Book Name:Wilayat ka Aasan Rasta: Tasawwur-e-Shaikh

انتہا پر صورتِ شیخ خود مُتَمَثِّل ہو کر مرید کے ساتھ رہے گی اور ہر کام میں   مددکرے گی اور اس راہ میں  جو مشکل اُسے پیش آئے گی اُسکا حل بتائے گی۔

تنبیہ: اَذکار و اشغال میں   مشغولی سے پہلے اگر قضا نمازیں   یا روزے ہوں   ان کا ادا کرنا جس قدر ممکن ہو نہایت ضرور ہے،  جس پر فرض باقی ہو اُس کے نفل واعمالِ مُسْتَحَبَّہ کام نہیں   دیتے بلکہ قبول نہیں   ہوتے جب تک فر ض ادا نہ کرلے اَذکار و اَشغال کے لئے تین بَدرَ قوں  (یعنی معاونت کرنے والوں  ) کی ضرورت ہے: تَقْلِیْلِ طعام (کم کھانا)،  تقلیلِ کلام (کم بولنا)،  تقلیلِ مَنام (کم سونا)  وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْق۔(الوظیفۃ الکریمۃ،  ص۳۷-۳۸)

مسئلہ[1]:

            کیا فرماتے ہیں   علمائے دین متین اس مسئلہ میں   کہ ایک شخص صورتِ شیخ کو واسطۂ وصولِ فیض جان کر وقتِ ذکر یا مراقبہ کے اُس کا تصوّر کرتا ہے چنانچہ شاہ   وَلِیُّ اللّٰہ صاحب  قُدِّسَ سِرُّ ہٗ نے اشغالِ نقشبندیہ کے بیان میں   اپنی کتاب’’ قَوْلُ الْجَمِیْل‘‘ میں   فرمایا ہے:

وإذا غاب الشیخ عنہ یتخیَّل صورتہ بین عینیہ بوصف المحبَّۃ والتعظیم فتفید صورتہ ما تفید صحبتہ([2]) ۔

جب کسی کا شیخ غائب ہو تو محبت اورتعظیم کے ساتھ اس کی صورت کو اپنی آنکھوں   کے سامنے خیال کرے تو اسکی صورت وہی فائدہ دے گی جو اسکی مجلس دیتی ہے۔(ت)

 اس طور پر کہ حق  سُبْحَانَہٗ تَعَالٰیکی ذاتِ پاک سے مرشد کے لطائف میں   فیض نازل ہوکر مرید کے لطائف پر وارد ہوتا ہے،  اور یہ بھی جب تک کہ اُس کو مناسبتِ کامِلہ ذاتِ حق سُبْحَانَہٗ تَعَالٰی سے نہ ہو اور جب مناسبتِ کا مِلہ پیدا ہوجائے پھر ضروری نہ جانے،  اور مرشد کو فقط واسطہ اور وسیلہ فیض کا جانتا ہے نہ عَالِمُ الْغَیْب جانے نہ حاضر و ناظر اور معبودو مسجود مقررکرے بلکہ اِن امور کا غیر ِخدا کے واسطے ثابت کرنا شرک سمجھے،  جائز ہے یا نہ ؟ اگر جائز ہے تو اس کی سند قرآن ہے یا حدیث یا قولِ مجتہد یا اجماع ؟ اگر نہیں   جائز تو اَدِلّۂ اربعہ سے اس کیلئے کونسی دلیل ہے ؟  بَیِّنُوْا تُؤْجَرُوْا  ( بیان فرمائیے،  اجر پائیے۔)

الجواب

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد للّٰہ الذي ھدانا لربط القلوب بأعظم برزخ بین الإمکان والوجوب والصّلاۃ والسلام علی أجمل مطلوب أجلّ وسیلۃ لإصلاح الخطوب صلاۃ  تمحو رَین العیوب وتمثّل في الفؤاد صورۃ المحبوب منشھداً بالتوحید لعلاّم الغیوب وبالرسالۃ الکبری لشفیع الذنوب صلی اللّٰہ تعالی علیہ وعلی آلہ وصحبہ وسائط الکرم،  قال الفقیر عبد المصطفی أحمد رضا المحمّدي السنّي الحنفي

تمام تعریفیں   اللّٰہ تعالیٰ کیلئے جس نے دلوں   کے ربط کیلئے امکان اور وجوب کے درمیان برزخ اعظم کی رہنمائی عطا فرمائی اور صلوٰۃ وسلام خوبصورت مطلوب اور خطرات کی اصلاح کیلئے جلیل وسیلہ پر،  ایسی صلوٰۃ جو عیوب کو مٹادے اور دلوں   میں   محبوب کی صورت کو قائم کردے عَلاَّمُ الْغُیُوْب کی توحید اورشَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْنکی ر سالت ِکبریٰ کی شہادت دیتے ہوئے،  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ پر جو برگزیدہ واسطے ہیں  ،  فقیر عبدالمصطفیٰ احمد رضا محمدی سنی حنفی قادری برکاتی بریلوی

القادري البرکاتي البریلوي لمّ اللّٰہ تعالی شعثہ وتحت اللواء الغوثي بعثہ.

