Book Name:Takleef Na Dijiye

ہے زیادہ کی نہیں اور اگر زیادہ کی کر بھی گیا تو جاری نہ ہوگی، یہ بھی معلوم ہواکہ تہائی سے بھی کم کی وصیت کرنا بہتر ہے کہ حضورِ انور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  )نے تہائی کو بھی زیادہ فرمایا۔یہ بھی معلوم ہورہا ہے کہ اپنے عزیزوں سے سلوک کرنا غیروں سے سلوک کرنے سے افضل ہے کہ وصیت میں غیروں سے سلوک ہے مِیراث میں اپنوں سے سلوک۔(حدیثِ پاک کے آخری جملے کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : )یعنی تم وصیت کیوں کرتے ہو ؟حصولِ ثواب کے لیے، اور میراث جو وارثوں کو پہنچے گی اگر اس میں تم رضائے الٰہی (کی) نیت کرلو کہ اپنے عزیزوں کو اپنا مال پہنچنا رب تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ ہے تب بھی تم کو ثواب ملے گا بلکہ زیادہ ملے گا، لہٰذا وصیت تہائی سے بھی کم کی کرو۔(مراٰۃ المناجیح، ۴/۳۸۲)

        بہارِ شریعت میں ہے : شریعت نے متوفّٰی (یعنی مرنے والے) کو ورثاء کی موجودگی میں اپنے تمام مال کی وصیت کرنے کی اجازت نہیں دی کہ اس سے وارثوں کو ضَرر (یعنی نقصان)پہنچتا ہے، اور ان کا حق ضائع ہوتا ہے۔(بہار شریعت، ۳/۹۳۰)

ساٹھ سال عبادت کے باوجود دوزخ کا فیصلہ

        سردارِمکّۂ مکرّمہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  مردو عورت ساٹھ سال تک اللّٰہ    عَزَّوَجَلَّ  کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے رہیں پھر ان کا وقت موت قریب آجائے اور وصیّت میں ضرر پہنچائیں توان کے لئے دوزخ کی آگ واجب ہوتی ہے۔(ترمذی، کتاب الوصایا، باب ما جاء فی الضرارفی الوصیۃ، ۴/۴۱، حدیث :  ۲۱۲۴)

         مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : یہاں ساٹھ سال سے مراد بڑی مدت ہے خواہ اس سے زیادہ ہو یا کم۔ موت آنے سے مراد موت کے علامات نمودار ہونا ہیں ورنہ خاص موت آجانے پر بولنا مشکل ہوجاتا ہے، وصیت کرنا یا وصیت میں نقصان پہنچانا کیسا؟(مفتی صاحب مزید لکھتے ہیں : ) وصیت میں نقصان پہنچانے کی چند صورتیں ہیں : ایک یہ کہ اپنے وارثوں کو نقصان پہنچانے کی نیت سے وصیت کر جائے کہ تہائی مال وصیت میں نکل جائے تو وارثوں کے حصے کم ہوجائیں ۔دوسرے یہ کہ نالائق اور برے لوگوں کو وصیت کرجائے، اپنا تہائی مال کسی بدمعاش کو دے جائے تاکہ وہ وارثوں کے ساتھ رہ کر انہیں تنگ کرے۔تیسرے یہ کہ پہلے وصیت کی تھی پھر مرتے وقت وصیت سے رجوع کرے یا اس میں کچھ ترمیم کرے تاکہ وصیت والے کو نقصان ہو۔’’ان کے لئے دوزخ کی آگ واجب ہوتی ہے‘‘کے تحت مفتی صاحب لکھتے ہیں : یعنی وہ دوزخ کا مستحق ہوجاتا ہے، رہا دوزخ میں جانا یہ رب تعالیٰ کی مرضی پر ہے یہاں وجوب اِستحقاق کا ہے نہ کہ دُخول کا۔(مرقات)(مراٰۃ المناجیح، ۴/۳۸۴)

مجرموں کے واسطے دوزخ بھی شُعلہ بار ہے

                     ہر گنہ قصداً کیا ہے اسکا بھی اقرار ہے   (وسائلِ بخشش، ص۴۷۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(13)اولاد سے یکساں سلوک نہ رکھنا

