Book Name:Takleef Na Dijiye

(حکایت : 34)

پانچ دینار واپس کردئیے

        حضر ت محمد بن مُنکَدِر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِجلیل القدر بزرگ تھے، دکانداری کرتے تھے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے پاس کئی قسم کے کپڑے ہوتے تھے کسی کی قیمت دس دینارتو کسی کی پانچ دینار۔آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی عدم موجودگی میں آپ  کے شاگرد نے پانچ دینار قیمت والا کپڑا دس دینار میں ایک اَعرابی (یعنی دیہاتی)کو فروخت کردیا۔  جب آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِتشریف لائے اور اس بات کا پتا چلا توسارا دن اَعرابی کو تلاش کرتے رہے۔ آخر جب وہ ملا تو فرمایا :  وہ کپڑا پانچ دینار سے زیادہ قیمت کا نہیں تھا۔ اعرابی نے کہا :  ہوسکتا ہے کہ میں نے بخوشی وہ کپڑا دس دینار سے خریدا ہو۔ آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا :  جو چیزمیں اپنے لیے پسند نہیں کرتا دوسرے کسی مسلمان کے لئے بھی پسند نہیں کرتااس لئے یا تو بیع فَسْخ (یعنی ختم) کرلو یا پانچ دینار واپس لے لو یا میرے ساتھ آؤتا کہ دس دینار کی قیمت کا کپڑا دے دوں ۔ اَعرابی نے پانچ دینار واپس لے لئے پھر کسی سے دریافت کیا : یہ کون شخص ہے؟ لوگوں نے کہا :  یہ حضرت محمد بن مُنکَدِر( رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ)ہیں تو کہنے لگا : سُبْحٰن اﷲ! یہ وہ ہستی ہیں کہ جب بارش نہیں ہوتی توہم میدان میں جا کر ان کا نام لیتے ہیں تو پانی برسنے لگتا ہے۔(کیمیائے سعادت ، رکن دوم در معاملات ، اصل سوم ، ۱/ ۳۳۳)   

(17)بلااجازت کسی کی چیز استعمال نہ کریں

        کسی کا قلم، تولیہ، جوتا، کنگھا، لحاف ، چادر، تیل ، سرمہ اور موبائل وغیرہ بلااجازت استعمال کرلینا بھی ہمارے یہاں عام ہے ۔بظاہر معمولی نظر آنے والی شے بھی اگربِغیر اجازت استعمال کر ڈالی اورقِیامت کے روز پکڑہوئی تو کیا بنے گا؟ چُنانچِہ حضرتِ علامہ عبدالوہّاب شَعرانی قُدِّسَ سرُّہُ النُّورانی ’’  تَنْبِیْہُ الْمُغْتَرّین‘‘میں نقل کرتے ہیں : مشہور تابِعی بُزُرگ حضرتِ سیِّدُنا وَہب بن مُنَبِّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں :  ایک اسرائیلی شخص نے اپنے پچھلے تمام گناہوں سے توبہ کی، ستَّر سال تک لگاتار اس طرح عبادت کرتا رہا کہ دن کو روزہ رکھتا اور رات کو جاگ کر عبادت کرتا، نہ کوئی عمدہ غذا کھاتا نہ کسی سائے کے نیچے آرام کرتا۔ اس کے انتِقال کے بعدکسی نے خواب میں دیکھ کر پوچھا : ما فَعلَ اللّٰہُ بِکَ؟ یعنی  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا مُعامَلہ فرمایا؟ جواب دیا :  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے میرا حساب لیا، پھر سارے گناہ بخش دیئے مگر ایک لکڑی جس سے میں نے اس کے مالک کی اجازت کے بغیر دانتوں میں خِلال کرلیا تھا (اور یہ معاملہ حقوق العباد کا تھا)اوروہ مُعاف کروانا رہ گیا تھا اسکی وجہ سے میں اب تک جنَّت سے روک دیا گیاہوں ۔(تنبیہ المغترین ، الباب الاول ، کثرۃ الخوف من اللہ ۔۔۔الخ ، ص ۵۱)

