Book Name:Takleef Na Dijiye

(حکایت : 15)

(۱)انہیں مریض کی عیادت کرنا سکھا

       منقول ہے کہ بعض لوگ مر ض الموت میں حضرتِ سیِّدُناسَری سقطی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی کی عیادت کو گئے اورکافی دیر وہاں بیٹھے رہے ، وہ پیٹ کی تکلیف میں مبتلا تھے ، لوگوں نے ان سے کہا :  آپ ہمارے لئے دعا فرمائیے تاکہ ہم واپس جائیں ، حضرتِ سیِّدُناسَری سقطی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوینے کہا : اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ !انہیں مریض کی عیادت کرناسکھا ۔

(حکایت : 16)

(۲)دروازہ بند کردو

        ایک شخص مریض کی عیاد ت کو گیا اور کافی دیر بیٹھا رہاتو مریض نے کہا :  لوگوں کی بھیڑ کی وجہ سے ہمیں تکلیف ہوئی ہے ، وہ آدمی کہنے لگا ، میں اٹھ کر دروازہ بند کر دوں ؟ مریض نے کہا :  ہاں !لیکن باہر سے ۔   

(حکایت : 17)

(۳)تمہیں تکلیف کیا ہے؟

        ایک شخص کسی بیمار کے پاس بہت دیر بیٹھا پھر بولا کہ تمہیں تکلیف کیا ہے ؟ بیمار نے کہا :  تمہارے بیٹھنے کی۔

(حکایت : 18)

(۴)مریض کے پاس زیادہ دیر مت بیٹھو

        چندلوگ ایک مریض کے پاس آئے اور کافی دیر تک بیٹھے رہے اور کہنے لگے :  ہمیں وصیت کیجئے !مریض نے کہا :  میں تمہیں اس بات کی وصیت کرتا ہوں کہ جب تم مریض کی عیادت کرنے جاؤ تو اس کے پاس زیادہ دیر مت بیٹھو۔(مرقاۃ المفاتیح، کتاب الجنائز، ۴/۶۰، تحت الحدیث : ۱۵۹۱)

’’چل مدینہ‘‘ کے سات حُرُوف کی نسبت سے عِیادت کے 7مَدَنی پھول

         ٭ مریض کی عِیادت کرنا سنّت ہے ٭ اگر معلوم ہے کہعِیادت کوجائے گا تو اس بیمار پر گِراں (یعنی ناگوار) گزرے گا ایسی حالت میں عِیادت نہ کرے ٭ عِیادت کو جائے اور مرض کی سختی دیکھے تو مریض کے سامنے یہ ظاہر نہ کرے کہ تمہاری حالت خراب ہے اور نہ سر ہلائے جس سے حالت کا خراب ہونا سمجھا جاتا ہی٭  اس کے سامنے ایسی باتیں کرنی چاہئیں جو اس کے دل کو بھلی معلوم ہوں ٭ اس کی مزاج پُرسی کرے ٭  اس کے سر پر ہاتھ نہ رکھے مگر جبکہ وہ خود اس کی خواہش کرے ٭  فاسق کیعِیادت بھی جائز ہے کیونکہعیادتحُقوقِ اسلام سے ہے اور فاسِق بھی مسلم ہے۔(بہارِ شریعت، ۳/۵۰۵)

تو سارے مریضوں کو اللّٰہ شفا دیدے

اچھا ہے فقط وہ جو بیمارِ مدینہ ہے

بے وقوفوں کا عیادت کرنا

        حضرتِ سیِّدُنا شعبی علیہ رحمۃ اللّٰہِ القوی فرماتے ہیں :  بے وقوف لوگوں کا مریض کی عیادت کرنا اس کے گھر والوں پر اس کے مرض سے بھی زیادہ بھاری ہوتا ہے ، کیونکہ وہ بے وقت آتے ہیں اور دیر تک بیٹھے رہتے ہیں ۔  (حلیۃ الاولیاء ، عامر بن شراحیل الشعبی ، ۴/ ۳۴۸ ، رقم :  ۵۸۱۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(7)بلا اجازت کسی کا خط دیکھنا

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بلااجازت کسی کا ایس ایم ایس(sms) پڑھ لینا، واٹس اپ (whatsapp) پیغام سن یا دیکھ لینا یاکسی کا خط یا ای میل (برقی خط)، یا ذاتی ڈائری پڑھ لینا بعضوں کے نزدیک کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے، ’’مجھ سے کیا پردہ‘‘، ’’ہماری آپس میں بے تکلفی ہے‘‘، ’’ہم تو گہرے دوست ہیں ‘‘اس قسم کے جملے بول کر دل کو منا لیا جاتا ہے ، یہ ان کی غلط فہمی بھی ہوسکتی ہے کیونکہ شاید ہی کوئی ان کی اس حرکت کو گوارہ کرتا ہو ، زبان سے اگرچہ وہ کچھ نہ کہے لیکن اس کا دل غالباًصدمے میں مبتلا ہوگا، سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا : جس نے اپنے بھائی کا خط بغیر اس کی اجازت کے دیکھا اس نے جہنم میں دیکھا۔(ابوداؤد، کتاب الوتر، باب الدعا، ۲/۱۱۱، حدیث : ۱۴۸۵)

        شارحِ بخاری حضرت علامہ مولانامحمود بن احمد بدرالدین عینی حنفیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی اس حدیثِ پاک کے تحت تحریر فرماتے ہیں : بعض اہلِ علم کا قول ہے کہ اس حدیث میں وہ خط مراد ہے جس میں کسی کا راز یا امانت موجود ہو اور صاحبِ راز اس پر کسی کے مُطّلِع ہونے کو ناپسند کرتا ہو، علمِ دین پر مشتمل کتاب یا خط مراد نہیں کیونکہ اسے دیکھنے سے منع کرنا اور چھپانا جائز نہیں ہے۔جبکہ ایک قول کے مطابق یہ فرمان ہر کتاب(یعنی لکھی ہوئی چیز) کو عام ہے کیونکہ چیز کا مالک اس کا زیادہ حقدار ہوتا ہے۔ (شرح ابوداوٗد للعینی، ۵/۴۰۰، تحت الحدیث : ۱۴۵۵)

        ’’اس نے جہنم میں دیکھا‘‘کے تحت  علامہ ابن اثیر جزریعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویلکھتے ہیں : یہ ایک مثال ہے یعنی جس طرح انسان آگ سے بچتا ہے اسی طرح اس فعل سے بچنا چاہیے۔ایک قول کے مطابق اس کا معنی یہ ہے کہ وہ ایسی چیز کو دیکھتا ہے جو اس پر دوزخ کی آگ لازم کرتی ہے۔ایک اِحتمال اس معنی کا بھی ہے کہ ایسا کرنے والے کی آنکھوں کو سزا دی جائے گی کیونکہ ان کے ذریعے جرم کا اِرتکاب کیا گیا جیسا کہ اگر کسی کی ناپسندیدگی کے باوجود اس کی گفتگو سنی جائے تو سننے والے کے کانوں کو سزا دی جائے گی۔  (النہایۃ فی غریب الحدیث والاثر، ۴/۱۲۸)

        اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان   عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کسی کا خط بلااجازت دیکھنے کے بارے میں کئے گئے ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں : بکرکواصلاً



Total Pages: 52

Go To