Book Name:Tamam Dinon ka Sardar

مَدَنی قافلے میں سفر نہ کرنے کا ایک وسوسہ

عرض : اگر کوئی اِسلامی بھائی اس وجہ سے مَدَنی قافلے میں سفر نہ کرتا ہو کہ” مَدَنی قافلے میں ہر بار وہی سُنَّتیں اور دُعائیں سکھائی جاتی ہیں“ تو کیا کرناچاہیے؟

اِرشاد : مدنی قافلے میں بار بار وہی سنتیں اور دُعائیں سکھائی جاتی ہیں اس وجہ سےمدنی قافلے میں سفر نہ کرنا  وسوسۂ  شیطانی اور دعوتِ اسلامی کے مدنی مقصد سے ناواقف ہونے کا نتیجہ ہے۔تبلیغِ قرآن وسنَّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کا مدنی مقصد”اپنی اور ساری دُنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش کرنا ہے۔“اگراس مدنی مقصد پر غور کر لیا جائے تو یہ شیطانی وسوسہ تارِعنکبوت(یعنی مکڑی کے جالے)سے بھی زیادہ کمزورنظر آئے گا کیونکہ اس مدنی مقصد میں اپنی اِصلاح کے ساتھ ساتھ ساری دُنیا کے لوگوں کی اِصلاح  کی کوشش بھی شامل ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ کوئی بھی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس کی کما حقہ اِصلاح ہو چکی  ہے اب مزید اسے اصلاح کی حاجت نہیں، جب ایسا نہیں تو پھر یہ وسوسہ کیسا؟اگر  بالفرض کسی کو سُنَّتیں اور دُعائیں یاد ہیں اور وہ ان پر عمل پیرا بھی ہے تو بہت اچھی بات ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس میں مزید بَرَکتیں عطا فرمائے مگر یہ سوچ کر مدنی قافلے میں سفر نہ کرنا کہ  مجھے تو تمام ضروری مسائل، سنتیں اور دُعائیں وغیرہ آتی ہیں، محض خوش فہمی یا غلط فہمی کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے کہ بسااوقات بندہ یہ خیال کرتا ہے کہ میں عرصۂ دراز سے یہ دُعائیں پڑھ رہا ہوں، سُنَّتوں پرعمل کر رہا ہوں، مجھے تو یہ ساری چیزیں اَزبر  ہیں مگر جب کوئی دوسرا سُن لے یا پوچھ لےتو بتانے میں غلطی کر جاتے ہیں یا  بتا ہی نہیں پاتے، اس بات کا اندازہ مدنی قافلے ہی کی اس مدنی بہار سے لگا لیجیے چنانچہ”ایک مرتبہ  نیوی کے ایک افسر نے عاشقانِ رسول کے ہمراہ دعوتِ اسلامی کے سنّتوں کی تربیت کے مدنی قافلے میں سفر کرنے کی سعادت حاصل کی۔دورانِ سفر اِصلاح کی نیت سے دُعائے قنوت سنی گئی تو انہوں نے بہت سخت غلطی کی۔جب اسلامی   بھائی نے ان کی اِصلاح کی تو کہنے لگے : اس مدنی قافلے کی برکت سے مجھے اپنی غلطی کا پتہ چلا ہے، میں تو آج تک اسی طرح پڑھتا آ رہا ہوں۔“

