Book Name:Doodh Pita Madani Munna

۲۶۵  حدیث  ۱۵۴۵۳ مُلخّصاً

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

{۳}کچھ بال سفید اور کچھ کالے

   حضرت سائب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے سر کے بیچ والے بال بالکل کالے   (Black تھے لیکن باقی سر اور داڑھی کے بال سفید   (White   تھے۔  پوچھا گیا : یہ کیا معاملہ ہے کہ آپ کے کچھ بال سفید اور کچھ کالے ہیں؟ فرمایا: میں بچپن میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا ،  رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میرے پاس سے گزرے تو میں نے سلام عرض کیا۔  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے سلام کا جواب دیا اور پوچھا: آپ کون ہیں؟ میں نے اپنا نام بتایا تو حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے میرے سر پر اپنا ہاتھ مبارَک پھیرا او ر مجھے برکت کی دعا دی۔  میرے سر پر جس جس جگہ حضورِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مبارک ہاتھ لگا ہے وہ بال سفید   (White نہیں ہوئے ۔    (مُعْجَم کبِیر ج ۷ ص ۱۶۰ حدیث ۶۶۹۳ مُلَخَّصاً

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

{۴}پیارے نبی کا پیارا پیارا ہاتھ

  حضرت جابر بن سمرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : رحمت والے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس سے جب بچّے گزرتے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان میں سے کسی کے ایک گال   (Cheek  پر اور کسی کے دونوں گالوں پر اپنا شفقت بھرا ہاتھ پھیرتے تھے،  میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس سے گزرا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے میرے ایک گال پر اپنا پیارا پیاراہاتھ پھیرا۔ وہ گال جس پر حضورِپرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنا ہاتھ مبارک پھیرا تھا وہ دوسرے گال   (Cheek)   سے زیادہ خوبصورت   (Beautiful  ہو گیاتھا ۔     (کَنْزُ الْعُمّال ج ۱۳ ص ۱۳۵ حدیث ۳۶۸۷۶) 

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

{۵} چھوٹی باڈی والا مَدَنی مُنّا

   حضرت عبدالرحمن بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجب پیدا ہوئے تو ان کے نانا جان حضرتِ ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے انہیں ایک کپڑے میں لپیٹ کر سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں پیش کیا اورعرض کی:یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ!  میں نے آج تک اتنے چھوٹے جسم والا  بچہ نہیں دیکھا ۔  مدنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بچے کو گھٹی دی   (یعنی پہلی مرتبہ اُس کے منہ میں کھانے وغیرہ کی کوئی چیز ڈالی)  ،  سر پر ہاتھ مبارَک پھیرا اور دعائے برکت کی۔   (دعائے مصطَفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی برکت یہ ظاہر ہوئی کہ)  حضرت ِعبدالرحمن بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جب کسی قوم   (Nation  میں ہوتے تو قد میں سب سے اونچے   (Tall  نظر آتے۔   (اَلْاِصابَۃُج۵ ص۲۹ رقم ۶۲۲۷) 

{۶}گونگا  (Dumb)   بچّہ بولنے لگ گیا

  رسولِ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی صحابیہ حضرت اُمِّ جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں : ایک عورت اپنے گونگے   (Dumb )   



Total Pages: 15

Go To