Book Name:Sadaat e Kiram Ki Azmat

حضرتِسیِّدُنا علامہ قاضی عیاض مالکی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِیفرماتے ہیں: سرکارِ مدینہ،راحتِ قلب و سینہ،باعثِ نُزولِ سکینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تعظیم وتوقیر میں سے یہ بھی ہے کہ وہ تمام چیزیں جو حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے نسبت رکھتی ہیں ان کی تعظیم کی جائے اور مکۂ مکرمہ و مدینۂ منورہزَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کے جن مقامات کوآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مشرف فرمایا ان کا بھی ادب واحترام کیا جائے اور جن جگہوں میں آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے  قیام فرمایا اور وہ ساری چیزیں جن کو آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے چھوا یا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے ساتھ مشہور ہو گئیں ان سب کی تعظیم وتکریم کی جائے۔ ([1])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کون ساایسا مسلمان ہے جس کے دِل میں مدینۂ منوّرہزَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کی محبت و عظمت نہ ہو،جو شب وروز اس دیارِ حبیب کے فراق میں مچلتا نہ ہو، جس کی آنکھیں اس شہر کے درو دِیوار کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بےتاب واَشکبار نہ رہتی ہوں،جب پیارے آقاصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نسبت کے سبب ایک مسلمان کے دِل میں مدینۂ منورہزَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کے درو دِیوار،کوچہ و بازار،صحرا وکُہسار کا یہ مقام ہے توپیارے محبوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جگر کے ٹکڑوں یعنی سیّدزادوں کا کیا مقام ہوگا؟

ہم کو سارے سیِّدوں سے پیار ہے

اِنْ شَآءَ اللہ اپنا بیڑا پار ہے

عظمتِ ساداتِ کرام اور امام احمد رضا خان

عرض:اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت  کے ساداتِ کرام کی تعظیم وتوقیر کرنے  کا کوئی واقعہ ارشاد فرما دیجیے ۔

