Book Name:Sadaat e Kiram Ki Azmat

اِلیاس! کیاتیرا پیشاب اُٹھانے کے لیے میرا بیٹاہی رہ گیا تھا؟ تو اُس وقت میں کیا جواب دوں گا؟سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ساداتِ کرام کی نسبت اور ان کی محبت کی وجہ سے سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا کونسااُمتی اور ساداتِ کرام کا خادِم ایسا کرنا گوارا کرے گا؟ساداتِ کرام سے عقیدت ومحبت رکھنا اور ان کا ادب و احترام بجا لاناانتہائی ضروری ہے۔

حضرتِسیِّدُنااِمام شہاب الدِّین احمد بن محمدقسطلانیقُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِینقل فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا امام طبریعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِینے فرمایا:اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے تمام اَہلبیتِ عظام اور ان کی  ذُرِّیت (یعنی اولاد) کی محبت فرض فرمادی ہے ۔([1]) اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ ہمیں ساداتِ کرام کی سچی پکی محبت نصیب فرمائے اور ان  کا ادب واحترام کرنے کی توفیق عطا  فرمائے ۔اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ([2])

ساداتِ کرام کی عظمت

عرض:بعض لوگ ساداتِ کرام کے بارے میں بدگوئی شروع کردیتے ہیں، ایسوں کے بارے میں آپ کیا اِرشاد فرماتے ہیں؟

اِرشاد: غیبت تو ہرمسلمان کی حرام ہے چہ جائیکہ ساداتِ کرام کی ہو۔ ساداتِ کرام کی بدگوئی ومخالفت کرتے وقت یہ بات ذِہن نشین فرما لیا کریں کہ آپ جس کو سیِّد یعنی رسُولِ پاک،صاحبِ لَولاک،سیّاحِ اَفلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا بیٹا تسلیم کر رہے ہیں اب اُسی آقا زادے کی بدگوئی بھی کر رہے ہیں!اگر رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ناراض ہو گئے تو کیاکریں گے؟اس ضمن میں ایک حکایت ملاحظہ فرمائیے اور ساداتِ کرام کی بدگوئی سے بچتے ہوئے ان کاادب واحترام بجا لائیے چنانچہ ایک بار حضرتِ سیِّدُنا عبدُاللہ بن مبارَکرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کہیں تشریف لیے جا رہے تھے کہ ایک نادارسیّد زادے نے کہا:آپ کا تو خوب ٹھاٹھ ہے اور میں سیِّد زادہ ہونے کے باوجود کم مرتبہ ہوں۔اِس پر آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اِرشاد فرمایا:آپ کے نانا جان بے شک سُلطانِ دوجہان،رحمتِ عالمیانصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہیں جبکہ میرے باپ دادا کاکوئی مقام نہیں تھا۔ میں نے آپ کے نانا جان،رحمتِ عالمِیانصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پیروی کی اور عزّت پائی مگر آپ میرے باپ داداکی پیروی کرکے رُسوا ہو گئے۔ اُسی رات حضرتِ سیِّدُنا عبدُاللہ بن مبارَکرَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہنے خواب میں جنابِ رسالتِ مآبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زِیارت کی۔ سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ناراض پاکر ہوش اُڑگئے، گھبراکر ناراض ہونے کا سبب دریافت کیا،اِرشاد ہوا:”تونے میری اَولاد کی عیب پوشی کیوں نہیں کی؟“چُنانچِہ صُبح بیدار ہوکر آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اس سیِّدزادے کی تلاش میں نکل پڑے، اُدھر اِن سیّد زادے نے بھی رات خواب میں اپنے ناناجان،رحمتِ عالمیانصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زِیارت کی سعادت حاصل کی۔سرکارِ مدینہ،قرارِ قلب وسینہ،باعثِ نُزولِ سکینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرمارہے تھے: ”اگر تیرے اَعمال دُرُست ہوتے تو عبدُاللہ تیری توہین کیوں کرتا۔“چُنانچِہ سیِّد صاحِب بھی صُبح بیدار ہوکر آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی تلاش میں نکل پڑے تھے۔ ایک مقام پر دونوں حضرات کی اتفاقاً ملاقات ہو گئی ، دونوں نے اپنے اپنے خواب سنائے اور ایک دوسرے سے مُعافی چاہی۔وہ سیِّد صاحِب بھی تائب ہوکر سُنّتوں بھری زندگی گزارنے پرکمر بستہ ہوگئے۔([3]) بَہَر حال ہمیں ساداتِ کرام کا ادب واحترام کرتے ہوئے ان کے ساتھ حُسنِ سُلوک کا ہی مظاہرہ کرنا چاہیے،اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کی برکت سے دنیاوآخرت کی بیشمار بھلائیاں نصیب ہوں گی۔

