اس کے مالک سے ترکیب بنالو، چنانچہ میرے بیٹے نے رابطہ کیا تو اس نے کہہ دیا کہ کوئی بات نہیں ۔ (میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!) اگر کسی کی دیوار پر ہماری طرف سے نقصان ہوجائے تو اس کی تلافی ضروری ہے، اس سے معافی مانگئے، اگر وہ اس کا خرچہ نہیں لیتا رنگ چُونا نہیں لیتا، معاف کردیتا ہے تو اچھی بات ہے، اگر وہ مطالبہ کرتا ہے کہ تم پہلے جیسا ہی بنادو تو بنانا پڑے گا۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(44)نمازی یا سونے والے کے پاس بلند آواز سے باتیں کرنا

        بعض اسلامی بھائی کسی نمازی یا سونے والے کے پاس اتنی اونچی آواز میں باتیں کرنا شروع کردیتے ہیں جس کی وجہ سے اس کی نماز یا نیند میں خلل آتا ہے ، اس طرف عموماًہماری توجہ نہیں



     ضرورتاً جملوں کی نوک پلک سنواری گئی ہے۔ [1]



Total Pages: 52

Go To