Book Name:Wilayat ka Aasan Rasta: Tasawwur-e-Shaikh

مولوی خر م علی بلہوری اپنے ترجمے کے ساتھ اسے نقل کرکے کہتے ہیں  : ’’ یعنی ایسے اُمور کو مخالف ِشرع(خلافِ شریعت) یا داخلِ بدعاتِ  سَیِّئَہ نہ سمجھنا چاہیے جیسا کہ بعضے کم فہم سمجھتے ہیں   ۔ ‘‘

            {4} مرزامظہر جانِ جاناں   صاحب (جنہیں   شاہ   وَلِیُّ اللّٰہصاحب نے اپنے ’’مکتوبات‘‘ میں   نَفْسِ زَکِیَّہ ،  قیم ِطریقہ احمدیہ وداعیِ سنّتِ نبویہ ومُتَجَلِّی باَنواعِ فضائل وفَواضِل کہا) اپنے ’’مکتوبات‘‘ میں   لکھتے ہیں  :

مراقبات باطوار معمولہ کہ درقرون متأخرہ رواج یافتہ ازکتاب وسنت ماخوذ نیست بلکہ حضراتِ مشائخ بطریق الہام واعلام از مبدء فیاض اخذ نمودہ اند شرع ازاں   ساکت ست وداخل دائراۂِ اباحت۔

ترجمہ: ’’مخصوص طریقوں   سے کئے جانے والے مراقبات جو بعد کے زمانے میں   رواج پکڑگئے ہیں   کتاب و سنت سے ماخوذنہیں   ہیں   بلکہ مشائخ کرام نے اللّٰہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کی طرف سے الہام اور اِعلام (بتانے) کے ذریعے سے اختیار کئے ہیں  ،  شریعت ان معمولات ووظائف کے بارے میں   خاموش ہے اوریہ مراقبات اِباحت(جواز) کے دائرے میں   داخل ہیں   ‘‘

            {5}اِنہیں   مرزا مظہر جانِ جاناں   کے ’’ملفوظات‘‘ میں   ہے:

حضرت مجدد رَضِیَ اللّٰہُ  تَعَالٰی عَنْہُ طریقۂ نو بیان نمودہ اند۔

’’حضرت مجدد الف ثانی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے نیا طریقہ بیان فرمایاہے۔‘‘

             اُسی میں   ہے: 

حضرت شاہ ولی اﷲ محدثرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ طریقۂ جدیدہ بیان نمودہ اند۔

’’حضرت شاہ   وَلِیُّ اللّٰہ نے جدید طریقہ بیان فرمایا ہے ۔‘‘

            اب ان حوالوں   کو یاد رکھئے اور دیکھیں   کہ وہابیت کے پورے توجب ہیں   کہ آنکھیں   بند کرکے اپنے ان بزرگوں   کو بھی بدعتی کہہ بھاگیں   ورنہ یہ تو سراسر ظلم و ستم اور سینہ زوری ہے کہ بڑے بڑے محبوبانِ خدا جو کئی صدیوں   سے یہ افعال کرتے چلے آرہے ہیں   وہ سب مَعَاذَ اللّٰہ بدعت ایجاد کرنے کے مجرم اور ایرے غیرے ٹھہرائے جائیں   اور جن کے ہم نے حوالے دیے ہیں   ان پر کوئی آنچ اس وجہ سے نہ آئے کہ ان کا تعلق اسمٰعیل دہلوی کے ساتھ بنتا ہے،  یہ دین تونہ ہوا دِھینگا مُشتی ہوئی ، اے حضرت! یہ سب تو ایک طرف رہا اب ذرا اِمام ُالطَّائِفَہ اسمعیل دہلوی کی خبر لیجئے وہ سرِبازار اپنا اور اپنے پیرومرشد کا بدعتی اورمُخْتَرِعُ الدِّین (دین میں   من گھٹرت چیزیں   لانے والا) ہونے کا اعلان کررہا ہے {5} ’’صراطِ مستقیم‘‘ میں   لکھتاہے:  

اشغال مناسبۂ  ہر وقت ریاضات ملائمۂ ہر قرن جدا جدا می باشند  ولہذا

’’ہروقت کے مناسب اشغال ووظائف اور ہرزمانے کے  مناسب  ریاضتیں   او رعبادتیں   جدا جدا ہوتی

