Book Name:Meethay bol ki Barkatain

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

دُرُودِ پاک کی  فضیلت

          امیرِاہلسنّت، حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالے ’’برے خاتمے کے اسباب  ‘‘ میں بحوالہ ’’مَجْمَعُ الزَّوَائِد ‘‘  دُرُودِ پاک کی  فضیلت نقل فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم ، نورِ مجسمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ خوشبودار ہے: ’’جس نے مجھ پر سومرتبہ دُرُودِپاک پڑھا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اُس کی  دونوں آنکھوں کے درمیان لکھ دیتا ہے کہ یہ نِفاق اور جہنَّم کی  آگ سے آزاد ہے اور اُسے بروزِ قیامت شُہَداء کے ساتھ رکھے گا۔ ‘‘  (مجمع الزوائد،  ۱۰ / ۲۵۳،  حدیث: ۱۷۲۹۸)

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!            صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 {1} میٹھے بول کی  برکتیں

          باب المدینہ  (کراچی)  کے علاقے گلبہار نمبر 1 کے مقیم اسلامی بھائی بنام محمد احمد عطاری المدنی اپنی سابقہ گناہوں بھری زندگی کا تذکرہ اپنے مکتوب میں کچھ اس طرح کرتے ہیں : بد قسمتی سے جوانی کی  دہلیز پر قدم رکھتے ہی بُرے دوستوں کی  صحبت میں گِھر گیا اور ان کے ساتھ گھومنا پھرنا میرا روز کا معمول بن گیا۔ ’’صحبت اثر رکھتی ہے ‘‘  کے مصداق مجھ میں طرح طرح کی  برائیاں جنم لینے لگیں ،  ہر ایک سے لڑنا جھگڑنا اور اس دوران اسلحہ کا بے دریغ استعمال کرنا میری پہچانِ بد بن چکا تھا۔ لوگ اپنی جان کی  حفاظت کے لئے مجھ سے دور بھاگتے اور اپنے بچوں کو مجھ سے دور رہنے کی  نصیحت کرتے ۔ نماز پڑھنا تو دور کی  بات مجھے نماز پڑھنے کا طریقہ بھی نہ آتا تھا۔ میرے بُرے کرتوتوں نے مجھے کہیں کا نہ چھوڑا،  ہر شحص مجھ سے نفرت کرنے لگا اور گھر والے بھی مجھ سے تنگ آچکے تھے۔ رب عَزَّوَجَلَّ کی  رحمت سے میری اصلاح کا سامان کچھ اس طرح ہوا کہ ایک روز میں اپنے آوارہ اور بدکردار دوستوں کے ساتھ گلی میں بیٹھا ہوا تھا کہ اسی دوران سبز عمامہ سجائے،  نگاہیں جھکائے ایک باریش اسلامی بھائی کا وہاں سے گزر ہوا  (جو مدنی ماحول سے وابستہ ہمارے حلقہ مشاورت کے نگران تھے)  ہمیں خوش گپیوں میں مشغول دیکھ کر وہ ہمارے پاس تشریف لے آئے اور سلام و مصافحہ کرنے کے بعد ہمیں نیکی  کی  دعوت دینے لگے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ باعمل شخص کی  بات دِل پر جلد اثر کرتی ہے لہٰذا میرے دِل پر ان کی  باتوں کا بڑ اثر ہوا۔ پھر اس کے بعد جب کبھی میری ان سے ملاقات ہوتی وہ انفرادی کوشش کے ذریعے مجھے نماز پڑھنے کا ذہن دیتے اور بُری عادتوں کو ترک کرنے اور بُرے دوستوں سے بچنے کی  تلقین کرتے۔ بالآخر ان کی  مستقل انفرادی کوشش رنگ لے آئی،  میں نے پانچ وقت کی  نماز پڑھنا شروع کردی اور نیکی وں کی  طرف مائل ہونے لگا،  میرے جذبے کو دیکھ کر ان مبلغ اسلامی بھائی نے مزید انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے درس و بیان میں شرکت کرنے کی  دعوت دی اور ہفتہ وار اجتماع میں جانے کا ذہن دیا یوں درس وبیان کی  برکتیں سمیٹنے کے ساتھ ساتھ سنّتوں بھرے اجتماع کی  پُرکی ف فضاؤں میں بھی جا پہنچا،  یوں آہستہ آہستہ مدنی ماحول سے وابستہ ہوتا گیا اور اپنے محلے کی  مسجد میں درس دینے کی  سعادت بھی حاصل کرنے لگا۔ خوابِ غفلت سے بیداری نصیب ہوئی تو اپنے سابقہ گناہوں پر ندامت و شرمندگی ہوئی چنانچہ میں نے سابقہ تمام گناہوں سے توبہ کی  اور برے دوستوں سے ناطہ توڑ کر دعوتِ اسلامی کے پاکی زہ مدنی ماحول سے رشتہ جوڑ لیا نیز امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے بیعت ہوکر قادری عطاری سلسلے میں بھی داخل ہوگیا۔ مدَنی ماحول کی  مشکبار فضائیں کی ا ملیں میرے اندر نمایاں تبدیلیاں رونما ہونے لگیں ،  میرے اخلاق وکردار اچھے ہوگئے ،  بری خصلتیں رخصت ہوگئیں ،  پہلے لوگوں کو تنگ کرنا میرا مَشْغلہ تھا مگر اب ’’احترامِ مسلم  ‘‘  کے جذبے سے سرشار ہوگیا،  ہرایک سے پیار ومحبت سے پیش آنا،  بڑوں کا ادب اور چھوٹوں پر شفقت کرنا میرامعمول بن گیا،  میرے اس اندازِ زندگی کو دیکھ کر گھر کے تمام افراد اور علاقے کے لوگ حیران ہوتے کہ جس آوارہ لڑکے کو سُدھارنا ہمارے لئے بہت مشکل ہوگیا تھا مدَنی ماحول سے وابستہ اسلامی بھائیوں کے’’ میٹھے بول ‘‘  اوران کی  صحبت کی  برکت سے نہ صرف یہ سُدھر گیاہے بلکہ راہِ سنت پر بھی گامزن ہوگیا ہے۔ دعوتِ اسلامی کے عاشقانِ رسول کی  صحبت کی  بدولت جہاں مجھے ڈھیروں ڈھیر برکتیں نصیب ہوئیں وہیں میرے دِل میں حصولِ علمِ دین کی  تڑپ بھی پیدا ہوگئی چنانچہ اپنی علم کی  تشنگی بجھانے کے لیے میں نے جامعۃُ المدینہ کنز الایمان  



Total Pages: 10

Go To