Book Name:Takleef Na Dijiye

گزرتی ہیں ، اس لئے وہاں بیٹھنا خطرناک بدنظری کا اندیشہ ہے ۔مزید فرماتے ہیں :  راستوں پر بیٹھ کر یہ پانچ نیکیاں یا ان میں سے جس قدر بن پڑیں کیا کرو !نگاہیں نیچی رکھو تاکہ اجنبی عورتوں پر نہ پڑیں ، راستہ سے کانٹا ، اینٹ ، پتھر الگ کردیا کرو تاکہ کسی راہ گیر کو نہ چبھے نہ ٹھوکر لگے ، جو راستہ گزرنے والا تمہیں سلام کرتا ہوا گزرے اس کا جواب دو ، اگر تم راستہ میں کسی کو کوئی برا کام کرتے دیکھو تو اس سے روکو ، اس کی عوض اسے اچھے کام کرنے کا مشورہ دو ، اس صورت میں تمہارا وہاں بیٹھنا بھی عبادت ہے ۔سُبْحٰنَ اللّٰہ ! کیمیا پیتل ، تانبہ کو سونا کردیتی ہے ، حضور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) کی تعلیم گناہوں کو ثواب بنادیتی ہے ۔ (مراٰۃ المناجیح ، ۶/ ۳۲۲)   

(حکایت : 28)

کھیتی کے مالک کی شکایت

         ایک شخص نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز  کی بارگاہ میں حاضِر ہو کر شکایت کی :  میں نے کھیتی کاشت کی تھی کہ اہلِ شام کا لشکر وہاں سے گزرا  اور اِسے خراب کردیا ۔ آپ نے اس کے بدلے اُسے دس ہزار دِرہم دیئے ۔ (سیرت ابن جوزی، ص۹۷)

        شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اسی نوعیت کی ایک حکایت کے بعد لکھتے ہیں :  اُن لوگوں کو دَرس حاصِل کرنا چاہئے جو لوگوں کی دیواروں اور سیڑھیوں کے کونوں وغیرہ کو پِیک(یعنی پان کے رنگین تھوک) کی پچکاریوں سے بد نُما کردیتے ہیں ، اِسی طرح بِغیر اِجازتِ مالِک مکانوں اور دُکانوں کی دیواروں اور دروازوں نیز سائن بورڈز اور گاڑیوں ، بسوں وغیرہ کے باہَر یا اندراِسٹیکرز اور پوسٹر لگانے والے، دیواروں پر مالِک کی اِجازت کے بِغیر’’ چاکنگ‘‘ کرنے والے بھی دَرس حاصِل کریں کہ اس طرح کرنے سے لوگوں کے حُقُوق پامال ہوتے ہیں ۔ بے شک حُقُوقُ اللّٰہ ہی عظیم تر ہیں مگرتوبہ کے تعلُّق سے حُقُوقُ الْعِباد کا  مُعامَلہحُقُوقُ اللّٰہ سے  سَخت تر ہے ، دنیا میں جس کسی کا حق ضائِع کیا ہواگر اُس سے مُعافی تَلافی کی ترکیب دنیا ہی میں نہ بنی ہو گی تو قِیامت کے روز اُس صاحِبِ حق کو نیکیاں دینی پڑیں گی اور اگر اس طرح بھی حق ادا نہ ہوا تو اُس کے گناہ اپنے سر لینے ہوں گے۔ مَثَلاًجس نے بِلاعُذرِ شَرعی کسی کو جھاڑا ہوگا، گُھور کر یا کسی بھی طرح ڈرایا ہوگا، دل دُکھایا ہوگا ، کسی کو مارا ہوگا، کسی کے پیسے دبا لئے ہوں گے، پِیک ، پوسٹر یا چاکنگ وغیرہ کے ذَرِیعے کسی کی دیوار خراب کی ہوگی، کسی کی دکان یا مکان کے آگے جگہ گھیر کر اُس کیلئے ناحق پریشانی کا سامان کیا ہوگا، کسی کی عمارت سے قریب غیر واجِبی طور پر زبردستی اپنی عمارت بنا کر اُس کی ہوا اور روشنی میں رُکاوٹ کھڑی کی ہوگی، کسی کی اسکوٹر یا کار وغیرہ کو اپنی گاڑی سے ڈَینٹ ڈال کر یا خَراش لگا کر راہِ فِرار اِختیار کی ہوگی، یابھاگ نہ سکنے کی صورت میں اپنا قُصُور ہونے کے باوُجُود اپنی چَرب زَبانی یا رُعب داب سے اُسی کو مُجرِم باور کرا کر اُس کی حق تلفی کی ہوگی، عیدِ قرباں وغیرہ کے موقع پر صاحِبِ مکان کی رِضا مندی کے بِغیر اُس کے گھر کے آگے جانور باندھ کر یا ذَبح کر کے اُس کی دیوار یا گھر سے نکلنے کا رَستہ گوبر ، خون اور کیچڑ وغیرہ سے آلودہ کر کے اُس کیلئے اِیذا کا سامان کیا ہو گا، کسی کے مکان یا دکان کے پاس یا اس کی چھت یا پلاٹ پر پریشان کُن گند کچرا پھینکا ہو گا، اَلغَرَض لوگوں کے حُقُوق پامال کرنے والا اگر چِہ نَمازیں ، حج ، عمرے ، خیراتیں اور بڑی بڑی نیکیاں لیکر گیا ہوگا، مگربروزِ قِیامت اُس کی عِبادتیں وہ لوگ لے جائیں گے جن کو ناحق نقصان پہنچایا ہوگا یا بِلااِجازتِ شَرعی کسی طرح سے ان کی دل آزاری کا باعث بنا ہو گا۔نیکیاں دینے کے باوُجُودحُقُوق باقی رہنے کی صورت میں اُن کے گناہ اِس ’’نیک نَمازی ‘‘ کے سر تھوپ دیئے جائیں گے اوریوں دوسروں کی حق تلفی کرنے کے سبب حاجی، نَمازی، روزہ دار اور تہجُّد گزار ہونے کے باوُجُودوہ جہنَّم میں جا پڑے گا ۔ وَالْعِیاذ بِاللّٰہ تعالٰی۔ (اور اللہ  عَزَّوَجَلَّ کی پناہ)ہاں  اللہ عَزَّ وَجَلَّ جس کے لئے چاہے گا محض اپنے فضل و کرم سے صُلح کرائے گا ۔ مزید تفصیلات کیلئے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہکا مطبوعہ رسالہ  ظُلم کا اَنجام‘مُلاحظہ فرما لیجئے۔ (ماخوذ از’’ اشکوں کی برسات‘‘ ، ص۱۶)

