Book Name:Wilayat ka Aasan Rasta: Tasawwur-e-Shaikh

اس بات کومضبوطی کے ساتھ تھام لینا چاہیے کہ شریعت کا اصول ہے کہ

’’دلیل دینا دعویٰ کرنے والے کے ذمہ ہے‘‘

 یعنی جو اِسے ناجائز کہتا ہے وہ دلیل دے کیونکہ جو اِسے جائز مانتا ہے اُسے دلیل کی ضرورت نہیں   کہ وہ ایک عظیم اصول سے اُسے جائز کہتا ہے اوروہ اصول یہ ہے کہ

’’جب تک کسی چیز کا ممنوع ہونا ثابت نہ ہوجائے وہ جائز ہوتی ہے‘‘۔

            بعض حضرات جہالت کی وجہ سے یا جان بوجھ کر جاہل بنتے ہوئے دھوکہ کھاتے ہیں   یا جان بوجھ کے دھوکہ دیتے ہیں   کہ تم جائز ہونے کا دعویٰ کرنے والے ہو اور ہم اس جواز کے منکر ہیں   لہٰذا اے جائز ماننے والو! تم دلیل دو حالانکہ یہ سخت بے تو جہی و غفلت یا دھوکہ اور فریب دہی ہے یا تو ایسے لوگ جانتے نہیں   یاجانتے تو ہیں   لیکن مانتے نہیں   کہ جائز کہنے کا مطلب صرف اتنا ہوتا ہے کہ اس کام سے منع نہیں   کیا گیا یا یہ مطلب لے لیں  کہ اس کام کا نہ تو حکم دیا گیا ہے اور نہ ہی منع کیاگیا،  تو جو شخص کسی شے کو جائز قراردے رہا ہے وہ تو صرف اس شے کے بارے میں   حکم یا ممانعت کے وارد ہونے کی نفی کرنے والا ہے مُنکِر نہیں   ہے اور صرف نفی کرنے والے پر عقلاً اور شرعاً دلیل دینا لازم نہیں   بلکہ جو شخص کسی چیز کو حرام اور ممنوع کہہ رہا ہے حقیقتاً وہ اس بات کا دعویٰ کرنے والا ہے کہ شریعت نے اس شے سے منع کیا ہے پس اب اس پر دلیل دینا ضروری ہے کہ شریعت نے کہاں   اس چیز سے منع کیا ہے۔

            علامہ عبدالغنی نابلسی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ اپنے رسالے ’’اَلصُّلْحُ بَیْنَ الْاِخْوَان‘‘ میں   فرماتے ہیں   :

ولیس الاحتیاط في الافتراء                                                               ترجمہ ’’اور حرمت وکراہت ثابت

علی اللّٰہ تعالی بإثبات الحرمۃ والکراھۃ الذین لا بدّ لھما من دلیل بل في الإباحۃ التي ھي الأصل.

کرکے اللّٰہ تعالیٰ پرجھوٹ باندھنے میں   احتیاط نہیں   ہے حُرمت وکراہت ثابت کرنے کیلئے دلیل کاہونا ضروری ہے بلکہ احتیاط تومباح (جائز) ماننے میں   ہے کہ جو اصل ہے‘‘۔

            علامہ علی مکی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ  اپنے رسالہ ’’اِقْتِدَاء بِالْمُخَالِف‘‘ میں   فرماتے ہیں  :

من المعلوم أنّ الأصل في کلّ مسألۃ ھو الصحۃ،  وأمّا القول بالفساد والکراھۃ فیحتاج إلی حجّۃ.

ترجمہ: ’’یہ بات معلوم ہے کہ ہر مسئلہ میں   اصل یہ ہے کہ وہ جائز ہے اور فساد وکراہت کاقول کرنا دلیل کا محتاج ہے ‘‘ ۔

            الغرض ان عبارتوں   سے ثابت ہوا کہ فقہ میں   جو شخص کسی شے کو ناجائز قراردیتے ہوئے اس سے منع کرتا ہے علم مناظرہ کی اصطلاح میں   وہ   مُدَّعِی قراردیا جاتا ہے یہ نہیں   کہ جس نے جائز مانا وہ  مُدَّعِی اور جو ناجائز مانے اُسے مُنْکِر  قرار دے دیا جائے لہٰذا ناجائز قرار دینے والا مُدَّعِی ہے اور جائز قرار دینے والاسائل و مُدَّعٰی عَلَیْہ جس سے دلیل کا مطالبہ کرنا پاگل پن  یاخو دفریبی ہے جائز ماننے والے کے لئے یہی دلیل کافی ہے کہ اس شے کی ممانعت پر شریعت میں   کوئی دلیل نہیں  ،  علم اصولِ فقہ کی مشہور کی کتاب’’مُسَلَّمُ الثُّبُوْت‘‘ میں   ہے:

کلّ ما عدم فیہ المدرک الشرعي للحرج في فعلہ وترکہ فذالک مدرک شرعي لحکم الشارع بالتخییر.

