Book Name:Takleef Na Dijiye

        ذراسوچئے کہ کون سا مسلمان اس بات کو گوارہ کرے گا کہ وہ اللّٰہ ورسول    عَزَّوَجَلَّ  وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو اِیذا دے اور جہنم کے عذاب کا مستحق قرار پائے!ہم قہرِقہّار اور غضبِ جبّار   عَزَّوَجَلَّ  سے اُسی کی پناہ مانگتے ہیں ۔

خدایا! کسی کانہ دل میں دکھاؤں

اماں تیرے اَبَدی عذابوں سے پاؤں

کس قدر بدترین جُرْم ہے!

        حضرتِ سیدنا فُضَیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا کہ کتّے اور سؤر کو بھی ناحق اِیذا (یعنی تکلیف)دینا حلال نہیں تو مومنین و مومنات کو اِیذا دینا کس قدر بدترین جُرْم ہے ۔

  (خزائن العرفان ، پ۲۲، الاحزاب، زیرِ آیت : ۵۸)

 (حکایت : 2)

قیامت کا خوف دلانے پر بے ہوش ہوگئے

        سیِّدُنا مِسْعَر بِن کِدامعلیہ رَحمَۃُ اللّٰہ السلام سے روایت ہے :  ایک روز ہم امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم  کے ساتھ کہیں سے گزر رہے تھے کہ بے خیالی میں امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کا مبارَک پاؤں ایک لڑکے کے پَیْر پر پڑ گیا، لڑکے کی چیخ نکل گئی اور اُس کے منہ سے بے ساختَہ نکلا :  یَا شَیْخُ أَ لَاتَخَافُ الْقِصَاصَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ! ’’یعنی جناب ! کیا آپ قِیامت کے روز لئے جانے والے انتِقام خُداوندی سے نہیں ڈرتے ؟ ‘‘  یہ سنتے ہی امام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم   پر لرزہ طاری ہوگیا اور غش کھا کر زمین پر تشریف لائے، جب کچھ دیر کے بعد ہوش میں آئے تو میں نے عرض کی کہ ایک لڑکے کی بات سے آپ اس قَدَر کیوں گھبرا گئے؟ فرمایا :  ’’کیا معلوم اُس کی آواز غیبی ہِدایت ہو۔‘‘    (اَ لْمَناقِب  لِلْمُوَفَّق، ۲ /۱۴۸)

عطاہو خوفِ خدا خدارا دو الفتِ مصطفٰے خدارا

         کروں عمل سنّتوں پہ ہر دم ، امامِ اعظم ابوحنیفہ    (وسائلِ بخشش، ص۵۷۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

دوسروں کو اِیذا دینے والو خبردار!

        شیخِ طریقت امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالے ’’اشکوں کی برسات‘‘ میں اس حکایت کو نَقْل کرنے کے بعد صفحہ 18پرلکھتے ہیں :

 میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ تصوُّر بھی نہیں کیا جاسکتا کہ امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم   جان بوجھ کر کسی پرظُلم کریں اور اُس کا پَیْر کُچل دیں ، بے خیالی میں سر زد ہونے والے فِعل پر بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  خوفِ خدا   عَزَّوَجَلَّ  کے سبب بے ہوش ہوگئے اور ایک ہم لوگ ہیں کہ جان بوجھ کر نہ جانے روزانہ کتنوں کو طرح طرح سے اِیذائیں دیتے ہوں گے ، مگر افسوس! ہمیں اِس بات کا اِحساس تک نہیں ہوتا کہ اگر  اللّٰہ    عَزَّوَجَلَّ  نے قِیامت کے روز ہم سے انتِقام لیا تو ہمارا کیا بنے گا! (اشکوں کی برسات، ص ۱۸)

بداخلاقی کی دو علامتیں

        حضرت سیِّدُناابو حازِم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں :  آدمی کے بدخُلْق ہونے کی علامت یہ ہے کہ وہ اپنے اہلِ خانہ کے پاس اس حالت میں جائے کہ وہ خوشی سے مُسکرا رہے ہوں اوراسے دیکھ کر خوف سے الگ الگ ہوجائیں اور ایک علامت یہ ہے کہ بلّی اس سے (ڈر کر)بھاگ جائے یا کتا خوف کی وجہ سے دیوار پھلانگ جائے۔  (تنبیہ المغترین، ص۱۹۹)

خوش خلقی کے درجات

             مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان فرماتے ہیں :  خوش خُلْقی کا اَدنیٰ درجہ یہ ہے کہ کسی کو جانی ، مالی ، عزت کی اِیذا نہ دے ، اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ برائی کا بدلہ بھلائی سے کرے ، یہ بہت اعلیٰ چیز ہے ، جسے خدا تعالیٰ نصیب کرے ۔  (مراۃ المناجیح ، ۶/ ۴۶۱)   

بدی را بدی سَہل باشَد جَزا

اگر مَردی اَحسِن اِلٰی مَن اَسا

(یعنی بدی کا بدلہ بدی سے دینا تو آسان ہے اگر تو مر د ہے تو برائی کرنے والے کے ساتھ بھی بھلائی کر)(غیبت کی تباہ کاریاں ، ص۳۴۲)

سزا کا مستحق ہے

        صَدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ  علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویبہارِشریعت جلد2صفحہ 407پرلکھتے ہیں :  جو شخص مسلمان کو کسی فعل یاقول سے اِیذا پہنچائے اگرچہ آنکھ یاہاتھ کے اِشارے سے وہ مستحقِ تعزیر ہے ۔   [1]؎(الدر المختار ، کتاب الحدود ، باب التعزیر ، ۶/ ۱۰۶)

بُرے خاتِمے کے چار اسباب

        شرحُ الصُّدور میں ہے، بعض عُلَماء ِ کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السّلام فرماتے ہیں :  بُرے خاتمے کے چار اَسباب ہیں : (۱)نماز میں سُستی (۲) شراب نوشی (۳)والدین کی نافرمانی(۴) مسلمانوں کو



1     تَعْزِیر:کسی گناہ پر بغرضِ تادِیب (اَدَب سکھانے کے لئے)جو سزا دی جاتی ہے اس کو تعزیرکہتے ہیں ،شارِع نے اس کے لئے کوئی مقدار معین نہیں کی ہے بلکہ اس کو قاضی کی رائے پر چھوڑا ہے جیسا موقع ہو اس کے مطابق عمل کرے۔ تعزیر کا اختیارصرف بادشاہ اسلام ہی کو نہیں بلکہ شوہر بی بی کو، آقا غلام کو ،ماں باپ اپنی اولاد کو، اُستاذشاگرد کو تعزیر کرسکتا ہے۔(بہارِ شریعت ،2/403 بحوالہ  الدر المختار ، کتاب الحدود ، باب التعزیر ، ۶/ ۱۰۶) اس کے تفصیلی مسائل جاننے کے لئے بہارِ شریعت جلد2کے حصہ 9 صفحہ 403کا مطالعہ کیجئے۔۔



Total Pages: 52

Go To