Book Name:Tamam Dinon ka Sardar

رہیبات نکاح کا خطبہ سننے کی تو جس طرح اورخطبوں کا سننا واجِب ہے ایسے ہی نکاح کا خطبہ سننا بھی واجب ہے چنانچہ فقۂ حنفی کی مشہور ومعروف کتاب دُرِّمختار میں ہے : خُطبۂ جمعہ کے علاوہ اورخُطبوں کا سُننا بھی واجِب ہے مثلاً خطبۂ عِیدین ونکاح وغیرہ۔([1])

قِیامت جُمُعہ کے روز قائم ہوگی

عرض : کیایہ دُرُست ہے کہ قِیامت جُمُعہ کے روز قائم ہوگی؟

اِرشاد : جی ہاں۔قِیامت جُمُعۃ المبارک کے روز قائم ہوگی جیساکہ حدیثِ پاک میں ہےاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کا فرمانِ غیب نشان ہے : قِیامت جُمُعہ ہی کے دِن قائم ہوگی اور کوئی جانور ایسا نہیں کہ جُمُعہ کے دِن صُبح کے وقت سورج طُلوع ہونے تک قِیامت کے خوف سے چیختا نہ ہو، سِوائے آدمی اور جنّ کے۔([2]) ایک اور حدیثِ پاک میں ارشاد فرمایا : بہتر دن کہ آفتاب نے اس پر طُلُوع کیا، جُمُعہ کا دن ہے، اسی میں آدم(عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) پیدا کئے گئے اور اسی میں جنّت میں داخل کئے گئے اور اسی میں جنّت سے اُترنے کا انہیں حکم ہوا اور قِیامت جُمُعہ ہی کے دِن قائم ہوگی۔([3])ایک رِوایت میں اِتنا زائد ہے :  اسی دِن میں قیامت قائم ہو گی، کوئی فرشۂ مُقَرَّب ، آسمان ، زمین، ہوا، پہاڑ اور دریا ایسا نہیں کہ جُمُعہ کے دن سے نہ ڈرتا ہو ۔([4])

عِلم اورعُلماکی اہمیت

عرض : اکثر دیکھا گیاہے کہ آپ عُلمائے کرامکَثَّرَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام  کا نہ صِرْف خود ادب و احترام فرماتے ہیں بلکہ وقتاً فوقتاً دوسروں کو بھی اس کی تلقین فرماتے رہتے ہیں، اس بارے میں کچھ مدنی پھول  اِرشاد فرما دیجیے تاکہ اس کی ضرورت و اہمیّت ہم پر بھی واضِح ہوجائے ۔

اِرشاد : اِسلام میں عِلم اور  عُلَماکی بڑی اَہمیت ہے کیونکہ علمِ دین اَنبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی میراث ہےاور علمائے دینکَثَّر َہُمُ اللّٰہ ُالْمُبِین اَنبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے علم کے وارِث اور جانشین ہیں جیساکہ خاتَمُ النَّبِیِّین ، صاحِبِ قرآنِ مُبین، محبوبِ ربّ العٰلَمِین، جنابِ صادِق وامینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کافرمانِ دلنشین ہے : علما دُنیا کے چراغ اور اَنبیائے کرام(عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام)کے جانشین ہیں، میرے اور مجھ سے پہلے تمام انبیا(عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام)کے وارِث ہیں۔([5])ایک اور حدیثِ پاک میں ارشاد فرمایا :  علما کی عزّت کرواس لیے کہ وہ اَنبیا(عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام)کے وارِث ہیں تو جس نے ان کی عزّت کی تحقیق اس نے اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ   اور اس کے رسُول(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  )کی عزّت کی۔([6])

