Book Name:Doodh Pita Madani Munna

اللہ پاک کے ایک بہت ہی نیک بندے حضرت فضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی چھوٹی بیٹی کی ہتھیلی میں درد تھا،   جب اُنہوں نے اُس سے پوچھا: بیٹی!  تمہاری ہتھیلی کا دَرد اب کیسا ہے ؟   (سمجھدار مَدَنی منی نے)  جواب دیا:ابو جان!  خیریت ہے ،   اگر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے تھوڑی سی تکلیف میں ڈالا بھی ہے تو اس سے کہیں زیادہ عافیت  (یعنی سلامتی)   بھی دی ہے ،   وہ اِس طرح کہ صرف میری ہتھیلی میں دَرد تھا لیکن باقی بدن   (آنکھ ،  کان،  ناک ،  ہونٹ اورپاؤں وغیرہ )   میں کوئی تکلیف نہ ہوئی،   اس بات پر اللہ تَعَالٰی کا شکر ہے ۔  اتنے پیارے جواب   (Replyپر انہوں نے فرمایا : ’’بیٹی !  مجھے اپنی ہتھیلی دکھاؤ۔ ‘‘جب اُس نے ہتھیلی دکھائی تو انہوں نے مَحَبَّت سے اس کی ہتھیلی چوم لی۔   (حَیاۃُ الحَیَوان لِلدَّمِیری ج ۱  ص ۱۹۷ مُلَخّصاً

        میٹھے میٹھے مَدَنی منو اورمَدَنی منیو!  اس ’’سچی کہانی‘‘ سے ہمیں یہ درس  (Lesson ملا کہ ہمیں جب بھی کوئی تکلیف پہنچے تو’’ہائے ہُو‘‘ کرنے کے بجائے صبر کرنا اور اس بات پر اللہ تَعَالٰی کا شکر کرنا چاہئے کہ اس نے ہمیں بڑی تکلیف سے بچا کر رکھامَثَلاً اگر کسی کے سر میں درد ہوتو وہ اس بات پر اللہ تَعَالٰی کا شکر کرے کہ اس کو بخار  (Fever نہیں ہوا ۔  بغیر ضرورت کسی ایک کو بھی اپنی تکلیف بتانی بھی نہیں چاہئے تا کہ ہمیں صبر کا ثواب مل جائے۔  ہاں دُعا کروانے کیلئے کسی نیک بندے یاعلاج کے لئے امی یا ابو یا ڈاکٹر وغیرہ کو بتایا تو حرج  نہیں۔  اللہ تَعَالٰی ہمیں صبرو شکر کرنے والابندہ بنائے۔  آمین ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

{۹}مَدَنی مُنّے کو ڈبل ملا

      اللہ پاک کے پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے پیارے صَحابی حضرت جابِر بِن عبد اللّٰہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا بیان ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو تحفے میں ایک برتن میں حلوا پیش کیا گیاتو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ہم سب کو تھوڑا تھوڑا حلوا دیا،   جب میری باری آئی اور مجھے ایک بار دینے کے بعد فرمایا:کیا تمہیں اور دوں؟میں نے عرض کی :جی ہاں،  توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے میری کم عُمری کی وجہ سے مجھے مزید   (یعنی اور زیادہ )   دیا،   اس کے بعد جو لوگ باقی رہ گئے تھے اُن کو اُن کا حصہ دے دیا گیا۔ (شُعَبُ الْاِیمان ج۵ص۹۹حدیث۳۵ مُلَخَّصاً

          میٹھے میٹھے مَدَنی منو اورمَدَنی منیو!  ہمارے پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  بچوں پر بڑی شفقت فرماتے تھے جبھی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے حضرت جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو دوسروں سے زیادہ دیااس لئے



Total Pages: 15

Go To