Book Name:Doodh Pita Madani Munna

مانتااور ان کو ناراض کرتا ہے اِس کی سزا اُسے دنیامیں بھی ملتی ہے جیسا کہ

ٹانگ کٹ گئی

         ’’زَمَخْشَری   ([1] ‘‘ (نام کے ایک آدمی)  کی ایک ٹانگ کٹی ہوئی تھی ،   لوگوں کے پوچھنے پر اُس نے بتایا کہ یہ میری ماں کی بد دُعا کا نتیجہ ہے،  ہوا یوں کہ میں نے بچپن میں ایک چڑیا پکڑی اور اُس کی ٹانگ میں دھاگا باندھ دیا،   اِتفاق سے وہ میرے ہاتھ سے چھوٹ کر اُڑتے اُڑتے ایک دیوار کی دَراڑ   (Crack میں گُھس گئی،   مگر دھاگا باہر ہی لٹک رہا تھا ،   میں نے دھاگا پکڑ کر بے دردی سے کھینچا تو چڑیا پھڑکتی ہوئی باہر نکل پڑی،   مگربے چاری کی ٹانگ دھاگے سے کٹ چکی تھی،   میری ماں یہ دیکھ کر بہت ناراض ہوئی اور اُس کے منہ سے میرے لئے یہ بددعا نکل گئی : ’’جس طرح تونے اِس بے زُبان کی ٹانگ کاٹی ہے،   اللہ تَعَالٰی  تیری ٹانگ کاٹے ۔  ‘‘ بات آئی گئی ہو گئی،  کچھ عرصے کے بعد تعلیم حاصل کرنے کیلئے میں نے ’’بخارا ‘‘ شہر کا سفر کیا،    راستے میں سواری سے گر پڑا،   ٹانگ پر شدید چوٹ لگی،  ’’ بخارا‘‘ پہنچ کر کافی علاج کیا مگر تکلیف نہ گئی اور ٹانگ کٹوانی پڑی ۔    (اوریوں ماں کی بددعا پوری ہوئی)     (حَیاۃُ الحَیَوان ج ۲  ص۱۶۳)   

         میٹھے میٹھے مَدَنی منو اورمَدَنی منیو!  اس ’’سچی کہانی‘‘ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ انسان تو انسان ہمیں کسی جانور کو بھی تکلیف نہیں پہنچانی چاہئے،  بعض بچے مرغی کے چوزوں ،   بلی اور بکری کے بچوںوغیرہ کو مارتے ،   اٹھا کر زمین پر پھینکتے ہیں ،   انہیں ہرگز ہرگز ایسا نہیں کرنا چاہئے ۔

{۱۳} پرندے کو تِیر مار رہے تھے

       حضرتِ عبدُاللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاقریش کے چند نوجوانوں کے پاس سے گزرے،   جو ایک پرندے  (Bird کو باندھ کر اُس پر  (تیروں سے)   نشانہ بازی کر رہے تھے۔  جب انہوں نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو آتے دیکھا توادھر ادھر ہو گئے۔  آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پوچھا:’’یہ کس نے کیا ہے؟ اللہ تَعَالٰی ایسا کرنے والے پر لعنت کرے،   بے شک رسولِ اَکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کسی ذِی رُوح   (یعنی جاندار)  کو تیر اندازی کا نشانہ بنانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ ‘‘   ( مُسلم ص۱۰۸۲ حدیث۱۹۵۸)    

{۱۴}گانا گانے والی بچّی

 



[1]     یہ مُعْتَز لی فرقے کا ایک عالم گزرا ہے ۔

 



Total Pages: 15

Go To