 علم وعلما کی اَہمیت وافادیت کا کوئی  اِنکار نہیں کرسکتا  کہ اِسلامی عقائد و عبادات کی معرفت، حلال وحرام، جائز و ناجائز، نیکی و بدی، ثواب وگناہ میں تمیز، طَہارت، نماز، روزے، زکوٰۃ اور حج کی صحیح ادائیگی اسی علم کی بدولت حاصل ہوتی ہے، اس کے علاوہ ہرقسم کے معاشی و معاشرتی معاملات کی شریعت کے مطابق بجاآوری وغیرہ سب علمِ دین ہی کےسبب ہے، اسی علم کی برکت سے ہماری مساجدآباد ہیں، اگر علمِ دین کے مدارس و جامعات ختم کر دیئے جائیں تو مسلمان کفریہ عقائد میں مبتلا ہوجائیں، اللہ   عَزَّوَجَلَّ    کی عبادت کا صحیح طریقہ جو نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے مسلمانوں کو تعلیم فرمایا ہے وہ نہیں جان پائیں گے، حلال وحرام، جائز و ناجائز، نیکی و بدی سے بالکل ناواقِف ہو جائیں گے یہاں تک کہ مساجد وِیران ہو جائیں گی اور اِسلام کی رونق ختم ہو جائے گی لہٰذا مسلمانوں کو مسلمان باقی رکھنے اور دینِ اسلام کی تعلیمات سے بہرہ ور کرنے کے لیے علمِ دین کی اِتنی ہی سخت ضرورت ہے جتنی سخت ضرورت زمین کی دُرُستی کے لیے بارش کی ہوتی ہے جیسا کہ حضرتِ سَیِّدُنا علّامہ ابنِ حجر عسقلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : جیسے بارش مُردہ شہر میں زندگی پیدا کر دیتی ہے ایسے ہی علمِ دِین مُردہ دِل میں زندگی ڈال دیتا ہے۔([7])   

یہی وہ علم ہے جس کے بارے میں سرکارِ مدینۂ مُنوَّرہ، سَردارِ مکۂ مکرمہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے اِرشاد فرمایا : علمِ دین اِسلام کی زندگی اور اِیمان کا سُتون ہے اور جس نے یہ علم سکھایا اللہ   عَزَّ  وَجَلَّ   اس کےلئے اَجر کو مکمل فرما دے گا اور جس نے یہ علم سیکھا اور اس پر عمل کیا تواللہ  عَزَّ  وَجَلَّ  اسے وہ علم بھی سکھادے گا جو وہ نہیں جانتا۔([8])  ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا :  علمِ دین میری میراث ہے اور جو مجھ سے پہلے اَنبیا گزرے ہیں ان کی میراث ہے پس جوبھی میرا  وارِث ہوگا، جنّت میں جائے گا۔([9])

علمِ دین کی ان فضیلتوں اور برکتوں کا حُصول علمائے کرامکَثَّرَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام  کے ذریعے ہی ممکن ہے، انہی کی بدولت ہم  علمِ دین حاصل کر کے نفس و شیطان کے مکروفریب سے بچتے ہوئےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے اَحکامات پر عمل کر کے اپنی قبرو آخرت کو سنوار سکتے ہیں لہٰذاعُلَمائے اہلسنّت سے ہر دم وابستہ رہیے۔ کاش! یہ مَدَنی پھول ہر دعوتِ اسلامی والے کی نَس نَس میں رچ بس جائے کہ”علما کو ہماری نہیں بلکہ ہمیں عُلَمائے اہلسنّت کی ضرورت ہے۔“یہی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے میں نہ صرف خود علمائے  کرامکَثَّرَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام  کا اَدَب و اِحترام کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں بلکہ وقتاً فوقتاً دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتا رہتا ہوں۔میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اَہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ



[1]     دُرِّمختار، کتاب الصلا ة، مطلب فی شروط وجوب الجمعة ، ۳/ ۴۰

[2]     مُؤطّااِمام مالِک، کتاب الجمعة ، باب ماجاء فی الساعة. ..الخ، ۱/ ۱۱۵-۱۱۶، حدیث : ۲۴۶

[3]      مُسلِم، کتاب الجمعة ، باب  فضل  یوم الجمعة، ص۴۲۵، حدیث : ۸۵۴

[4]      اِبنِ ماجَہ، كتاب  إقامة   الصلا ة   والسنة   فيها، باب    فی    فضل   الجمعة ، ۲/ ۸، حدیث : ۱۰۸۴

[5]     جامِع صَغِیر، حرف العین، ص۳۵۲ ، حدیث : ۵۷۰۳

[6]     جَامِعُ الاَحادِیث، حرف الھمزة ، ۲/ ۶۱، حدیث : ۳۸۹۰

[7]     فَتحُ الباری، کتاب العلم، باب  فضل  من  علِم وعلّم، تحت الحدیث :  ۷۹ ، ۲/ ۱۶۱

[8]     جامِع صغِیر، فصل فی المحلی  بأل من  ھذا الحرف، ص۳۵۲