Book Name:Takleef Na Dijiye

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(5) مل کر کھانے میں تکلیف نہ دیجئے

        بہت مرتبہ ہمیں کوئی چیز مثلاً کھجوریں ، آم ، مٹھائی وغیرہ دوسروں کے ساتھ مل کرکھانے کا اتفاق ہوتا ہے ، ایسے میں بعض اسلامی بھائی حرص ولالچ کی وجہ سے بڑے بڑے ہاتھ مارتے ہیں اور دوسروں کا حصہ بھی کھاجاتے ہیں ، یہ سخت ناپسندیدہ ، دوسروں کو اذیت پہنچانے والا انداز ہے ، حضرت سیدنا جَبَلَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا بیان ہے کہ جب ہم قحط سالی کا شکار تھے تو حضرت سیدنا عبداللّٰہ بن زبیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ہمیں کھجوریں عنایت فرماتے تھے۔حضرت سیدنا عبداللّٰہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا جب ہمارے پاس سے گزرتے تو ارشاد فرماتے :   رسولُ  اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے اس طرح ملا کر کھجوریں کھانے سے منع فرمایا ہے ، ہاں اگر کوئی شخص اپنے بھائی سے اجازت لے لے تو پھر کوئی حرج نہیں ۔

(بخاری، کتاب المظالم، باب اذا اذن انسان۔۔۔الخ، ۲/۱۲۹، حدیث : ۲۴۵۵)   

        شارحِ بُخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویاس حدیث کے تحت لکھتے ہیں : جب چند آدمی بیٹھ کر کھانا کھارہے ہوں تو یہ سخت مَعیوب اور ناپسندیدہ ہے کہ اگر کوئی خاص چیز سب کے کھانے کے لئے آئی ہو تو کوئی شخص زیادہ مقدار میں کھائے ۔اس کی ایک صورت یہ ہے مثلاً کھجوریں ہیں ، سب لوگ ایک ایک کھارہے ہوں اور کوئی شخص دو یا دو سے زائد کھارہا ہے ، یہ کھانے والے کی حرص، تنگ دلی ، دون ہمتی  کے ساتھ ساتھ دوسرے شرکاء کو ایذاء پہنچانا ہے اس لئے حدیث میں اس سے ممانعت فرمائی گئی اور یہاں اس حدیث میں خصوصی وجہ یہ تھی کہ حضرت عبداللّٰہ بن زبیر(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ما) نے یہ کھجوریں سب شرکاء کے لئے بھیجی تھیں صرف کھانے کے لئے اور ملکیت حضرت عبداللّٰہ بن زبیر(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ما)کی تھی۔دوسرے کی مِلک میں اس کی مرضی کے خلاف تصرُّف سخت معیوب ہے۔انہوں نے اس مقصد سے بھیجا تھا کہ اسے سب لوگ بقدرِ ضرورت اور حصہ رسدی کھائیں اس لئے نہیں بھیجا تھا کہ ایک شخص دونا(یعنی ڈبل) کھالے، ہاں اگر کھانا اپنی ملک ہو تو اختیار ہے آدمی جیسے چاہے کھائے۔ (نزھۃ القاری، ۳/۶۷۳)

(حکایت : 14)

انوکھا دسترخوان

        حضرتِ سیِّدُناشیخ ابوالحسن انطاکی علیہ رحمۃُ اللّٰہ الباقی کے پاس ایک بار بَہُت سے مہمان تشریف لے آئے ۔رات جب کھانے کا وَقت آیا تو روٹیاں کم تھیں ، چُنانچِہ روٹیوں کے ٹکڑے کر کے دَسترخوان پر ڈالدئیے گئے اوروہاں سے چَراغ اُٹھا  دیاگیا ، سب کے سب مہمان اندھیرے ہی میں دَسترخوان پر بیٹھ گئے ، جب کچھ دیر بعد یہ سوچ کر کہ سب کھاچکے ہونگے چَراغ لایاگیا تو تمام ٹکڑے جُوں کے تُوں موجود تھے ۔ ایثار کے جذبے کے تحت ایک لقمہ بھی کسی نے نہ کھایا تھاکیونکہ ہر ایک کی یِہی مَدَنی سوچ تھی کہ میں نہ کھاؤں تاکہ ساتھ والے اسلامی بھائی کا پیٹ بھر جائے ۔