دوسری بات یہ ہے کہ مدنی قافلوں میں سفر کرنے کا مقصد چونکہ اپنی اِصلاح کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش کرنا بھی ہے۔ذراآپ اپنے سے پوچھئے!کیا آپ نے ساری دنیا کے لوگوں کی اِصلاح کر لی ہے ؟کیا آپ کو جو دُعائیں، سُنَّتیں اور دِینی مسائل یاد ہیں سب کو سکھا دئیے ہیں؟یقیناً آپ کا جواب نفی میں ہوگا لہٰذا ساری دُنیا کے لوگوں کی اِصلاح کے لیے مدنی قافلوں میں سفر کر کے ہی ہم اپنے اس عظیم مَدَنی مقصد میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔اگرآپ  کو یہ سنَّتیں اور دُعائیں یاد ہیں تو کیا انہیں  دوبارہ دُہرانے نیز کسی اور کو سکھانے کی بھی حاجت نہیں ؟ کیاانہیں دُہرانے اور دوسروں کو سکھانے پر ثواب نہیں ملے گا؟ جب ثواب ملتا ہے اور یقیناً ملتا ہے اور دوسروں کو سکھانے کی حاجت بھی ہے تو پھر یہ بوریت اور وسوسے کیسے؟درسِ نظامی پڑھانے والے اساتذہ سالہا سال سے ایک ہی کتاب پڑھا رہے ہوتے ہیں وہ بوریت محسوس نہیں کرتے تو آپ مدنی قافلوں میں سفر کرنے اور بار بار سیکھی ہوئی باتیں دُہرانے  اور دوسروں کو  سکھانے سے بوریت  کیوں محسوس کرتے ہیں؟یاد رکھیے!ایک بار کوئی چیز سیکھ کر یادکر لینے سے اس کا ثواب ختم نہیں ہو جاتا بلکہ دوسروں کو سکھانے اور پھر ان کے عمل کرنے سے وہ عمل ثوابِ جاریہ کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ پھر یہ بھی ذہن نشین رہے کہ مدنی قافلے میں فقط سُنَّتیں اور دُعائیں ہی نہیں سیکھی اور سکھائی جاتیں بلکہ اور بہت ساری چیزیں ہیں جو مدنی قافلوں میں سفر کرنے کی بدولت حاصل ہوتی ہیں مثلاً راہِ خدا میں سفر کرنے کے فضائل، راہِ خدا میں مال خرچ کرنے کااجرو ثواب، علمِ دین سیکھنے اور سکھانے کے فضائل، نمازِباجماعت ادا کرنے کا اہتمام، نوافل کی ادائیگی اورتلاوتِ قرآن الغرض بہت سے نیک کام کرنے کا موقع ملتا ہے ۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے وہ کبھی بھی  نہیں چاہتا کہ کوئی مسلمان اپنی اور دوسرے لوگوں کی اِصلاح کر کے ثواب کمانے  اور اپنی آخرت بہتر بنانے میں کامیاب ہو اس لیے  وہ  مختلف اَنداز میں طرح طرح کے وساوسں میں مبتلا کرکے اس عظیم سعادت سے روکنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے لہٰذا آپ شیطانی وساوس کی طرف بالکل توجہ نہ دیجیے بلکہ شیطان کے تمام حربوں اور چالوں کو ناکام بناتے ہوئے جَدْوَل کے مطابق زندگی میں یکمشت12 ماہ ، ہر12 ماہ میں ایک ماہ اور عمر بھر  ہر ماہ 3 دن کے لیے مدنی قافلوں میں سفر کو اپنا معمول بنا لیجیے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ   ہمیں نفس و شیطان کے ہتھکنڈوں سے بچنےاوراپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش کے لیے خوشدلی کے ساتھ مدنی قافلوں میں سفر کرنے کی توفیق عطافرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

مجھ کو جذبہ دے سفر کرتا رہوں پروَردگار

                 سنّتوں کی تربیت کے قافلے میں بار بار                  (وسائلِ بخشش)

          ٭٭٭٭٭

ماٰخذ و مراجع

قرآنِ پاک

کلامِ الٰہی

❆❆❆❆

 

نام کتاب

مصنف /مؤلف

مطبوعہ

1

کنزالایمان

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان ، متوفّٰی۱۳۴۰ھ

مکتبۃ المدینہ۱۴۳۲ھ

2

خزائن العرفان

صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی ، متوفّٰی۱۳۶۷ھ

مکتبۃ المدینہ ۱۴۳۲ھ

3

التفسیر الکبیر

امام فخر الدین  محمد بن عمر بن الحسين رازی  شافعی، متوفّٰی۶۰۶ھ

داراحیاء التراث العربی۱۴۲۰ ھ

4

صحیح مسلم

امام مسلم بن حجاج قشیری نیشاپوری، متوفّٰی۲۶۱ھ

دارابن حزم بیروت ۱۴۱۹ھ

5

سنن الترمذی

امام محمد بن عیسٰی  ترمذی ، متوفّٰی۲۷۹ھ

دارالفکر بیروت۱۴۱۴ھ

6

سنن ابی داود

امام ابوداود سلیمان بن اشعث سجستانی ، متوفّٰی۲۷۵ھ

داراحیاء التراث العربی۱۴۲۱ھ

7

سنن ابن ماجہ

امام محمد بن یزید القزوینی ابن ماجہ ، متوفّٰی۲۷۳ھ

دارالمعرفہ بیروت۱۴۲۰ھ

8

مسند الامام ابی حنیفہ

امام  ابو نعیم احمد بن عبداللہ الاصفہانی،