نفس یہ کیا ظلم ہے جب دیکھو تازہ جرم ہے

     ناتواں کے سر پر اتنا بوجھ بھاری واہ واہ    (حدائقِ بخشش، ص۱۳۴)

(حکایت : 29)

رَسی کھلوادی

       امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ۱۲ ذوالحجۃ الحرام۱۴۳۰ھ کو اپنے بڑے شہزادے الحاج ابو اُسید عبیدرضا عطاری المدنی  مدظلہ العالی کے یہاں قیام پذیر تھے، اونٹ کی قربانی ہونے کا وقت قریب تھا، کسی نے باہر گلی میں آنے جانے کی  دشواری کے باعث رسی سے گلی کا راستہ کچھ دیر کے لیے روک دیا۔ امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فوراً ’’ مدنی پیڈ‘‘ پر کچھ یوں تحریر فرمایا : ’’ راستہ بند کردیا گیا ہے، حقوقِ عامہ کا لحاظ رہے اس لئے رسی  کھلوادی جائے ۔‘‘ تحریر نیچے موجود متعلقہ اسلامی بھائیوں تک پہنچا دی گئی اور یوں فوری طور پر راستہ کھلوادیا گیا۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(12)ورثاء کو تکلیف نہ دیجئے

         اپنا سارا مال کسی ایک یا چند وارثوں کو دے کر بلا وجہِ شرعی بقیہ کو محروم کردینا ممنوع ہے ، چنانچہ حضرت سیدنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے : فتح  ِ مکہ کے سال میں ا یسا بیمار ہوا کہ موت کے قریب ہوگیا۔سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میری عیادت کے لئے تشریف لائے تومیں نے عرض کی : یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  !میرے پاس مال بہت ہے اور میری بیٹی کے سوا کوئی وارث نہیں ، کیا میں اپنے کل مال کی وصیت کرجاؤں ؟ سرکارِ دو عالم، نُورِ مجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  نہیں ۔میں نے عرض کی : دو تہائی مال کی، فرمایا : نہیں ۔ میں نے عرض کی :  آدھے کی ؟فرمایا نہیں ، میں نے عرض کی :  تہائی کی؟فرمایا :  تہائی کی کرو اور تہائی بھی زیادہ ہے۔ تم اپنے وارثوں کو غنی بنا کر چھوڑو تویہ اس سے اچھا ہے کہ تم انہیں فقیر کرکے جاؤ کہ لوگوں سے مانگتے پھریں ۔ تم کوئی خرچہ ایسا نہ کرو گے جس سے اﷲکی رضا چاہو مگر تمہیں اس پر ثواب دیا جائے گا حتی کہ اس نوالے پر بھی جو تم اپنی بیوی کو کھلاؤ۔  (مشکوٰۃ، کتاب الفرائض، باب الوصایا، ۱/۵۶۶، حدیث : ۳۰۷۱)

        مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :  اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مرنے والا مرتے وقت صرف تہائی کی وصیت کرسکتا



Total Pages: 52

Go To