Book Name:Wilayat ka Aasan Rasta: Tasawwur-e-Shaikh

الدُّعاءِ بَعْدَ صَلاَۃِ الْعِیْدِ‘‘ وغیرہا میں   تمام کردی اور ان بحثوں   کی بہترین تحقیق و تفصیل خِتَامُ الْمُحَقِّقِیْن،  إِمَامُ الْمُدَقِّقِیْن،  أَعْلَمُ الْعُلَمَاءِ الْکِرَام،  سَیْفُ السُّنَّۃ،  عِلْمُ الْإِسْلاَم سِیِّدُنَا الْوَالِد مَوْلاَنَا نقی علی خان قُدِّسَ سِرُّہُ الْمَاجِدنے اپنی کتاب ’’إِذَاقَۃُ الْآثَام لِمَانِعِيْ عَمَلِ الْمَوْلِدِ وَالْقِیَام‘‘  اور اپنی دوسری عظیم الشان کتاب  ’’أُصُوْلُ الرَّشَاد لِقَمْعِ مَبَانِي الْفَسَاد‘‘ میں   بیان فرمائی ہے،  ان پر اللّٰہکی رحمتیں   ہوں   ۔

منکرین کے دعو ے کو مان لیا جائے تو:

            اب وہابیوں   کے اصول یعنی وہابیوں   کی اس دلیل کو کہ ’’ جس شے کے بارے میں   نبی کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم سے کچھ منقول نہیں   وہ ناجائز ہے‘‘ ہے تو یہ ایک تصوّرِ شیخ ہی کیا اکابر اولیائے کرام میں   شروع سے اب تک جووظائف واَعمال اور اَشغال واَذکار رائج رہے اور جو کچھ ان کا معمول رہا وہ سب کا سب بری بدعت اور حرام وممنوع قرار پائے گا،  کیونکہ ان میں   بہت سے توکلی طور پر حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمیا صحابہ وتابعین عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے ثابت نہیں  اور بہت سے وہ ہیں   کہ جن کے مخصوص طریقے،  مخصوص انداز منقول نہیں  لیکن بدبخت منکرین سے کچھ بعید نہیں   کہ فرمانِ الٰہی حدیث قدسی:  ((مَنْ عَادٰی لِيْ وَلِیّاً فَقَدْ اٰذَنْتُہٗ بِالْحَرْبِ)) (جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی میں   اس سے اعلانِ جنگ کرتا ہوں  ) کوبھول کر نہایت ڈھٹائی وبے حیائی کے ساتھ اولیاءکرام کے معمولات و وظائف کو بدعت اور حرام قرار دے دیں   اور طریقت کے ستونوں   اورحقیقت کے ان بادشاہوں   (اولیاء کرام) کو بدعتیں   ایجاد کرنے والے اور برائیاں   رائج کرنے والے قرار دے دیں  ، یہ کہہ دینا ان وہابیوں  ، دیوبندیوں   کے لئے کوئی مشکل نہیں   

قَدْ  بَدَتِ  الْبَغْضَآءُ  مِنْ  اَفْوَاهِهِمْ ﭕ وَ  مَا  تُخْفِیْ  صُدُوْرُهُمْ  اَكْبَرُؕ-

ترجمہ:’’تحقیق انکے مونہوں   سے بغض ظاہر ہوچکا اور جو کچھ انکے دلوں   میں   ہے وہ اس سے بھی بڑھ کرہے۔ ‘‘

            لیکن یہ یاد رہے کہ وہابیوں   کو یہ قاعدہ مان کر اپنے گھر والوں   پر بھی ہاتھ صاف کرنا پڑے گا ۔

            {1} ذرا اِمام ُالطَّائِفَہ (دیوبندی وہابی ٹولے کے امام) اسماعیل دہلوی کے نسب کے اعتبار سے دادا،  شاگردی کے اعتبار سے دادا اور بیعت کے اعتبار سے پردادا یعنی جناب شاہ  وَلِیُّ اللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ کوبھی سن لوکیسا کُھلا اقرار فرماتے ہیں  :

صحبتنا متّصلۃ إلی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم وإن لم یثبت تعیّن الآداب ولا تلک الأشغال،  اھ ملخصاً۔

 

 

ترجمہ:’’ہماری صحبت تو  رسولُ اللّٰہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمتک متصل ہے اگرچہ خاص یہ آداب  واشغال ثابت نہیں   ۔‘‘

             اُسی میں   ہے:

لا تظنّ النسبۃ لا تحصل إلّا بھذا الأشغال بل ھذا طریق لتحصیلھا من غیر حصر فیھا

ترجمہ: ’’ یہ نہ سمجھنا کہ نسبت بس انہی اشغال سے حاصل ہوتی ہے بلکہ اس کی تحصیل کے کئی طریقے ہیں

