Book Name:Doodh Pita Madani Munna

والدین نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح وہ اپنے غصے پر قابو پانا سیکھ جائے مگر ناکام رہے ۔  ایک دن اس کے ابّو جان کو ایک ترکیب سوجھی ،   انہوں نے بچّے کو بہت سارے کیل   (Nails)   دئیے اور گھر کے پچھلے حصے کی دیوار   (Wall  کی طرف لے گئے اور کہا :بیٹا ! تم جب بھی کسی پر غصہ اُتارو یا جھگڑو تو اس دیوار میں ایک کیل ٹھونک دینا،   پہلے دن اُس نے 37بار غصہ اور جھگڑا کیا،  اس لئے پہلے دن 37کیلیں ٹھونکیں ۔  کچھ ہی دن میں وہ تھک گیا اورسمجھ گیا کہ غصے پر قابوپانا آسان ہے مگر دیوار میں کیل ٹھونکنا بہت مشکل کام ہے ۔  اس نے ابو جان کو اپنی پریشانی   (Problem )   بتائی ،   تو انہوں نے کہا :اب جب تمہیں غصہ آئے اور تم اس پر قابو پالو تو دیوار سے ایک کیل نکال لیا کرو۔  بیٹے نے ایسا ہی کیا اور بہت جلد دیوار میں لگی ہوئی کیلیں جن کی تعداد 100ہوچکی تھی نکالنے میں کامیاب ہوگیا ۔ اب ابو جان نے بیٹے کا ہاتھ پکڑا اور دیوار کے پاس لے جاکر کہنے لگے : بیٹا !  تم نے اپنے غصے پر قابوپایا بہت اچھا کیا مگر اس دیوارکو دیکھو !  یہ پہلے جیسی نہیں رہی اس میں سوراخ کتنے برے لگ رہے ہیں ،   جب تم غصے میں چیختے چلاتے اور اُلٹی سیدھی باتیں کرتے ہو تو اِس سے دوسروں کے دل میں گویا چاقو  (Knife گھونپتے ہو ،  پھر تم معذرِت   (Sorry  بھی کرلو تب بھی اس سے دوسروں کے دل کا زخم جلد ٹھیک نہیں ہوتا کیونکہ زبان کا زخم چاقو کے زخم سے زیادہ گہرا ہوتا ہے ۔ یہ سن کر بچے نے دوسروں کا دل دکھانے سے توبہ کرلی اور معافی بھی مانگ لی ۔    (غصّے کی عادت نکالنے کیلئے مکتبۃُ المدینہ کا رسالہ’’ غصّے کا علاج‘‘ پڑھئے) 

{۱۷}بُری صحبت کا اثر

        نیک گھرانے کا ایک مَدَنی منا برے دوستوں کی صحبت   (Companyمیں اُٹھنے بیٹھنے لگا ۔  اس کے ابو جان کو یہ بات پتا چلی تو انہوں نے اُسے سمجھایا کہ بروں کی صحبت تمہیں بھی کہیں برا نہ بنادے۔  اس نے یہ کہہ کر ٹال  (Avoidکر)   دیا کہ ابو جان!  آپ فکر نہ کیجئے میں ان جیسا نہیں بنوں گا ۔  والدمحترم نے اپنے بیٹے کو عملی طور پر سمجھانے کا ارادہ کرلیا اور ایک دن گھر میں بہت سارے آلوبخارے  (Prunes)   لے آئے ،  اس میں کچھ آلوبخارے گھر والوں نے کھالئے ،   جب باقی آلو بخارے رکھنے لگے تو بیٹے نے کہا :ابوجان!  ان میں ایک گلا سڑا   (Rottenآلوبخارا بھی ہے اسے نکال دیجئے،  والد صاحب بولے:ابھی رہنے دو ،   کل دیکھیں گے ۔ دوسرے دن جب باپ بیٹے نے آلو بخارے دیکھے تو گلے سڑے آلو بخارے کے قریب والے آلو بخارے بھی خراب ہوچکے تھے ۔  اب والد صاحب نے بیٹے کو سمجھایا : دیکھا بیٹا!  صحبت کا کتنا اثر ہوتا ہے !  ایک سڑے ہوئے آلو بخارے کی صحبت سے دوسرے اچھے والے آلوبخارے بھی خراب



Total Pages: 15

Go To