Book Name:Doodh Pita Madani Munna

کہ وہ بچّے تھے۔  لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جب کوئی چیز تقسیم کی جارہی ہو تو آپ نے کسی سے ڈبل حصہ مانگنانہیں ہے ،  ہاں!  اگر چیز بانٹنے والا خود ہی آپ کو زیادہ دے دے تو لے لینے میں کوئی حرج نہیں ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!            صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

{۱۰}ذِکرُ اللہ کی عادت

  حضرت داوٗد بن ابوہندرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب بازار   (Market  آیا جایا کرتے تھے تو اپنے لئے اِس طرح طے کرلیتے کہ فلاں جگہ تک _کا ذِکر کرتا رہوں گا ،  جب اُس جگہ   (Place تک پہنچ جاتے تو پھر اپنے اوپر لازِم کرتے کہ فلاں جگہ تک ذِکرُ اللّٰہکروں گا اور اس طرح  ذِکر کرتے کرتے  آپ گھر پہنچ جاتے ۔    (حِلْیَۃُ الْاولیاء  ج۳ ص۱۱۰مُلَخَّصاً

      میٹھے میٹھے مَدَنی منو اورمدنی منیو!  زُبان سےاللہ اللہ کہنا ،   تِلاوت کرنا ،   نعت شریف پڑھنا اور دعا مانگنا وغیرہ سب ذِکرُ اللّٰہ  ہے۔  اسی طرح دل ہی دل میںاللہ تَعَالٰی کی دی ہوئی نعمتوں   (Blessings کو یاد کرنا ،   نماز میں قیام   (یعنی کھڑے ہونا )  ،  رُکوع اور سجدہ کرنا بھی  ذِکرُ اللّٰہ  میں شامل ہے ۔  

{۱۱}نابینا مَدَ نی مُنّا دیکھنے لگا!

    حدیثوں کی مشہور کتاب’’ بخاری شریف‘‘ لکھنے والے بزرگ حضرت امام محمد بن اسماعیل بخاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبچپن میں نابینا   (Blindہو گئے تھے،   طبیبوں   (Doctorsسے علاج کروایا گیا لیکن اُن کی آنکھوں کی روشنی واپس نہ آسکی۔  آپ کی امی جانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمستجابُ الدَّعوات   (یعنی ان کی دعائیں قبول ہوتیں)   تھیں ،  ایک رات انہیں خواب میں حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَامنظر آئے،   انہوں نے فرمایا:’’ اللہ تَعَالٰی نے تیری دُعا قبول فرمائی،   تیرے بیٹے کی آنکھیں صحیح کر دی ہیں ۔ ‘‘ صبح جب اِمام بخاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنیند سے اُٹھے تو اُن کی آنکھیں صحیح ہو چکی تھیںاور دیکھنے لگے تھے۔   (مرقاۃ ج۱ص۵۳،  اشعۃُ اللّمعات ج۱ص۹) 

           میٹھے میٹھے مَدَنی منو اورمَدَنی منیو!  دیکھا آپ نے !  ماں کی دُعا میں کیسی تاثیر ہوتی ہے !  ہمیشہ اپنے ماں باپ کوراضی رکھئے،   ان کا کہنا مانئے ،   امی جان یا ابو جان آئیں تو ادب سے کھڑے ہو جائیے،  ان کے سامنے نگاہیں نیچی رکھئے ،  ان کے ہاتھ پاؤں چومئے۔  جو اپنے ماں باپ کی بات نہیں



Total Pages: 15

Go To