Book Name:Sadaat e Kiram Ki Azmat

اِرشاد:دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ  1250صَفحات پر مشتمل کتاب بہارِ شریعت جلد اوّل صَفْحَہ52پر ہے: نبیوں کے مختلف درجے ہیں، بعض کو بعض پر فضیلت ہے اور سب میں افضل ہمارے آقا و مولیٰسَیِّدُالْمُرْسَلِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم ہیں،حضور(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم) کے بعد سب سے بڑا مرتبہ حضرت ابراہیمخَلِیْلُ اﷲ عَلَیْہِ السَّلَام  کا ہے،پھر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام، پھر حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام اور حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام کا، اِن حضرات کو مُرسلین اُولُو العزم(بلند وبا لا عزت و عظمت اور حوصلہ والے) کہتے ہیں اور یہ پانچوں حضرات باقی تمام انبیا و مُرسلین، اِنْس و مَلَک و جنّ و جمیع مخلوقاتِ الٰہی سے افضل ہیں۔

سب سے افضل اُمّت

عرض:کون سی اُمّت ساری اُمتوں سے افضل ہے؟نیز اس کی افضلیت کی وجہ بھی بیان فرما دیجیے ۔

اِرشاد: جس طرح حضور(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم)تمام رسولوں کے سردار اور سب سے افضل ہیں، بِلا تشبیہ حضور(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم)کے صدقہ میں حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم) کی اُمت تمام اُمتوں سے افضل۔ ([1])اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ!ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا دامنِ کرم ہمارے ہاتھوں میں آیا یقیناً ہمارے پیارے پیارے آقا ،مکی مدنی مصطفےٰصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتمام انبیائےکرامعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں سب سے افضل ہیں۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صدقے میں آپ کی اُمت بھی پچھلی تمام اُمتوں سے افضل ہے اور افضلیت کی وجہ ہر گز ہرگز یہ نہیں کہ اس اُمت میں کثرت سے سرمایہ دار ہوں گے ، اِن میں انجینئراور ڈاکٹرکثیر ہوں گے ،نہ ہی فضیلت کی یہ وجہ ہے کہ یہ جنگجو اور بہادر اور قوی ہوں گے یا یہ اِس لیے افضل ہیں کہ نہایت ہی چالاک و زِیرک ہوں گے بلکہ اِن کی افضلیت کی وجہ تو یہ ہے کہ یہ”اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر“یعنی نیکی کی دعوت دینے اور بُرائی سے منع کرنے کے اَہم مَنْصَب پر فائز ہیں چنانچہ پارہ 4،سورۂ آلِ عمران کی آیت نمبر110میں خدائے رحمٰنعَزَّ وَجَلَّ  کا فرمانِ عالیشان ہے :

كُنْتُمْ  خَیْرَ  اُمَّةٍ  اُخْرِجَتْ  لِلنَّاسِ   تَاْمُرُوْنَ  بِالْمَعْرُوْفِ  وَ  تَنْهَوْنَ عَنِ  الْمُنْكَرِ  وَ  تُؤْمِنُوْنَ  بِاللّٰهِؕ-

ترجمۂ کنزالایمان:تم بہتر ہو اُن سب اُمتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور بُرائی سے منع کرتے ہو  اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

اسآیتِ مبارکہ کے تحت تفسیرِخازن میں ہے:اس اُمَّت کو” اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر“کی بدولت دیگر تمام امتوں پر فضیلت دی گئی ہے اور اسی سبب سے یہ امت تمام امتوں میں سب سے بہترین امت ہے، پس ثابت ہواکہ اس امت کے بہترین ہونے کی وجہ اس کے  افراد کا نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا ہے ۔([2])اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ ہمیں اپنے اس منصبِ عالی کو سمجھنے  اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

                                                                                    مجھے تم ایسی دو ہمّت آقا

                                                                                     دوں سب کو نیکی کی دعوت آقا

                                                                                         بنا دو مجھ کو بھی نیک خصلت

نبیٔ رَحمت شفیعِ اُمّت                          (وسائلِ بخشش)

اُمتِ محمدیہ کے فضائل

عرض:اس اُمّت کے کچھ فضائل بھی  بیان فرمادیجیے ۔

ارشاد:مُفَسِّرِ شَہِیر،حَکِیمُ الْامُت حضرتِ مفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحمَۃُ الْمَنَّان مذکورہ آیتِ مُبارَکہ  کی تفسیرمیں فرماتے ہیں: حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اُمّت کے بے شمار فضائل ہیں،یہاں ان میں سےکچھ عرض کئے جاتے ہیں:(1)یہ اُمّت آخر اُمَمْ ہے،گزشتہ اُمتوں کے عُیُوب قرآنِ کریم میں بیان ہوئے،جس سے وہ ساری دُنیا میں بدنام ہوگئیں ،مگر اِس اُمّت کے بعد نہ کوئی نیا نبی آئے گا ،نہ کوئی آسمانی کتاب جس میں اِس کے عُیُوب بیان ہوں،غرضیکہ اس اُمّت کی پردہ پوشی کی گئی۔(2)پچھلی کُتُب میں اس اُمّت کے اَوصاف کا ذِکرتو تھا ان کے عُیُوب کا تذکرہ نہ تھا جس کے باعِث وہ لوگ اس اُمّت میں ہونے کی تمنّا کرتے تھے۔(3)جیسے ربّ تعالیٰ نے دیگر اَنبیائے کرام(عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام)کو نام لے کر پُکارا ہمارے حُضُورِانورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اَلْقاب سے،اسی طرح ان کی اُمتوں کونَسَبی ناموں سے پکارا گیا:) یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ ، یٰۤاَیُّہَا الَّذِیْنَ ہَادُوْٓا(وغیرہ مگر اس اُمّت کو) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا (کے دِلکش و پیارے خطاب سے نوازا گیا ۔(4)پچھلی اُمتیں اپنے نبیوں کے بعد ساری ہی گمراہ ہو جاتی تھیں مگر اِس اُمّت میں تا قیامت ایک فرقہ(سوادِ اعظم یعنی اہلسنّت وجماعت) حق پر رہے گا۔ (5)اِس اُمّت میں ہمیشہ اَولیاءُاللہ وعُلَمائے رَبّانی ہوتے رہیں گے،جس درخت کی جڑ ہری رہے اس میں پھل پھول آتے ہی رہتے ہیں۔(6)یہی اُمّت کل قیامت کے دِن بارگاہ ِ الٰہی میں گزشتہ نبیوں کی گواہی دے گی کہ خدایا !انہوں نے اپنی قوموں کو تبلیغ کی تھی ۔([3])

حضرتِ سیِّدُنا حُذَیفہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نُور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر،دو جہاں کے تاجْوَر،سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا : لوگوں پر ہمیں



[1]     بہارِشریعت،۱/۵۴،حصہ۱

[2]     تفسیرِ خازن،پ ۴،آل عمران،تحت الآیة:۱۱۰ ،۱/۲۸۹

[3]     تفسیرنعیمی،پ۴،آل عمران،تحت الآیۃ:۱۱۰،۴/۹۱



Total Pages: 7

Go To