Book Name:Tamam Dinon ka Sardar

اور ہیں، جواللّٰہورسُول(عَزَّ وَجَلَّ وَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  )کے علم میں ہیں۔“اللہ  عَزَّوَجَلَّ  کےمحبوب، دانائےغُیوب، مُنَزہٌ عَنِ الْعُیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے اِرشاد فرمایا :  میرے ربّعَزَّ وَجَلَّنے مجھ سے وعدہ فرمایا کہ وہ میری اُمّت سے 70 ہزار اَفراد کو  بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل فرمائے گا، ہرہزار کے ساتھ 70ہزار اور ہوں گے اور میرے ربّعَزَّ   وَجَلَّ کی مٹھیوں(جیسا کہ  اس کے  شایانِ شان ہے)سے تین مٹھیاں(مزید ہوں گے)۔([1])اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ   ان بےحساب جنت میں داخل ہونے والوں کا صدقہ ہمیں  ايمان پر اِستقامت، سکرات میں  سرورِکائناتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی  زيارت، قبرو حشر میں  راحت اور اپنی  رحمت سے بے حساب مغفرت سے نواز کر جنت الفردوس میں اپنے مدنی  حبيبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کا پڑوس عطا فرمائے۔

                                  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن     صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَدقہ پیارے کی حیا  کا  کہ  نہ لے مجھ سے  حساب

                         بخش بے پوچھے لَجائے کو لَجانا کیا ہے                      (حدائقِ بخشش)

سُنّت کی تعریف

عرض : سُنّت کسے کہتے ہیں؟

اِرشاد : سُنّت کے لغوی معنیٰ ہیں طریقہ اور شریعت کی اِصطِلاح میںنبیٔ کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰو ۃِ  وَالتَّسْلِیْمکے قَول ، فِعل اورسُکُوت ([2]) کوسُنّت کہتے ہیں اور صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے اَقوال و اَفعال پر بھی سُنَّت کا لفظ بولا جاتا ہے۔“([3])

سَمُندرکے کِنارے نیکرپہن کرنہانا

عرض : سَمُندر کے کنارے لوگوں کا  نیکر پہن کر نہانا کیسا ہے؟

اِرشاد : مرد کے لیے ناف کے نیچے سے گھٹنوں کے نیچے تک عورت ہے یعنی اس کا چھپانا فرض ہے۔ناف اس میں داخِل نہیں اورگھٹنے داخِل ہیں۔([4]) نیکر (KNICKER)پہن کر نہانے کی صورت میں مکمَّل گھٹنے بلکہمَعَاذَاللہ  عَزَّوَجَلَّ     رانوں کا کچھ حصّہ بھی کھلا رہتا ہے جس سے سخت بے پردگی ہوتی ہے  لہٰذااِس طرح دُوسروں کے سامنے اپنی رانیں یا گھٹنے کھولناگناہ اور دوسروں کو اِس طرف نظر کرنا بھی گناہ ہے۔مولائے کائنات، مولا مشکل کشا، علیُّ المُرتَضیٰ شیرِِ خداکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے روایت ہے کہ پیکرِ شرم و حیا، محبوبِ کِبریا، مکّی مدنی مصطَفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نےمجھ سے فرمایا :  نہ اپنی ران کھولو اور نہ کسی زندہ(اور) مردہ کی ران دیکھو ۔([5])

اِسحدیثِ پاک کے تحت مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں :  یعنی کسی کے سامنے ران نہ کھولو اور نہ بِلا ضرورت تنہائی میں کھولو رب  تَعَالٰی  سے شرم کرو کیونکہ ران ستر ہے اس سے آج کل کے نیکر  پہننے والے عبرت پکڑیں جن کی آدھی رانیں کھلی ہوتی ہیں اور وہ بے تکلّف لوگوں میں پھرتے ہیں  اللہ تَعَالٰی  ایمانی غیرت نصیب کرے۔([6])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا کہ گھٹنے اور رانیں ستر میں داخل ہیں اور”لوگوں کے سامنے سِتْر کھولناحرام ہے۔“([7])لہٰذااگرکوئی نیکر پہن کر نہائے تو دوسرے لوگوں کے لیے لازِم ہے کہ اُس کے کھلے ہوئے گھٹنوں اور رانوں کو دیکھنے سے اپنے آپ کو بچائیں۔

جہاں بدنگاہی ہوتی ہو وہاں سیر کیلئے جانا کیسا ؟

عرض : کیاایسی جگہ سیرکے لیے جا سکتے ہیں جہاں لوگ نیکر پہن کر تَیراکی یاورزش کرتے ہوں؟

اِرشاد : ایسی جگہ سیر وتفریح کے لیے ہرگز   نہ جایا جائے  جہاں یقینی طور پر دوسروں کے کھلے سِتْرپر نظر پڑنے کا  اندیشہ ہو مثلاً ساحلِ سَمُندر اور نَہَر پر جہاں لوگ نیکر پہن کر نہاتے ہیں ایسےہی  پارک یا کلب وغیرہ میں جہاں لوگ نیکرپہن کر دوڑ لگاتے یا ورزش کرتے ہیں کہ جس طرح”(بِلاحاجتِ شرعی) کسی کے سامنے سِتْر کھولنا حرام ہے ۔“ ([8])ایسے ہی بِلاضرورت کسی کے سِتْر کو دیکھنا بھی فقہائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ ُالسَّلَامنے حرام لکھا ہے۔([9])سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ عبرت نشان ہے : اللہ   عَزَّوَجَلَّ    کی لعنت ہو دیکھنے والے پر اور اس پر جس کی طرف دیکھاجائے۔ ([10]) اس رِوایت سے نیکر اور چڈی پہن کرنہانے، فُٹ بال، کبڈی وغیرہ کھیلنے اور ان کاتماشا دیکھنے والے بھی عبرت حاصِل کریں۔اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہمیں شرم و حیا کا پیکر بنائے اور اپنے ہر ہر عضو کا قفلِ مدینہ لگانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن      صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

 



[1]    مُسْند اِمام اَحمد، مسندالانصار، حدیث ابی امامةالباھلی...الخ، ۸/ ۳۰۶، حدیث : ۲۲۳۶۶

[2]    کسی نے سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی موجودگی میں کوئی کام کیا یا بات کہی اورآپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اسے منع نہیں فرمایا بلکہ سکوت فرما کر اسے مقرر رکھا (تواسے ”سنتِ تقریری یا سکوت “  کہا جاتاہے)۔ (نصابِ اصولِ حدیث مع اِفاداتِ رضویہ ، ص۲۷)

[3]     نُورُالْاَنْوار ، ص۱۷۹

[4]     بہارِ شريعت، ۱/۴۸۱، حصّہ۳

[5]     ابنِ ماجہ ، کتاب الجنائز، باب ما جاء  فی غسل المیت ، ۲ / ۲۰۰-۲۰۱، حدیث : ۱۴۶۰

[6]    مرآۃ المناجیح ،  ۵/۱۸

[7]    فتاویٰ رضویہ، ۳/ ٣٠۳۰۶

[8]

Total Pages: 8

Go To