ساداتِ کرام کی تعظیم وتکریم کی وجہ

عرض:ساداتِ کرام کی اس قدر تعظیم وتکریم کی کیا وجہ ہے؟

اِرشاد:ساداتِ کرام کی تعظیم وتکریم کی اَصل وجہ یہی ہے کہ یہ حضرات رسُولِ کائنات،شہنشاہِ موجوداتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جسمِ اَطہر کا ٹکڑا  ہیں۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰنفتاویٰ رضویہ جلد 22 صَفْحَہ 423 پر فرماتے ہیں:سیِّد سُنّی المذہب کی تعظیم لازِم ہے اگر چِہ اس کے اَعمال کیسے ہی ہوں، اُن اَعمال کے سبب اُس سےتنفر نہ کیا ( یعنی نفر ت نہ کی )جائے،نفسِ اَعمال سےتنفر(یعنی فقط اس کی بُرائیوں سے نفرت)ہو۔ ساداتِ کرام کی اِنتہائے نَسب حُضُور سیِّدِ عالمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم پر ہے،(یعنی ان کے جدِّ اعلیٰ تو مکّی مَدَنی مصطفٰےصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہیں!) اس فضلِ اِنتِساب (نسبت کی فضیلت) کی تعظیم(عام سے مسلمان تو کیا)ہرمُتَّقِی پر(بھی)فرض ہے(کیوں)کہ وہ اس(سیِّدصاحب)کی تعظیم نہیں (بلکہ خود)حُضُورِ اَقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکی تعظیم ہے۔([4])

 



[1]     مَواھبُ اللَّدُنية ،المقصد السابع،الفصل الثالث فی ذکر محبة اصحابہ...الخ،۲/۵۲۷

[2]    شیخِ طریقت،امیرِاہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائیدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہحضراتِ ساداتِ کرام سے بے پناہ محبت فرماتے ہیں اور ان کی تعظیم و توقیر بجا لا نے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ دورانِ ملاقات اگر آپ کو بتا دیا جا ئے یہ سیِّد صاحب ہیں تو بارہا  دیکھا گیا ہے کہ آپ خود عُلُو مرتبت ہو نے کے با جو د نہا یت ہی عا جزی کے سا تھ سیِّد زا دے کے ہاتھ چُوم لیا کرتے ہیں۔ ساداتِ کرام کے بچوں سے اِنتہا ئی محبت اور شفقت کرنا یہ آپ ہی کا طُرَّہ ٔ اِمتیاز ہے با رہا ایسا بھی ہوا ہے کہ ان کے ننھے منّے قدموں کو اپنے سر پر لیتے ہیں۔آپدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہاس بات کو خلافِ اَدَب سمجھتے ہیں کہ سیِّد زادوں کی طرف پاؤں پھیلا ئے جا ئیں یا ان کی طرف پیٹھ کی جائے۔آپدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکو اکثر اوقات محا فل میں لو گ مَسْند پر بٹھا تے ہیں تو با رہا یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ آپدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہبے قرار ہو کر فرماتے ہیں آپ لو گ مجھے مَسْند پر بٹھا دیتے ہیں حالا نکہ معززساداتِ کرام نیچے بیٹھے ہیں ۔کبھی کبھی یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب بے قراری بڑھ جا تی ہے تو آپدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ مَسْند چھوڑ دیتے ہیں اور معذرت کر لیتے ہیں کہ یہ اچھا نہیں لگ رہا کہ ساداتِ کرام نیچے ہو ں اور میں غلام اُوپر۔کبھی کبھی کسی سیِّد زادے کو دیکھ کر اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کا یہ شعر جھوم جھوم کر پڑھنے لگتے ہیں   ؎

تیری نسلِ پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا

تُو ہے عینِ نور تیرا سب گھرانہ نور کا

[3]     تذکرة الاولیاء،باب پانزدھم،ذکرعبداللّٰہ  بن  مبارک، ص۱۷۰،الجزء:۱  ماخوذاً

[4]     فتاویٰ رضویہ ،۲۲/۴۲۳  ملتقطاً



Total Pages: 7

Go To