Book Name:Sadaat e Kiram Ki Azmat

سادات کرام ملاحظہ فرمائیے،چنانچہ حیاتِ اعلیٰ حضرت میں ہے:جناب سیِّد ایُّوب علی صاحِب(رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ) کا بیان ہے:ایک کم عُمر صاحِبزادے خانہ داری کے کاموں میں اِمداد کے لیے(اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کے)کاشانۂ اقدس میں ملازِم ہوئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ سیِّد زادے ہیں لہٰذا(اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتنے)گھر والوں کو تاکید فرما دی کہ صاحِبزادے صاحب  سے خبر دار کوئی کام نہ لیا جائے کہ مخدوم زادہ ہیں(یعنی پیارے آقاصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرزندِ ارجمند ہیں ان سے خدمت نہیں لینی بلکہ ان کی خدمت کرنی ہے لہٰذا) کھانا وغیرہ اور جس شے کی ضَرورت ہو (ان کی خدمت میں)حاضِر کی جائے ۔جس تنخواہ کا وعدہ ہے وہ بطورِ نذرانہ پیش ہوتا  رہے،چُنانچِہ حسبُ الْاِرشاد تعمیل ہوتی رہی۔کچھ عرصہ کے بعد وہ صاحِبزادے خود ہی تشریف لے گئے۔ ([1]) اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی ان پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم 

سیِّد کے نسب کا ثبوت

عرض:اگر کسی کے سیِّد ہونے کا ثبوت نہ ہو تو کیا اس کی  بھی تعظیم کی جائے گی ؟

اِرشاد: تعظیم کے لیے نہ یقین دَرْکارہے اور  نہ ہی کسی خاص سند کی حاجت لہٰذا جو لوگ سادات کہلاتے ہیں ان کی تعظیم کرنی چاہیے،ان کے حَسَب و نَسَب کی تحقیق میں پڑنے کی حاجت نہیں اور نہ ہی ہمیں اس کا حکم دیا گیا ہے۔ اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتسے ساداتِ کرام سے سیِّدہونے کی سند طلب کرنے اور نہ ملنے پر بُرا بھلا کہنے والے شخص کے بارے میں اِستفسار  ہوا تو آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے جواباً اِرشاد فرمایا:فقیر بارہافتویٰ دے چکا ہے کہ کسی کو سید سمجھنے اور اس کی تعظیم کرنے کے لیے ہمیں اپنے ذاتی علم سے اسے سید جاننا ضروری نہیں، جو لوگ سید کہلائے جاتے ہیں ہم ان کی تعظیم کریں گے، ہمیں تحقیقات کی حاجت نہیں، نہ سیادت کی سند مانگنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے اورخواہی نخواہی سند دِکھانے پر مجبور کرنا اور نہ دکھائیں تو بُرا کہنا،مَطْعُون کرنا ہر گز جائز نہیں۔اَلنَّاسُ اُمَنَاءُ عَلٰی اَنْسَابِھِم(لوگ اپنے نسب پر امین ہیں )۔ ہاں جس کی نسبت ہمیں خوب تحقیق معلوم ہو کہ یہ سید نہیں اور  وہ سید بنے اس کی ہم تعظیم نہ کرینگے،نہ اسے سید کہیں گے اور مناسب ہو گا کہ ناواقفوں کو اس کے فریب سے مُطَّلع کر دیا جائے۔ میرے خیال میں ایک حکایت ہے جس پرمیرا عمل ہے کہ ایک شخص کسی سیِّد سے اُلجھا،انہوں نے فرمایا:میں سید ہوں،کہا: کیا سند ہے تمہارے سید ہونے کی؟ رات کو زیارتِ اَقدس سے مشرف ہوا کہ معرکۂ حشر ہے،یہ شفاعت خواہ ہوا، اِعراض فرمایا۔اس نے عرض کی: میں بھی حضور کا اُمتی ہوں۔ فرمایا: کیا سند ہے تیرے اُمتی ہونے کی؟([2])

