Book Name:Taleem ul Miras

علم میراث کے بنیادی قواعدومسائل پر مشتمل آسان ابتدائی کتاب

 

 

 

 

تعلیم المیراث

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

پیش کش

 

 

مجلس اَلْمَدِ   یْنَۃُ الْعِلْمِیۃ   (دعوتِ اسلامی )

 

 

(شعبۂ درسی کتب )

 

 

ناشر

مکتبۃ المدینہ باب المد ینہ کراچی

 

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

مقدِّمہ (ابتدائی باتیں )

علمِ میراث کی تعریف:

                وہ علم جس سے میت کے ترکے میں ہر وارث کا پورا پورا حق معلوم ہوجائے ۔ اِسے فرائض اور علمِ فرائض بھی کہتے ہیں ۔ مسائلِ میراث جاننے والے کو فارض، فریض، فرضی اور فراض بھی کہتے ہیں ۔

علمِ میراث کا موضوع:

            علم میراث کا موضوع وارثین کے درمیان ترکے کی تقسیم ہے ۔

علم میراث کی غرَض:

            ترکۂ میت میں ہر وارث کے حق کی معرفت حاصل کرنا ۔

علم میراث کی اہمیت :

            حدیث پاک ہے : علم سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ اورفرائض سیکھو اور لوگوں کو سکھا ؤ ([1]) ۔

وراثت کے ارکان:

            وراثت کے تین ارکان ہیں :    ۱ ۔ مُورِث یعنی وہ شخص جو فوت ہوگیا اور ورثہ کے لیے میراث چھوڑ گیاہو ۔  ۲ ۔ وارث یعنی وہ شخص جو مورث کی میراث کا مستحق ہو ۔  ۳ ۔ میراث یا ترکہ یعنی وہ قابل وراثت اموال جو میت نے چھوڑے ہوں ۔

 



[1]      السنن الکبری للنسائی، کتاب الفرائض، الأمر بتعلیم الفرائض، ۴ / ۶۳،

             حدیث:۶۳۰۵ ۔ (دار الکتب العلمیۃ، بیروت)



Total Pages: 21

Go To