Book Name:Wilayat ka Aasan Rasta: Tasawwur-e-Shaikh

پڑھے یا کھڑے ہوکر ،  صبح پڑھے یا شام، گھرمیں   پڑھے یا باہر ،  نماز سے پہلے پڑھے یا بعد ،  اذان سے پہلے پڑھے یا بعد،  آہستہ پڑھے یا بلند آواز سے ، تنہا پڑھے یا دوسروں   کے ساتھ جمع ہوکر ،  شریعت نے درود پڑھنے کو کسی خاص صورت کے ساتھ مقید نہیں   کیا،  لہٰذ ا شریعت نے حکم مطلق رکھا اور قید نہیں   لگائی تو وہابیوں   دیوبندیوں   اور تبلیغیوں   کا قید لگا نا ناجائز اور با طل و مردود ہے ۔

(7)بدعت کی وہابیا نہ تعریف و تفسیر کہ ’’جو بات زمانہ اقدس نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم میں   نہ تھی یا جو کام صحابہ نے نہ کیا یا جو کچھ قرونِ ثلاثہ (زمانہ نبوی ،  صحابہ ،  تابعین ) میں   نہ تھا وہ بدعت ہے ‘‘جب کہ ان سب وہابیوں   نے مختلف الفاظ و انداز میں   یہی تعریف کی ہے تویہ تعریفیں   سب باطل اورجھوٹی ہیں   ۔

بد عت  کی  تعر یف:

(8) بدعت کی دو اعتبار سے تعریفیں   ہیں  :

            (۱)  ہر وہ کام جو نبی کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے زمانے میں   نہ تھا وہ بدعت یعنی نئی چیز ہے اس تعریف کو لیں   تو حدیث: ((کُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلاَلَۃٌ))  (’’ہربدعت گمراہی ہے۔‘‘) عام نہیں   بلکہ ایسا عام ہے جس سے بعض صورتوں   کومُسْتَثنْی قراردیا گیاہے کیوں   کہ مدارسِ دِیْنِیَّہ ،  کتب ِحدیث ،  جمعِ قرآن ہزارہا طریقے اس تعریف کے مطابق بدعت تو ہیں   مگر گمراہی نہیں   بلکہ بہت اچھے ہیں  ،  معلوم ہوا کہ حدیث میں  وہ عموم ہے جن میں   بہت سی صورتوں   کو مُسْتَثنْی قرار دیاگیا ہے۔

            (۲) بدعت کی دوسری تعریف ہے:

ما أحدث علی خلاف الحق الملتقی عن رسول اللّٰہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔

ترجمہ:’’ہر وہ چیز جو نبی کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم سے ملنے والے حق کے خلاف ایجاد کی جا ئے ۔‘‘

            اگر یہ تعریف لیں   تو اس میں   کسی کام کا استثناء نہیں   کیونکہ ہر وہ طریقہ جو نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے طریقے کے خلاف ہو وہ باطل ہے ۔

پہلی تعریف کو لغوی اور دوسری تعریف کو شرعی کہتے ہیں   وہابیوں   نے عجیب کھچڑی پکائی کہ آدھی تعریف تو پہلی لے لی کہ ہرنئی چیز بدعت ہے اور حکم نیچے سے لے لیا کہ ہر نئی چیز ناجائز ہے، یہ خاص ایجاد اِنہی نجدی حضرات کی ہے جس پر شریعت سے بالکل کوئی دلیل نہیں   اور جس کی بنا پر شاہ عبد العزیز اور شاہ وَلِیُّ اللّٰہصاحب سے ہزار برس تک کے شریعت کے امام اور طریقت کے سردار یا ہزاروں   تابعین بلکہ سینکڑوں   صحابہ بھی مَعَاذَاللّٰہبدعتی و گمراہ قرار پاتے ہیں  ،  اور ان وہابیوں   میں   سے بعض جری بیباکوں   مثلاً صدیق حسن خان بھوپالی وغیرہ نے صحابہ وتابعین کو گمراہ قراردیا ہے اور وہ بھی کسے! خاص امیر المؤمنین، غَیْظُ الْمُنَافِقِیْن عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بارے میں  :

وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠(۲۲۷)

’’اور عنقریب جان لیں   گے ظالم کہ کس کروٹ پلٹتے ہیں   ۔‘‘

(9) کسی چیز کے مَنْقُول نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں   کہ اس شے کانہ ہونا منقول ہوگیا (تفصیل پہلے گزرگئی)۔