         جیتے جی بھی اولاد کے درمیان عد ل و انصاف کرنا چاہیے، کچھ کو دینا اور کچھ کو محروم رکھنا نہ صرف باعثِ تکلیف بن سکتا ہے بلکہ اس کے سبب بغض و کینہ اور غیبت و تہمت وغیرہ گناہوں کے دروازے کھلنے کا بھی اندیشہ ہے۔ مُعلمِ اخلاقصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ہمیں اولاد میں سے ہر ایک کے ساتھ مُساوی سلوک کرنے کی تاکید فرمائی ہے چنانچہ حضرت سیدنا نعمان بن بشیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ما کا بیان ہے کہ میرے والد مجھے اٹھاکر بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  !آپ اس بات پر گواہ ہوجائیں کہ میں نے اپنے بیٹے نعمان کو اپنے مال میں سے فلاں فلاں چیز دی۔ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دریافت فرمایا : کیا تم نے اپنے ہر بیٹے کو اتنا دیا ہے جتنا نعمان کو دیا ہے؟ میرے والد نے عرض کی :  نہیں ۔ ارشاد فرمایا : پھر اس پر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بناؤ۔مزید اِستفسار فرمایا : کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ تمہارے ساتھ نیکی کرنے میں تمہاری سب اولاد برابر ہو؟میرے والد نے عرض کی : کیوں نہیں !ارشاد فرمایا :  تو پھر ایسا مت کرو۔(مسلم، کتاب الہبات، باب کراہۃ تفضیل۔۔۔الخ، ص۸۷۹، حدیث : ۱۶۲۳)

         حضرتِ سیدنا ابوعیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی فرماتے ہیں :  بعض اہلِ علم کا عمل اس حدیثِ پاک پر ہے اور وہ (تحفہ دینے میں )اولاد کے درمیان برابری کو پسند کرتے ہیں یہاں تک کہ ایک بزرگ نے فرمایا : اولاد کے درمیان برابری کرے یہاں تک کہ بوسہ دینے میں بھی۔(ترمذی، کتاب الاحکام، باب ما جاء فی النحل۔۔۔الخ، ۳/۸۲، حدیث : ۱۳۷۲)

             مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : اس سے معلوم ہوا کہ اولاد کو برابر عطیے دے، بعض کو بعض پر ترجیح نہ دے کہ کسی کو کچھ نہ دے یا کسی کو زیادہ دے۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ زندگی میں لڑکی لڑکے کو برابر دے، لڑکے کا دوگنا حصہ مِیراث میں ہے نہ کہ عطیہ میں ، بعض نے فرمایا کہ زندگی میں بھی لڑکے کو دوگنا دے اور لڑکی کو ایک حصہ۔ (درمختار، شامی، وغیرہ) بعض بزرگ لڑکیوں کو دوگنا دیتے ہیں کہتے ہیں کہ لڑکیاں ماں باپ کے گھر مہمان ہیں ، لڑکے مقیم ۔ ( مراٰۃ المناجیح، ۴/۳۵۳)

(حکایت : 30)

میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا

        بعض روایات میں ہے کہ حضرت سیدنا بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے بیٹے نعمان کو ایک غلام دیا تو ان کی زوجہ حضرت سیدتنا عمرہ بنت رواحہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ انے فرمایا کہ میں اس پر راضی نہیں جب تک کہ آپ اس بات پر سرکارِ مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو گواہ نہ بنالیں ۔جب وہ اس مقصد کے لئے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تو حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اِستفسار فرمایا :  کیا تم نے اپنے سارے بچوں کو اسی طرح دیا ہے؟ عرض کی :  نہیں ۔ فرمایا :  اﷲسے ڈرو اور اپنی اولاد میں انصاف کرو، نیز ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں ظلم پر گواہ نہیں ہوتا۔اس پر حضرت سیدنا بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے تحفے سے رجوع کرلیا۔(مشکوٰۃ، کتاب البیوع، باب :  ۱۷، ۱/۵۵۶، حدیث : ۳۰۱۹)

            مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان تحریرفرماتے ہیں : اس حدیث کی بنا پر علماء فرماتے ہیں کہ باپ اپنی زندگی میں بیٹا بیٹی ساری اولاد میں برابری کرے، بیٹے کے لیے دوگنا حصہ بعد وفات ہے، حتی کہ پیار محبت بلکہ چومنے میں بھی برابری کرے۔ (مرقات) اگرچہ قدرتی طور پر چھوٹے بچے سے زیادہ محبت ہوتی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو فاطمہ زہرا



Total Pages: 52

Go To