Book Name:Wilayat ka Aasan Rasta: Tasawwur-e-Shaikh

مغزِ ما خورد  وحلقِ خود  بدرید

(ہمارا مغز کھالیا اور اپنا گلا پھاڑلیا۔ت)

تنبیہ الطف:

            یہاں   تک تو امام مجتہد ہی کے قول سے ثبوت تھا اما م الطائفہ کے ایمان پر خود ایک معصوم صاحب ِوحی کی نص جلی سے جوازِ برزخ ثابت،  اب زیادہ توجہ کیجئے گا کہ یہ کیا مگر امام الطائفہ کی سُنی ہوتی تو تعجب نہ آتا وہ ’’صراط المستقیم‘‘ میں   تصریح کرتا ہے کہ ’’اولیاء میں   جو حکیم ہوتا ہے جسے صدیق و امام و وصی بھی کہتے ہیں   اُس پر خدا کے یہاں   سے وحی آتی ہے اُسے نہ صرف بعض احکام کونیۂ غیب و شہادات ومعاملات جزئیہ سلوک و طریقت بلکہ خاص احکام کلیۂ شریعت و ملّت بے واسطۂ انبیاء بھی پہنچتے ہیں   وہ انبیاء کا ہم استاذ ہوتا ہے وہ انبیاء کی مثل معصوم ہوتا ہے اُس پر خاص امورِ شرعیہ میں   کچھ تقلید ِانبیاء مطلقاً ضرور نہیں   بلکہ ایک وجہ سے وہ خودمحقق ہوتا ہے اُس کا علم جسے حکمت کہتے ہیں   علمِ انبیاء سے اصلاً کم نہیں   ہوتا صرف اتنا فرق ہے کہ انبیاء پر علانیہ وحی آتی ہے اور اُس پر پوشیدہ‘‘،   قال:

پوشیدہ نخواہد ماندکہ صدیق من وجہ مقلد انبیاء می باشد ومن وجہ محقق در شرائع علوم کلیہ شرعیہ او ر ا بد وواسطہ می رسد بوساطت نور جبلی وبوساطت انبیاء علیھم الصلاۃ والسلام،  پس درکلیاتِ شریعت وحکم احکام ملت او را شاگرد

پوشیدہ نہ رہے کہ صدیق  مِنْ وَجْہٍ انبیاء کا مقلد ہوتا ہے اور مِنْ وَجْہٍ شریعت میں   مُحقِّق ہوتا ہے علومِ شرعیہ کلیہ اس کو دو ذریعوں   سے حاصل ہوتے ہیں   ایک بذریعہ فطری نور اور دوسرا بذریعہ انبیاء  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام لہٰذا اس کو شریعت کے کلیات اور احکام کے حکم میں   انبیاء کا شاگرد کہہ سکتے ہیں 

 انبیاء ہم می تواں   گفت  و ہم استاذ انبیاء ہم  و نیز طریقہ اخذآں   ہم  شعبہ ایست ازشعب  وحی کہ آں   را در عرفِ شرع بہ نفث في الروع تعبیر می فرما یند وبعضے اہلِ کمال آں    را بوحی باطنی می نامند ہمیں   معنی را بامامت ووصایت تعبیر می کنند وعلمِ ایشاں   را کہ بعینہٖ علم  انبیاء ست لیکن بوحی ظاہری متلقی نشدہ بحکمت می نامند،  لابد او را بمحافظتے مثل محافظت انبیاء کہ مسمّی  بعصمت ست فائز می کنند وایں   حفظ نصیبۂ انبیاء وحکماء ست وہمیں   را عصمت نامند ندانی کہ اثبات وحی باطن

اور انبیاء کا استاذ بھی،  نیزاِن کاطریقۂ اخذ بھی وحی کی طرح ہوتا ہے اس کو عرف شرع میں    نَفَثٌ فِی الرَّوْع سے تعبیر کرتے ہیں   اور بعض اہل کمال اس کو باطنی وحی قرار دیتے ہیں   اس معنی میں   اس کو امامت اور وصایت سے تعبیر کرتے ہیں   اور اس کا علم بِعَیْنِہٖ انبیاء کا علم ہوتا ہے لیکن ظاہری وحی نہیں   پاتا اس کو حکمت کہتے ہیں   اس لئے  انبیاء کی طرح اس کو حفاظت حاصل ہوتی ہے جس کو عصمت کہتے ہیں   جو انبیاء اورحکماء کو نصیب ہوتی ہے یہ نہ سمجھنا کہ وحی باطن اور حکمت،  وَجاہت اور عِصْمَت غیر انبیاء کے لئے ثابتکرنا سنت کے خلاف اور نئی اختراع ہے اور بدعت ہے اور یہ بھی نہ سمجھنا کہ اس کمال کے

و حکمت  ووجاہت  وعصمت  مرغیر انبیاء را مخالف سنّت وازجنس اختراع  بدعت ست ندانی کہ  ارباب ایں   کمال از عالم منقطع شدہ اند‘‘،  اھ ملتقطاً. ([1])