لاٹھی بھی بلااجازت نہ لے

        رسولِ نذیر ، سِراجِ مُنیرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا : کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کا کوئی مال ناحق طور پر لے ، اس لئے کہ اللہ تَعَالٰی نے مسلمان کا مال مسلمان پر حرام کیا ہے ، اوراس کو بھی حرام قرار دیا ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کی لا ٹھی بھی اس کی خوش دِلی کے بغیر لے ۔(مجمع الزوائد، کتاب البیوع، باب الغصب۔۔۔الخ، ۴/۳۰۴ : رقم : ۶۸۵۹۔۶۸۶۰)

خوش دلی کے بغیر دوسرے کی چیز حلال نہیں

        رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : لَایَحِلُّ مَالُ امْرِیٍٔ مُّسْلِمٍ اِلَّا بِطِیْبِ نَفْسٍ مِّنْہُ ترجمہ : کسی بھی مسلمان کا کوئی مال اس کی خوش دلی کے بغیر دوسرے کے لیے حلال نہیں ۔(مسند احمد، مسند البصریین، حدیث عم۔۔۔الخ، ۷/۳۷۶، حدیث : ۲۰۷۲۰)

             مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : یہ حدیث بہت سے اَحکام کا ماخذ ہے۔مالی جرمانے کسی کی چوری، کسی کا مال لوٹ لینا، کسی کا مال جبرًا نیلام کردینا یہ سب حرام ہے۔خیال رہے کہ دیوالیہ کا مال درحقیقت اس کے قرض خواہوں کا مال ہے اس لیے حاکم دیوالیہ کی اجازت کے بغیر نیلام کردیتا ہے۔غرضکہ بعض صورتیں اس سے مستثنٰی ہیں ۔ لَاتَظْلِمُوْا کے معنی ہیں کہ غیر پر ظلم نہ کرو یا اپنے پر ظلم نہ کرو۔(مراٰۃ المناجیح، ۴/۳۱۸)

مت گناہوں پہ ہو بھائی بے باک تُو       بھول مت یہ حقیقت کہ ہے خاک تُو

          تھام لے دامنِ شاہِ لولاک تُو          سچّی تَوبہ سے ہو جائے گا پاک تُو    (وسائلِ بخشش، ص۶۵۶)   

(حکایت : 35)

 درخت کی چند پَتِّیاں

        ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ میں ذُوالْحِجَّۃِ الْحَرام ۱۴۲۹ھ کو  امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بارگاہ میں حاضر تھا، آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے بڑے شہزادے جانشینِ عطّار حاجی ابو اُسَیدعُبید رضا عطاری المدنی مدظلہ العالی کے گھر تشریف لائے ہوئے تھے۔ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی نظر اپنی کم سِن نواسیوں پر پڑی کہ انہوں نے گھر کی کھڑکی کے قریب لگے درخت کی چند پتیاں توڑ لی ہیں تو تشویش کے عالَم میں مَدَنی منیوں کو احساس دلایا کہ بچو! یہ درخت پڑوسی کاہے اور آپ لوگوں نے کسی دوسرے کے درخت کے پتے توڑلئے ایسا نہیں کرنا چاہیے پھر آپ نے فرمایا :  رضا(یعنی ابو اُسید حاجی عبید رضا ) سے کہتا ہوں کہ وہ برابر مکان والوں سے جا کر اس سلسلے میں معافی مانگ لیں ۔

کسی کی دیوار کا سایہ لے لینا کیسا؟

         مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان فرماتے ہیں : جو چیز استعمال سے گھٹے نہیں وہ مالک کی بغیر اجازت استعمال کی جاسکتی ہے جیسے کسی کے چراغ کی روشنی میں مطالعہ کرلینا، کسی کی دیوار سے سایہ لے لینا ۔ (مراٰۃ المناجیح ، ۸/ ۱۷۷)

وقف کی چیزوں کا استعمال

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! وَقْف کی اشیاء کا بلااجازتِ شرعی استعمال بھی جائز نہیں ، اس میں زیادہ احتیاط دَرکار ہے لیکن افسوس!وقف کی چیزوں کو مالِ مفت  سمجھ کربے رحمی سے استعمال کیا جاتا ہے ، ہمارے اکابرین اس حوالے سے کتنی احتیاط کرتے تھے اس حکایت سے اندازہ لگائیں ، چنانچہ 

 



Total Pages: 52

Go To