وغالب الرأي عندي أنّ الصحابۃ والتابعین کانوا یحصلون السکینۃ بطرق أخری۔

انہی افعال پر منحصر نہیں  ، اور میرا زیادہ گمان یہ ہے کہ صحابہ وتابعین اور ہی طریقوں   سے نسبت حاصل فرماتے ہیں   ۔ ‘‘

            {2}وہابیہ کے تیسرے مُعلِّم مولوی خر م علی (صاحبِ’’ نَصِیْحَۃُ الْمُسْلِمِیْن‘‘) ’’قَوْلُ الْجَمِیْل‘‘ کے ترجمے’’شِفَاءُ الْعَلِیْل‘‘  میں   اس کے بعد لکھتے ہیں  :

             ’’ مترجم کہتا ہے مُصنِّف مُحقِّق(شاہ وَلِیُّ اللّٰہصاحب) نے کلام دلپذیر (دلپسندکلام) اور تحقیق  عَدِیْمُ النَّظِیْر(بے مثل ) سے شبہاتِ ناقصین (اعتراض کرنے والوں   کے شبہات) کو جڑسے اکھاڑدیا،  بعضے نادان کہتے ہیں   کہ قادریہ چشتیہ نقشبندیہ کے اشغالِ مخصوصہ(مخصوص وظائف) صحابہ تابعین کے زمانے میں   نہ تھے تو بدعتِ سَیِّئَہ (بری ایجاد) ہوئی خلاصۂ جواب یہ ہے کہ جس امر ( کام ، مقصد) کے واسطے اولیائے طریقت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمنے یہ اَشغال مقرر کئے ہیں   وہ امر ( کام) زمانہ رسالت سے اب تک برابر چلا آرہا ہے گو(اگرچہ) طُرُق (طریقے) اس کی تحصیل (حاصل کرنے) کے مختلف ہیں  ،  فی الواقِع (حقیقتاً) اولیائے طریقت،  مجتہدینِ شریعت (جیسے ائمہ اربعہ) کے مانند ہیں  ،  مجتہدینِ شریعت نے استنباطِ احکامِ ظاہرِشریعت (ظاہری شریعت کے احکام معلوم کرنے) کے اُصول ٹھہرائے (بنائے) اولیائے طریقت نے باطنِ شریعت (شریعت کے خفیہ شعبے) کی تحصیل کے جس کو طریقت کہتے ہیں   قواعد مقررفرمائے تو یہاں   بدعتِ سَیِّئَہ کا گمان سراسر غلط ہے،  ہاں   یہ البتہ ہے کہ حضراتِ صحابہ(عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان)  کو بسبب صفائیِ طبیعت(طبیعت وفطرت کے صاف و پاک ہونے کی وجہ سے) اور حضورِ خورشیدرسالت (اور حضورپرنورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی موجودگی میں  ) تحصیلِ نسبت میں  (نسبت حاصل کرنے میں  ) اشغال (وظائف) کی حاجت نہ تھی بخلاف مُتاَخِّرِیْن  (بعد میں   آنے والوں  )کے کہ اُن کو بسبب بعدِزمانِ رسالت کے(زمانہ رسالت کے دورہونے کی وجہ سے) البتہ اَشغالِ مذکورہ کی حاجت ہوئی جیسے صحابہ کرام کو قرآن وحدیث کے فہم میں   قواعدصرف ونحو کے دریافت کی حاجت نہ تھی اور اہلِ عجم (غیرِعرب) اور بالفعل (موجودہ زمانے) کے عرب اُس کے محتاج ہیں   ،   وَاللّٰہُ أَعْلَم‘‘

            امام ُالطَّائِفَہ (اسماعیل دہلوی) کے نسبی اعتبار سے چچا، علم کے اعتبار سے باپ اور طریقت کے اعتبار سے دادا مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب’’قَوْلُ الْجَمِیْل‘‘ کے حاشیہ میں   فرماتے ہیں  :

             ’’اس طرح پیشوایانِ طریقت نے جلسات وہیئات(مخصوص اندازاور طریقے) واسطے اذکارِ مخصوصہ کے (مخصوص اذکارکے لئے) ایجادکئے ہیں   مناسباتِ مَخْفِیَّہ (پوشیدہ مناسبتوں  ) کے سبب سے جن کو مرد صَافِیُ الذِّہْن (ستھرا ذہن والا) اور علومِ حقّہ (سچے علوم) کا عالم دریافت کرتا ہے (اِلٰی قَوْلِہٖ) تو اُس کو یادرکھنا چاہیے ‘‘ ۔

 



Total Pages: 27

Go To