Book Name:Tamam Dinon ka Sardar

رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : عالمِ دین ہر مسلمان کے حق میں عُمُوماً اور اُستادِ علمِ دین اپنے شاگرد کے حق میں خُصُوصاً نائبِ حُضُور پُرنور سیِّدِعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ہے ۔([1])

 مجھ کو اے عطارؔ سُنّی عالِموں سے پیار ہے

                                                            اِنْ شَآءَ اللہ دوجہاں میں اپنا بیڑا پار ہے    (وسائلِ بخشش )

عُلَما کو بُرا بھلا کہنے والے کے بارے میں حکم

عرض : علمائے  کرامکَثَّرَ  ہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَامکو بُرا بھلا کہنے والے کے بارے میں شریعت کا  کیاحکم ہے؟

اِرشاد : علمائے  کرامکَثَّرَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَامکو بُرا بھلا کہنے والے کے بارے میں حکمِ شرعی بیان کرتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اَہلسنّت، مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرما تے ہیں : اگر عالم کو اس لئے بُرا کہتا ہے کہ وہ عالِم ہے جب تو صَریح  کافِرہے اور اگر بوجۂ عِلم اس کی تعظیم فرض جانتا ہے مگر اپنی کسی دُنیوی خُصومت(یعنی دشمنی)کے باعِث بُرا کہتا ہے، گالی دیتا تحقیرکرتاہے تو سخت فاسِق، فاجِرہے اور اگر بے سبب( بِلا وجہ) رَنج رکھتا ہے تو مَرِ یْضُ الْقَلْب خَبِیثُ الْبَاطِن( دِل کا مریض اور ناپاک باطن والا)ہے اور اُس کے کُفر کا اَندیشہ ہے۔([2])

حضرتِ سَیِّدُنا امام فخرُالدِّین رازیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِیتفسیرِکبیر میں نقل فرماتے ہیں : جس نے عالمِ دین کی تو ہین کی، تحقیق اس نے علم دِین کی توہین کی اور جس نے علمِ دین کی توہین کی، تحقیق اس نے نبیٔ کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰو ۃِ  وَالتَّسْلِیْم کی توہین کی۔([3])مزید فرماتے ہیں : جس نے عالِم کو حقیر سمجھا ، اُس نے اپنے دِین کو ہلاک کیا ۔([4])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہر مسلمان کے لیے ضَروری ہے کہ وہ عُلَمائے اہلسنّت سے عقیدت ومحبت رکھے اور ان کے ساتھ  بُغض وعداوت رکھنے  سے ہر دم بچتا رہے کہ خُلاصۃ  الفتاویٰ  میں  ہے : جو بغیر کسی ظاہری وجہ کے عالمِ دین سے بُغض رکھے اس پر کُفر کا خوف ہے۔([5])اسی طرح بِلااجازتِ  شرعی ان کے کردار اور عمل پر تنقید کرکے غیبت کے گناہِ کبیرہ میں نہ پڑے کہ حضرتِ سیِّدُنا ابو حفص الکبیرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَدِ  یْر فرماتے ہیں : جس نے کسی فقیہ کی غیبت کی تو قِیامت کے روز اُس کے چہرے پر لکھا ہوگا، یہ اللّٰہکی رَحْمت سے مایوس ہے۔([6])اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ہمیں علمائے اَہلسنَّت کا ادب واحترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے فیوض وبرکات سے مالا مال فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ([7])

کوئی عالِم صاحب غصّے میں آ کر جھاڑ د یں تو؟

عرض : اگر کوئی عالِم صاحِب غصّے میں آکر جھاڑ دیں تو کیااُن کی بداَخلاقی کی گَرِفت نہ کی جائے؟

اِرشاد : اگر کوئی عالِم صاحِب غصّے میں آکر جھاڑدیں تو ایسے موقع پر ان کی گرفت کرنے کے بجائے اپنے اُوپر غور کر لیجیے  ہوسکتا ہے کہ آپ کی کسی  کوتاہی کی وجہ سے انہیں غُصّہ آیا ہو یا  وہ کسی وجہ سے پریشان ہوں اور بتقاضائے بَشَرِیَّت غصّے میں آگئے ہوں لہٰذا علمی معاملات میں ان کےاِحسانات اپنے اوپر یاد کر کے دَرگُزر سے کام لیجیے کہ درگزر کرنے کی بھی کیا خوب فضیلت ہے چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا ابو اُمامہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبیوں کے سلطان، رحمتِ عالمیان، سردارِ دوجہانصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ مغفرت نشان ہے : جس شخص نے قدرت کے باوجود کسی کو معاف کیا، اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ   بروزِ قیامت اُسے معاف فرما دے گا۔([8])

اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت مولانا شاہ اِمام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں : اکابِر صِدِّیقین (رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِین)نے فرمایا : ”یعنی ہم بھی بشرہیں بشرکا سا غصّہ ہمیں بھی آتا ہے جب اسے دیکھو (یعنی جب ہمیں غُصّے میں دیکھو)تو اس وقت ہمیں چھیڑو نہیں بلکہ الگ ہٹ جاؤ “اور بالفرض یہ بھی  نہ سہی بلکہ بلاوجہ محض اس سے کج خلقی(یعنی بداَخلاقی)کی توضرور اس کاالزام اس عالِم پر ہے مگر اسے اس کی خطا گیری (یعنی بھول نِکالنا)اور اس پراعتراض حرام ہے اور اس کے سبب رہنمائے دین سے کنارہ کش ہونا اور اِستفادۂ مسائل(یعنی مسائل سیکھنا) چھوڑ دینا اس کے حق میں زہرہے اس کاکیانقصان، حدیث میں ہے نبیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم فرماتے ہیں : ”عالِم اگراپنے عِلم پر عمل نہ کرے جب (تو) اس کی مثال شمع کی ہے کہ آپ جلے اور تمہیں روشنی دے۔“یہ سب اس صورت میں ہے کہ وہ عالِم حقیقۃً عالِمِ دین، سُنّی صحیح العقیدہ، ہادیٔ راہِ یقین (سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرنے والا)ہو ورنہ اگر سُنّی نہیں توکتنا ہی خلیق (یعنی اچھّےاخلاق والا)کتنا ہی متواضع(عاجزی و اِنکساری کرنے والا) کتناہی خوش مزاج بنے نائبِ ابلیس ہے اس سے کنارہ کشی فرض ہے اور اس سے فتویٰ پوچھنا حرام۔([9])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا کہ عالِمِ دین کی کسی خطاکی وجہ سے  بدظن ہوکر اس کی صحبت سے دُور نہیں  ہونا چاہیے اور نہ ہی  اس کی مخالَفت کرنی چاہیے کہ یہ اس کے حق میں زہرِ قاتل ہے، یہ بھی معلوم ہواکہ عالِمِ دین کے یہ  فضائل اور اس کی صحبت کی یہ  برکتیں اسی صورت میں ہیں  جبکہ وہ عالِم ِ دین، سُنّی ، صحیح العقیدہ  ہو، رہا بدمذہب عالِم کا معاملہ تو اس کے سائے سے بھی دور بھاگنا چاہیے کہ اُس کی تعظیم حرام اور اُس کی صحبت اِیمان کے لیے زَہرِقاتل ہے۔شیطان بھی بہت بڑا عالم اور مُعَلِّمُ الْمَلَکُوت (یعنی فِرشتوں کا اُستاد) تھا مگر اب عُلمائے سُوء  کا سردارہے جس



[1]     فتاویٰ  رضويہ، ۲۳/۶۳۸

[2]      فتاویٰ  رضویہ، ۲۱/۱۲۹

[3]      تفسيرِ کَبِیر، پ۱، البقرة ، تحت الآیة : ۳۰ ، ۱/ ۴۰۸

[4]      تفسيرِکَبِیر، پ۱، البقرة ، تحت الآیة : ۳۰ ، ۱ / ۴۱۱

[5]      خُلَاصَةُ الْفتاویٰ، کتاب الفاظ الکفر، الفصل الثانی...الخ، الجنس الثامن، ۴/ ۳۸۸

[6]      مُکاشَفَةُ الْقُلُوْب، الباب العشرون فی بیان الغیبة   والنمیمة، ص۷۱

[7]     شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّارقادری رضوی ضیائیدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ عُلَمائے اہلسنّت سے بے حد عقیدت و محبت رکھتے ہیں اور نہ صرف خود ان کی تعظیم کرتے ہیں بلکہ اگر کوئی آپدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے سامنے عُلَمائے اَہلسنّت کے بارے میں کوئی نازیبا کلِمہ کہہ دے تو اس پرسخت ناراض ہوتے ہیں۔ ایک موقع پر کسی نے ٹیلیفون پر بعض عُلَمائے اہلسنّت کے بارے میں سخت نازیبا کلِمات کہے۔ اس پرآپدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے سخت ناراضگی کااِظہار کرتے ہوئے اُسے توبہ کرنے کی تاکید کی اوراعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت مولانا شاہ امام احمدرضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  کے فرامین سے آگاہ کیا۔(شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)

[8]      مُعجَمِ کبیر