 محققین ہر وقت از  اَکابرِ ہرطرق در تجدیدِ اشغال کو ششہا کردہ اند بناءً علیہ مصلحت دید وقت چناں   اقتضا کردکہ یک باب ازیں   کتاب برائے  بیان اشغالِ جدیدہ کہ مناسب ایں   وقت ست تعین کردہ شود۔

 ہیں   اس لئے مختلف سلاسل کے  بڑے بڑے محققین اولیاء نئے نئے وظائف بنانے میں   کوشش کرتے رہتے ہیں   اس بنا پر وقت کے تقاضا کے پیشِ نظر مصلحت دیکھتے ہوئے اس کتاب (’’صراطِ مستقیم‘‘) کا ایک باب اِس وقت  کے مناسب جدید اشغال کے لئے متعین رکھا ہے ۔‘‘

             خدا را!ذرا ہٹ دھرمی کی نہیں   خدا لگتی کہو نہ صرف اشغال بلکہ بدعت کی تعریف کی ساری بحث کایہیں   خاتمہ ہوگیا اب کیا ہوئے وہ فتوے جن میں   کسی فعل کے جواز کیلئے قُرُونِ ثَلاثَہ( یعنی نبی کریم  صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم اور صحابہ وتابعین کے زمانے ) کی تخصیص پر جابرانہ اصرار کیا جاتا تھا، اب بات بات پر ((مَنْ اَحْدَثَ فِيْ اَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدٌّ)) (ترجمہ: ’’جو ہمارے دین کے معاملہ میں   وہ چیز ایجاد کرے جو دین سے نہیں   تو وہ مردودہے۔‘‘) اور ((کُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلاَلَۃٌ وَکُلُّ ضَلاَلَۃٍ فِي النَّارِ)) (ترجمہ: ’’ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی آگ میں   ہے‘‘) ان  حدیثوں   کا تذکرہ کیا گیا،  اِمامُ الْوَہابِیَہ اور اس کے پیشوا (شاہ وَلِیُّ اللّٰہ،  شاہ عبدالعزیز،  مرزامظہر جان جاناں   وغیرہا) تیرھویں   صدی میں   بیٹھے خاص دین کے عظیم ترین معاملے عبادات اور اللّٰہتعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے طریقوں   میں   نئی نئی باتیں   گڑھ رہے ہیں   ،  جن کا انہیں   خود اقرار ہے کہ تین زمانے (نبی کریم عَلَیْہِ السَّلَام،   صحا بہ،  تابعین کے زمانے) ہی نہیں   تین تین چھ اور چھ چھ بارہ زمانوں   تک کوئی نام ونشان نہیں   ہے لیکن نہ وہ بدعتی ٹھہرتے ہیں   اور نہ ان کے اصل ایمان میں   خلل آتا ہے نہ ان کے لئے((اَصْحَابُ الْبِدَعِ کِلاَبُ اَھْلِ النَّارِ)) (’’بدعتی جہنمیوں   کے کتے ہیں  ۔‘‘)  پڑھاجاتا ہے نہ یہ باتیں   مردود اور گمراہی او رفی النار شمار کی جاتی ہیں   یہ یَجُوْزُ لِلْوَہَابِيِّ مَا لَا یَجُوْزُ لِغَیْرِہٖ (’’وہابی کے لئے وہ سب جائز ہے جو دوسروں  کے لئے ناجائز ہے۔‘‘) کافتویٰ کہاں   سے آیا ، اب اسے کیا کہیے مگر یہ کہ  ((إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ)) (’’جب تیری حیا ختم ہوجائے تو جوچاہے کر۔‘‘)،  مولیٰ عَزََّوَجَلَّ ان وہابیوں، تبلیغیوں  کو ہدایت دے۔آمین!

چند اہم عبارات:

            خیر یہ بات دور پہنچی خاص اسی تصوّرِ شیخ کے متعلق چند اکابر علمائے کرام  رَحِمَہُمُ اللّٰہکی عبارتیں   حاضر کرتا ہوں  لیکن میں   نے خود حضرات اولیاء قُدِّسَتْ أَسْرَارُھُم کے ارشادات پیش نہیں   کئے اسلئے کہ

 اولاً:  بالکل ظاہر ہے کہ اولیائے کرام  رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِم نے ہی ان افعال کو ایجاد کیا ہے اور سب جانتے ہیں   کہ یہ تصوّرِ شیخ کا طریقہ بڑے بڑے اولیاءکرام کا معمول رہا ہے اور ان کی تصانیف



Total Pages: 27

Go To