اِرشاد:میرے آقا اعلیٰ حضرت ،امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کو ساداتِ کرام سے بے حد عقیدت  ومحبت تھی اور یہ عقیدت و محبت صرف زبانی کلامی نہ تھی بلکہ آپ دل کی گہرائیوں سے ساداتِ کرام سے محبت فرماتے اور اگر کبھی لاشعوری میں کوئی تقصیر واقع ہو جاتی تو ایسے انوکھے طریقے سے اس کا اِزالہ فرماتےکہ دیکھنے سننے والے  وَرْطَۂ حیرت میں ڈوب جاتے  چنانچہ اِس ضمن میں ایک واقعہ پیشِ خدمت ہے:مدینۃُ المرشد بریلی شریف کے کسی محلہ میں میرے آقا اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن مَدْعُوتھے۔ اِرادت مندوں نے اپنے یہاں لانے کے لئے پالکی کا اِہتمام کیا۔ چُنانچِہ آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سُوار ہو گئے اور چار مزدور پالکی کو اپنے کندھوں پر اُٹھا کر چل دیئے ۔ ابھی تھوڑی ہی دُور گئے تھے کہ یکایک امامِ اہلسنّتعَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت نے پالکی میں سے آواز دی: ”پالکی روک دو۔“پالکی رُک گئی۔آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فوراً باہر تشریف لائے اور بھرّائی ہوئی آواز میں مزدورو ں سے فرمایا: سچ سچ بتائیں آپ میں سیِّد زادہ کون ہے؟کیونکہ میرا ذَوقِ ایمان سرورِ دوجہاںصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خُوشبو محسوس کر رہا ہے۔ ایک مزدور نے آگے بڑھ کر عرض کی : حُضُور! مَیں سیِّد ہوں۔ ابھی اس کی بات مکمّل بھی نہ ہونے پائی تھی کہ عالمِ اِسلام کے مقتدر پیشوا اور اپنے وقت کے عظیم مجدِّد اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتنے اپنا عِمامہ شریف اس سیِّد زادے کے قدموں میں رکھ دیا۔ امامِ اہلسنّتعَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کی آنکھوں سے ٹَپ ٹَپ آنسو گر رہے ہیں اور ہاتھ جوڑ کر اِلتِجا کر رہے ہیں ،معزز شہزادے ! میری گستاخی مُعاف کر دیجئے،بے خیالی میں مجھ سے بھول ہوگئی ، ہائے غضب ہو گیا ! جن کی نعلِ پاک میرے سر کا تاجِ عزّت ہے، اُن کے کاندھے پر میں نے سُواری کی،اگر بروزِقیامت تاجدارِ رسالتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پوچھ لیا کہ احمد رَضا ! کیا میرے فرزند کا دوشِ ناز نین اس لئے تھا کہ وہ تیر ی سُواری کا بوجھ اُٹھائے تو میں کیا جواب دو ں گا ! اُس وقت میدانِ مَحشرمیں میرے ناموسِ عشق کی کتنی زبردست رُسوائی ہوگی۔کئی بار زَبان سے مُعاف کر دینے کا اِقرار کروا لینے کے بعد امامِ اہلسنّتعَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتنے آخِری اِلتجائے شوق پیش کی،محترم شہزادے ! اس لاشُعوری میں ہونے والی خطا کا کفّارہ جبھی اَدا ہوگا کہ اب آپ پالکی میں سُوار ہوں گے اور میں پالکی کوکاندھا دوں گا۔ اِس اِلتجاپر لوگوں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور بعض کی تو چیخیں بھی بُلند ہوگئیں۔ہزار اِنکار کے بعد آخرِکا ر مزدو ر شہزادے کو پالکی میں سُوار ہونا ہی پڑا ۔ یہ منظر کس قدر دِل سوز ہے ، اہلسنّت کا جلیلُ الْقَدْر امام مزدوروں میں شامل ہو کر اپنی خداداد عِلمیّت اور عالمگیر شُہرت کا سارا اِعزاز خوشنودیٔ محبوب کی خاطر ایک گُمنام مزدور شہزادے کے قدموں پر نثار کر رہا ہے۔([2])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت  نے لاشُعوری میں ہوجانے والی خطا کی نہ صرف معافی چاہی بلکہ تعظیمِ سادات کی خاطر اپنے مقام ومرتبے کی پرواہ کیے بغیر کہاروں میں شامل ہوکر اس سیِّد زادے کی پالکی بھی اپنے کندھوں  پر اُٹھائی۔سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! جن کی اُلفتِ آلِ رسُول کی یہ حالت ہو اُن کے عشقِ رسُول کا کیا عالَم ہوگا ؟

ساداتِ کرام کو ملازم  رکھنا کیسا؟

عرض: ساداتِ کرام  کو ملازم  رکھنا کیسا ہے ؟

اِرشاد:ساداتِ کرام کو ایسے کام پر ملازم رکھا جا سکتا ہے  جس میں ذِلَّت نہ  پائی جاتی ہو البتہ ذِلَّت والے کاموں میں انہیں ملازم رکھنا جائز نہیں۔میرے آقااعلیٰ حضر ت ،اِمامِ اَہلسنّت مولاناشاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کی بارگاہ میں سوال ہوا کہ ” سید کے لڑکے سے جب شاگر ہو یا ملازم ہو دینی یا دنیاوی خدمت لینا اور اس کو مارنا جائز ہے یانہیں؟ توآپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے جواباً ارشاد فرمایا :ذلیل خدمت اس سے لینا جائز نہیں۔ نہ ایسی خدمت پر اسے ملازم رکھنا جائز اور جس خدمت میں ذِلَّت نہیں اس پر ملازم رکھ سکتاہے۔بحالِ شاگرد بھی جہاں تک عُرف اورمعروف ہو(خدمت لینا) شرعاً جائز ہے لے سکتا ہے اور اسے(یعنی سید کو ) مارنے سے مُطلَق اِحتراز(یعنی بالکل پرہیز) کرے۔([3])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہواکہ  ساداتِ کرام کو ذِلَّت والے کاموں میں ملازم رکھنے اور انہیں مارنے کی اجازت نہیں۔اِس ضمن میں اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کی احتیاط اور عظمتِ



[1]     اَلشِّفا،الباب الثالث فی تعظیم امرہ،فصل ومن اِعظامہٖ...الخ،ص۵۶،الجزء:۲

[2]     اَنوارِرضا ،ص٤١٥

[3]     فتاویٰ رضویہ ،۲۲/۵۶۸



Total Pages: 7

Go To