لوگ دنیا سے ختم ہوچکے ہیں   اھ،  مُلْتَقِطاً۔ (ت)

                ’’صراطِ مستقیم‘‘ مُعَوَّج و نا مستقیم چُھپی نہیں   چَھپی ہے،  مطبوع مطبع ضیائی میرٹھ ۱۲۸۵ ھ کے آخر صفحہ ۳۸ سے ثلث صفحہ ۴۲ تک ان کفریاتِ شنیعہ و رِفْضیاتِ فَظِیْعہ کا جوش دیکھ لیجئے،  خیر انکی اصطلاحِ شیطانی پر حکیم و حکمت کے معنی تو معلوم ہولئے کہ حکمت یہی علومِ صدیقیت ہیں   جو اِن باطنی ساختہ نبیوں   کو بذریعہ وحیِ نہانی ملتے ہیں  ۔

 اب ملا حظہ ہو کہ یہیں   اسی بحث میں   شا ہ  وَلِیُّ اللّٰہصاحب کو نہ نرا حکیم بلکہ سیِّدُ الحُکَمائکہا حیث قال:

 ایں   صدیقیت  را جناب سیِّدُ الحکماء وسیِّدُ العلماء أعني: الشیخ ولي اللّٰہ بقرب الوجود تعبیر می فر مایند([2])۔

اس صدیقیت کو جناب سَیِّدُ الْحُکَماء وَسَیِّدُ الْعُلَماء جس سے مرادشاہ   وَلِیُّ اللّٰہ ہیں   قُرْبُ الْوُجُود سے تعبیر کرتے ہیں۔(ت)

اب کیا شک رہا کہ ان کے ایمان پر شاہ صاحب بھی(اَسْتَغْفِرُ اللّٰہ)اِنہیں   چُھپے رسولوں   بوڑھے معصوموں   میں   ہیں   اور ان کے علوم بھی وحیِ نِہانی سے اُن پر اُترے اور اُن کی سن چکے کہ وہ ’’انتباہ ‘‘وغیرہ میں   مثالی برزخ کی کیسی کیسی تجویز و تحسین وتعلیم وتلقین کرتے ہیں  ،  پھر اس کا اِنکار نہ ہوگا مگر اپنے ساختہ پیغمبر کا رَد کر کے اپنے طور پر کافر ہو جانا،  غایت یہ کہ ظاہری پیغمبر کامنکر کُھلا کافر اور نِہانی کا منکر ڈھکا کافر،   والعیاذ باللّٰہ ربِّ العٰلمین،  العزَّۃ لِلّٰہ، اِن حضرات نے بات بات پر مسلمانوں   کو کافر مشرک بنا یا یہاں   تک کہ ان کے ـمذہب پر صحابہ و تابعین دَرکنار ان کے ساختہ پیغمبروں   سے ہمارے سچے رسولوں   تک کوئی ارتکابِ شرک سے محفوظ نہ رہا ، یہ اُس کی سزا ہے کہ ہر جگہ اپنے منہ آپ کافر ٹھہرتے ہیں   کہ کَرْد وَنیافت کَمَا تَدِیْنُ تُدَانُ وَلاَحَوْلَ وَلاَ قَوَّۃَ إِلاَّ بِاللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْمَنَّان(جیسا کروگے ویسا بھروگے اور گناہوں   سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت عزت واحسان کرنے والے رب عَزَّوَجَلَّ کی توفیق سے ہی ہے۔ت)، مولیٰ تعالیٰ صدقہ اپنے محبوبوں   کا دین ِحق پر قائم رکھے اور ملّت و سنت مصطفی  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم پر دُنیا سے اُٹھائے آمین!

                اَلْحَمْدُ لِلّٰہکہ یہ مختصر جواب مظہرِ صواب اَوائل جمادی الآخر ۱۳۰۹ ھ میں  مُرَتَّب اور بلحاظِ تاریخ ’’اَلْیَاقُوْتَۃُ الْوَاسِطَۃُ فِيْ قَلْبِ عَقْدِ الرَّابِطَۃ‘‘مُلقَّب ہوا ۔

                ربَّنا تقبل منّا إنّک أنت السمیع العلیم وصلی اللّٰہ تعالٰی علی سیّدنا ومولانا محمد وآلہ وأصحابہ أجمعین آمین الحمد للّٰہ ربِّ العٰلمین،  واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی أعلم وعلمہ جلَّ مجدہ أتمّ وأحکم۔

کتبہ عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ

محمدن المصطفی النبیّ الامّی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم

(مولوی نقی علی خان قادری ۱۳۰۱ھ)

                                                                                                                                               احمد رضا خان                         

 

 

 

 



[1] ۔۔۔        صراط مستقیم ، باب اول ، فصل ثانی ھدایت رابعہ، ص۳۳،  ۳۶

[2] ۔۔۔        صراط مستقیم ، باب اول ، فصل ثانی ھدایت رابعہ، ص۳۵ ملتقطا



Total Pages: 27

Go To