 (اِتحافُ السّادَۃ المتقین، ۹/ ۷۸۳ )

اللّٰہ     عَزَّوَجَلَّ  کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔

اپنی ضَرورت کی چیز دے دینے کی فضیلت

        شیخِ طریقت امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالے ’’مدینے کی مچھلی‘‘ میں اس حکایت کو نقل کرنے کے بعد صفحہ 26پرلکھتے ہیں :  اللّٰہ  ! اللّٰہ !ہمارے اَسلاف کا جذبۂ ایثار کس قَدَر حیرت ناک تھا اور آہ! آج ہمارا جذبۂ حِرص وطَمع کہ جب کسی دعوت میں ہوں اورکھانا شروع کیا جائے تو’’کھاؤں کھاؤں ‘‘ کرتے کھانے پر ایسے ٹوٹ پڑیں کہ’’کھانا اور چبانا‘‘بھول کر’’نگلنا اور پیٹ میں لڑھکانا‘‘ شروع کر دیں کہ کہیں ایسانہ ہوکہ ہمارا دوسرا اسلامی بھائی تو کھانے میں کا میا ب ہو جائے اور ہم رہ جائیں ! ہماری حرص کی کیفیت کچھ ایسی ہوتی ہے کہ ہم سے بن پڑے تو شاید دوسرے کے منہ سے نوالہ(نِ۔والہ) بھی چھین کرنگل جائیں ! کاش!ہم بھی ’’اِیثار‘‘ کرنا سیکھیں ۔ سلطانِ دو جہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کافرمانِ بخشِش نشان ہے :  ’’جو شخص کسی چیز کی خواہش رکھتا ہو، پھر اُس خواہش کو روک کر  اپنے اوپر(دوسرے کو) ترجیح دے، تو اللّٰہ     عَزَّوَجَلَّ  اُسے بخش دیتا ہے۔‘‘  (اِتحافُ السّادَۃ المتقین، ۹/۷۷۹)

ہمیں بھوکا رہنے کا اَوروں کی خاطر

عطا کر دے جذبہ عطا یا الٰہی

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(6)مریض کو تکلیف نہ دیجئے

        بیمار کی عیادت کرنا کارِ ثواب ہے لیکن بعض اوقات عیادت کرنے والے مریض کے لئے راحت کے بجائے زحمت کا باعث بن جاتے ہیں ۔بلاضرورت مرض کی تفصیل پوچھنا، طِبّی معاملات سے لاعِلْم ہوتے ہوئے بھی اسے طرح طرح کے مشورے دینا اور دیگر فضول سوالات کرنا مریض کے لئے کوفت کا سبب بن جاتے ہیں ، بہر حال عیادت کرنے میں مریض کی کیفیت کا خیال رکھنا ضروری ہے اور اگر یہ محسوس ہو کہ ہماری موجودگی مریض کے لئے تکلیف کا سبب ہے تو جلد وہاں سے روانہ ہوجانا چاہیے۔فرمانِ مصطفی   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے :  اَفْضَلُ الْعِیَادَۃِ سُرْعَۃُ الْقِیَامبہترین عیادت جلد اُٹھ جانا ہے ۔ (شعب الایمان، باب فی عیادۃ المریض، فصل فی آداب العیادۃ، ۶/۵۴۲، حدیث :  ۹۲۲۱)

          مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : یہ تمام اس صورت میں ہے جب بیمار کو اس کے بیٹھنے سے تکلیف ہو۔(مراٰۃ المناجیح، ۲/۴۳۳)حضرت علامہ علی قاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الباری لکھتے ہیں : جس وقت یہ گمان ہوکہ مریض اس شخص کے زیادہ بیٹھنے کو ترجیح دیتا ہے ، مثلاً :  وہ اس کا دوست یا کوئی بُزُرگ ہے یا وہ اس میں اپنی مصلحت سمجھتا ہے ، اسی طر ح کوئی اور فائدہ ہو تو اس وقت مریض کے پاس زیادہ دیر بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں ۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الجنائز، ۴/۶۰، تحت الحدیث : ۱۵۹۱)

        اس حدیث پاک کے تحت حضرت علامہ علی قاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الباری نے چار سبق آموز مختصر حکایات نقل کی ہیں ، چنانچہ

 



Total Pages: 52

Go To