ترجمہ:’’ہر وہ طریقہ جس کے بارے میں   شریعت میں   کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں   کوئی واضح دلیل نہیں  تو یہ دلیل نہ ہونا ہی اس کے جائز ہونے کی دلیل ہے۔‘‘

            فقیر غَفَرَاللّٰہُ تَعَالٰی لَہٗ ( اﷲتعالیٰ اسے بخشے) اپنے رسالہ’’إِقَامَۃُ الْقِیَامَۃِ عَلٰی طَاعِنِ الْقِیامِ لِنَبِيِّ تِھامَۃ‘‘اور ’’مُنِیْرُ الْعَیْنِ فِيْ حُکْمِ تَقْبِیْلِ الْإِبْھامَیْن‘‘ وغیرھما میں   اس بحث کو واضح کرچکا ہے ۔ یہ ان کے علم کی انتہاء ہے لیکن یہ دلیل دینا عقل اور صاحب فضل بزرگوں   کے نزدیک ڈوبتے کو تنکے کا سہارا والی بات ہے اور ایسی دلیل پیش نہ کرنا پیش کرنے سے بہترہے،  کسی فعل کے منقول نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں   کہ اسے کرنا منع ہے بلکہ ممکن ہے کہ وہ کام کیا گیا ہو لیکن منقول نہ ہوا ہو، اسکی عام فہم مثال یوں   سمجھیں   کہ کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کرام کا روزانہ پنج وقتہ نماز پڑھنا کہیں   منقول نہیں   لیکن اس سے یہ لازم نہیں   آگیا کہ ان سب نے پڑھی ہی نہیں  پس واضح ہواکہ قرآن و حدیث میں   نقل نہ ہونا ممانعت کی دلیل نہیں   یونہی کسی کام کانہ کرنا اس کے ناجائز ہونے کو ثابت نہیں   کرتا مثلاً صحابہ کرام نے حدیث کی کتابیں   ترتیب سے نہیں   لکھیں   اس سے یہ لازم نہیں   کہ کتابیں   لکھنا ناجائز ہے کاش منکرین جائزہونے کا معنی سمجھتے،  جواز کا معنی ہے: لَمْ یُؤْمَرْ بِہٖوَلَمْ یُنْہَ عَنْہُ (نہ اسکا حکم دیا گیا اور نہ اس سے منع کیاگیا)۔

مُنْکِرِین کا دعویٰ:

             منکرین کہتے ہیں   چونکہ فلاں   کام (مثلاً تصوّرِ شیخ) کاحکم نہیں   دیا گیا لہٰذا یہ ناجائز ہے حالانکہ یہ تو جواز کی تعریف میں   آتا ہے توجائزہونے کی دلیل ہوئی یا ناجائز ہونے کی۔ جواز کی تعریف کے دوجز ہیں  : (1)  لَمْ یُؤْمَرْ بِہٖ  (اس کا حکم نہیں   دیا گیا) (2لَمْ یُنْہَ عَنْہُ( اس سے منع نہیں   کیاگیا) تصوُّرِ شیخ کے ناجائز ہونے پر وہابیہ نے دلیل دی  لَمْ یُؤْمَرْ بِہٖ (اسکا حکم نہیں   دیا گیا ) ا ب خود غور کریں   کہ یہ دلیل جائز ہونے کی ہے یا ناجائزہونے کی ؟

ایک مَنْطِقِی دلیل:

            جواز کی پوری تعریف عام ہے اور یہ دوجُز خاص ہیں  ،  خاص کے پائے جانے سے عام (جواز)پایاجائے گا یا ختم ہوجائے گا؟ خاص کاپایاجانا تو عام کے پائے جانے کی دلیل ہے جیسے انسان کاپایاجانا حیوان کے پائے جانے کی دلیل ہے نہ کہ نہ پائے جانے کی،  لہٰذا کوئی فعل منقول ہو لیکن اس کے کرنے کا یا نہ کرنے کاحکم نہ ہو یا فعل منقول ہی نہ ہو تو یہ جواز کی تعریف میں   داخل ہوگا کہ دونوں   صورتوں   میں   جواز کی تعریف لَمْ یُؤْمَرْ بِہٖوَلَمْ یُنْہَ عَنْہُ پائی گئی مگر منکرین اوندھی عقل رکھتے ہیں   کہ جواز کی دلیل کو عدمِ جواز کی دلیل بناتے ہیں    وَھَلْ ھٰذَا إِلاَّ بَھْتٌ بَحْتٌ’’اور یہ کتنا حیران کن جھوٹ ہے ‘‘۔

            یہ مذکورہ بحث بھی فقیر نے اپنے رسائل مذکورہ  ’’إِقَامَۃُ الْقِیَامَۃِ‘‘ اور ’’مُنِیْرُ الْعَیْنِ‘‘ اور رسالہ ’’أَنْہارُ الأَنْوَار مِنْ یَمِّ صَلاَۃِ الْأَسْرَارِ‘‘  اور رسالہ’’سُرُوْرُ الْعِیْدِ السَّعِیْد فِيحِلِّ



Total Pages: 27

Go To