(10) نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا کسی فعل کونہ کرنا اس کے ناجائز ہونے کی دلیل نہیں   جیسے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمنے حدیث کاکوئی مجموعہ خود نہ لکھا یا کوئی بلند وبالاعمارت اپنے رہنے کے لئے نہیں   بنائی تو یہ ناجائز ہونے کی دلیل نہیں  ، نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی پیروی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکے منع فرمانے میں   ہے نہ کرنے میں   نہیں   ۔

(11) یہ جاہلانہ دھوکہ کہ اس طریقے میں   کوئی بھلائی ہوتی تو صحابہ ہی کرتے تم کیا ان سے زیادہ دین کی سمجھ رکھتے ہو، محض بے ہودہ اور ناقابلِ سماعت ہے،  مثلاً صحابہ کرام نے باقاعدہ مَدارِس نہ بنائے تو بعد والوں   کے لئے منع نہیں   ہوگئے اور بعد والے مدارس بناکر ان سے زیادہ سمجھدار نہ ہوگئے ۔

(12)اولیائے کرام  رَحِمَہُمُ اللّٰہ مسلمانوں   کی بھلائی کے لئے شرع کے مطابق جو اِیجادات کرتے ہیں   وہ لائق ِمدح اور مقبول ہیں   ۔

(13) اولیائے کرام  اَہْلُ الذِّکْرہیں   دوسروں   کو ان پر اعتراض کاحق نہیں   بلکہ اُن کی طرف رجوع کرنا اور جو وہ فرمائیں   اس پر عمل کرنا چاہیے۔

(14)کفار کے وہ طریقے جو اُن کاخاص مذہبی طریقہ نہیں  اُس میں   اگر ان سے اتفاقاً مشابہَت ہوجائے تو ہرگز یہ ممانَعت کی وجہ نہیں   ورنہ حبس دَم (سانس روکنا) جو کہ ہندوجوگیوں   کا مشہور طریقہ ہے یہ ممنوع ہوتا حالانکہ شاہ عبدالعزیزنے اسے جائز قرار دیاہے ۔

(15) آیت ِکریمہ: { فَسْــٴَـلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ }(پ۱۴،  النحل: ۴۳)تقلید کے واجب ہونے میں  نص ہے،  ’’اَہْلِ ذِکْر‘‘سے یہودیوں   کے علماء مراد لیکر اس کو تقلید کی بحث سے بیگانہ بتانا غیر مقلد وہابیوں   کی نری جہالت ہے، اعتبار لفظ کے عموم کا ہوتا ہے خاص سبب کا نہیں  ،  اس کے علاوہ بھی شاہ عبدالعزیز صاحب کی عبارت سے بہت سے فوائد ماہر آدمی نکال سکتا ہے‘‘،  شاہ صاحب کی یہ نفیس عبارت کس قدر قابلِ قدرومنزلت ہے کہ چند حرفوں   میں   کتنے نفیس فائدے بتاگئے اور آدھی بلکہ دوتہائی وہابیت کو خاک میں   ملاگئے۔  وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔

            {13}اب پھر عبارات کے شمار کی طرف چلئے ۱۲ ؎  خاندانِ دہلی کے آقائے نعمت وخداوند ِدولت ومَرْجَع ومُنْتَہی ومَفْرَغ ومَلْجا(جائے پناہ) جناب شیخ مجدد الف ثانی اپنے ’’مکتوبات‘‘ کی جلد اول میں   فرماتے ہیں  : 

ہیچ طریقے اقرب بوصول از طریقِ رابطہ نیست تاکدام دولتمند را بآں   سعادت مستسعد سازند۔

’’اللّٰہتعالیٰ کی بارگاہ تک پہنچنے کے لئے تصوّرِ شیخ سے زیادہ قریبی راستہ اور کوئی نہیں   (خلاصہ)۔

            {14}نیز ’’مکتوبات‘‘ ۱۳ ؎   میں   ہی ہے:

مخدوما مقصد اقصی ومطلب اسنی وصول بجناب قُدِّسَ سِرُّہ خداوندی ست جَلَّ سُلْطَانُہ  لیکن چوں   طالب در ابتداء بواسطۂ  تعلقات شتّی درکمال تدنس وتنزل ست وجنابِ



Total Pages: 27

Go To