غیرِ سیِّد ، سیِّد ہونے کا دعویٰ کرے تو؟

عرض:اگر کوئی  شخص سیِّد نہ ہو اورسیِّد ہونے کا دعویٰ کرے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

اِرشاد: جو واقع میں سیِّد نہ ہو اور دِیدہ ودِانستہ(جان بوجھ کر ) سید بنتا ہو وہ ملعون(لعنت کیا گیا) ہے، نہ اس کا فرض قبول ہو نہ نفل۔رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں:جو کوئی اپنے باپ کے سِوا کسی دوسرے یا کسی غیر والی کی طرف منسوب ہونےکا دعویٰ کرے تو اس پر اللّٰہتعالیٰ،فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے اللّٰہتعالیٰ قیامت کے دن اس کا نہ کوئی فرض قبول فرمائے گا اور نہ ہی کوئی نفل۔ ([3])مگر یہ اس کا مُعامَلہ اللہ    عَزَّ   وَجَلَّ  کے یہاں ہے ، ہم بِلادلیل تکذیب نہیں کر سکتے، اَلْبَتَّہ ہمارے علم(میں) تحقیق طور پر معلوم ہے کہ یہ سیِّد نہ تھا اور اب سیِّد بن بیٹھا تو اُسے ہم بھی فاسِق ومُرتکبِ کبیرہ ومستحق لعنت جانیں گے۔([4])

بد مذ ہب سیِّد کا حکم

عرض:اگر کوئی بدمذہب سیِّد ہونے کا دعویٰ کرے تو کیا اس کی بھی تعظیم وتکریم  کی جائے گی ؟

اِرشاد: اگر کوئی بد مذہب سیِّد ہونے کا دعویٰ کرے اور اُس کی بدمذہبی حدِّ کفر تک پَہُنچ چکی ہو تو ہرگزاس کی تعظیم نہ کی جائے گی۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت،مجدِّدِ دین وملت مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: ساداتِ کرام کی تعظیم ہمیشہ (کی جائے گی )جب تک ان کی بدمذہبی حدِّ کفر کو نہ پَہُنچے کہ اس کے بعد وہ سیِّد ہی نہیں،نسب مُنْقَطَع ہے۔ اللہ  عَزَّوَجَلَّقرآنِ پاک میں اِرشاد فرماتا ہے:) قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَۚ-اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ ﲦ) ( پ۱۲، ھُود:۴۶) ترجَمۂ کنز الایمان:فرمایا! اے نوح ! وہ(یعنی تیرابیٹا کنعان)تیرے گھر والوں میں نہیں بے شک اس کے کام بڑے نالائق ہیں۔“بدمذہب جن کی بد مذہبی حدِّ کفر کو پَہُنچ جائے اگرچہ سیِّد مشہور ہوں نہ سیِّد ہیں،نہ اِن کی تعظیم حلال بلکہ توہین و تکفیر فرض۔([5]) صَدرُالْافاضِل حضرتِ علامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدِّین مُراد آبادیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِ الْہَادِی مذکورہ بالا آیتِ کریمہ کے تحت فرماتے ہیں:اس سے ثابت ہوا کہ نَسْبی قَرابت سے دِینی قَرابت زیادہ قوی ہے ۔([6] )

سرکارعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد سب سے اَفضل

عرض:سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد سب سے اَفضل کون ہے؟

 



[1]     حیاتِ اعلیٰ حضرت،۱/۱۷۹

[2]     فتاویٰ رضویہ،۲۹/۵۸۷۸۸

[3]     مُسلِم،کتاب الحج،باب  فضل المدینة...الخ ،ص۷۱۲،حدیث:۱۳۷۰

[4]     فتاویٰ رضویہ،۲۳/۱۹۸

[5]     فتاویٰ رضویہ،۲۲/۴۲۱ مُلخّصاً

[6]     خَزائنُ العِرفان،پ ۱۲،ھود،تحت الآیۃ:۴۶



Total Pages: 7

Go To