کہتا ہے  اللّٰہ  تعالیٰ اس کو پراگندگی سے محفوظ فرمائے اور حضور غوثِ اعظم کے جھنڈے تلے اٹھائے۔(ت)

            تصوّرِ شیخ مبتدائ۱۲ ([3])  بروجہ رابطہ جسے برزخ بھی کہتے ہیں   جس طرح حضراتِ صوفیۂ صافیہ قَدَّسَنَا اللّٰہُ  تَعَالٰی بِأَسْرَارِھِمُ الْوَافِیَۃ  میں   خَلْفًا عَنْ سَلْفٍ مَعْمول وَمَأثُور اور اُن کی تصانیفِ مُنِیْفَہ و مکتوباتِ شریفہ و ملفوظاتِ لطیفہ میں   بتواتر مَذْکور ومَسْطُور وغیر مَسْتور کہ شبحِ شیخ حاشا بلکہ عین ِشیخ (کہ شبح حضوراً وغیبتہً صرف مرآت ملاحظہ ہے اور کار حقیقۃً کار روح جو بعد صفائی کدوراتِ حیوانیہ وانجلائے ظلماتِ نفسانیہ صورتِ واحدئہ شہادت وہیاکل متکثرئہ مثالیہ میں   دفعتہ ہزار جگہ کام کرسکتی ہے جیساکہ بارہا مشاہدہ ومَرْئی اورحضراتِ اولیاء سے بکثرت مَرْوِی اور عالمِ رؤیا میں   بے شرطِ و لایت جاری جسے افعالِ عجیبہ و تصرفاتِ غریبۂ روح انسانی پر اطلاع حاصل،  وہ جانتا ہے کہ یہ تو اُس کے بحارِ ز اخرہ واَمواجِ قاہرہ سے ایک قطرئہ قلیلہ ہے اور خود بعد تـمرّن واِعتیاد وتکامل مناسبت اُس صورتِ  مُتَخَیَّلَہکا بے اعانتِ تخییل حرکت و کلام اور مشکلاتِ راہ میں   قیام و اہتمام اور دقائق وحقائق کا شفاہاً حلِ تام  کَمَا تَشْھَدُ بِہٖ شُھُوْدُ الشُّھُوْدِ وَالتَّجْرِبَۃ (جیسا کہ مشاہدہ اور تجربہ گواہ ہے۔ت)) دلیل جلی و سلیل ہے کہ یہ فقط پیکرِ مخزون کا علی عکس المعتاد خزانۂ خیال سے حسِ مشترک کی طرف عودِقہقری نہیں   بلکہ وہی مرکب ِمثال میں   شہسوار روح کی جولانیاں   ہیں   اگرچہ خود فاعل کو شعور یعنی شعور بالشعورنہ ہو کَمَا ہُوَالْمَشْھُوْدُ لِعُمُوْمِ النَّاسِ فِيْ غَیْبَۃِ الرُّؤْیا(جیسا کہ عوام الناس کو خواب کے بارے میں   معلوم ہے۔ت)،  ورنہ صدورِ افعالِ اختیاریہ کو شعور سے انفکاک نہیں  ،   اتـقن ھذا فإنّہ مھمّ نافع ولأکثر الشبھات حاسم قالع(اس کو خوب یاد رکھو کیونکہ یہ اہم نافع ہے اور بہت سے شبہات کو ختم کرتاہے۔ت)،  صرف واسطۂ وصول وناؤ دانِ فیض و باعثِ جمعیت خاطر و زوال تفرقہ ہائے شرعاًجائز خبر،  ۱۲جس کے منع پر شرع سے اصلاً دلیل نہیں  ،  نہ کہ معاذ اﷲ شرک و کفر کہنا جیساکہ زبان زدِ سفہائے منکرین ہے ،   والنّاس أعدائٌ لما جھلوا (لوگ جس سے ناواقف ہوں   اسکے مخالف ہوتے ہیں  ۔ت)  ؎

منعم کنی ز عشق  ولے اے زاہدِ زماں

اے زمانہ کے زاہد! تو مجھے عشق سے منع کرتا ہے

 



[1] ۔۔۔ یہ رسالہ فتاوی رضویہ (مُخَرَّجَہ)  جلد ۲۱ صفحہ۵۶۹ پرموجودہے۔

[2] ۔۔۔ شفاء العلیل مع القول الجمیل،  الفصل السادس،  ص۶۔

[3] ۔۔۔  ’’تصور شیخ ‘‘ مبتدا ہے جس کی خبر آگے آرہی ہے،  یعنی’’جائز ‘‘۔



Total Pages: 27

Go To