Book Name:Wilayat ka Aasan Rasta: Tasawwur-e-Shaikh

صِدِّیقوں   کا اَحکام حاصل کرنے کا طریقہ وحی کے شعبوں   میں   سے ایک شعبہ ہے جسے شریعت کی بولی میں   نَفْثٌ  فِي الرَّوعِ (یعنی دل میں   پھونک دینا)

آں    را بوحی باطنی می نامند ہمیں   معنی را بامامت ووصایت تعبیر می کنند وعلمِ ایشاں   را کہ بعینہٖ علم  انبیاء ست لیکن بوحی ظاہری متلقی نشدہ بحکمت می نامند،   لابد او را بمحافظتے مثل محافظت انبیاء کہ مسمّی  بعصمت ست فائز می کنند وایں   حفظ نصیبۂ انبیاء وحکماء ست وہمیں   را عصمت نامند ندانی کہ اثبات وحی باطن حکمت  ووجاہت  وعصمت  مرغیر انبیاء را مخالف سنّت و ازجنس اختراع  بدعت ست ندانی کہ  ارباب ایں   کمال از عالم

 سے تعبیر کرتے ہیں   اور بعض اہلِ کمال اِسے وحیِ باطنی کا نام دیتے ہیں   اس معنی کو امامت اور وصایت (وصی ہونے) سے تعبیر کرتے ہیں   اور ان کا علم انبیاء کاعلم ہوتاہے لیکن ظاہری وحی کے ذریعے حاصل نہ ہونے کی وجہ سے اسکانام حکمت رکھا جاتا ہے پھرانبیائِ کرام کی جس طرح حفاظت کی جاتی ہے جسے عِصْمَت کہتے ہیں   اسی طرح ان صِدِّیقوں   کی  حفاظت بھی کی جاتی ہے اور یہ حفاظت صرف انبیاء و حکما کیلئے ہے اور اسی کو عصمت بھی کہتے ہیں   تو یہ نہ سمجھنا کہ غیر انبیاء کیلئے وحی باطنی او ر حکمت اور وجاہت اور عصمت ثابت کرنا خلافِ سنت ہے اور بدعت گھڑنے کے قبیل سے ہے  کیا تو نہیں   جانتا کہ یہ صاحب ِکمال لوگ  اس

منقطع شدہ اند‘‘،  اھ ملتقطاً.

جہاں   سے اپنا تعلق ختم کرچکے ہیں   ؟‘‘

            یہ کتاب’’ صراط مستقیم‘‘ جو حقیقتاً سید ھا نہیں   بلکہ ٹیڑھا راستہ اور مستقیم نہیں   نامستقیم ہے جس کی عبارت ہم نے نقل کی،  چُھپی نہیں   بلکہ چَھپی ہوئی کتاب ہے ،  مطبع ضیائی میرٹھ ۱۲۸۵ ھ کے آخر صفحہ ۳۸ سے صفحہ ۴۲تک ان گندے کفریات اور قطعی مردود باتو ں   کا جو ش دیکھ لیجئے،  خیر اِن وہابیوں   کی شیطانی اصطلاح میں   حکیم و حکمت کے معنی تو معلوم ہوئے کہ حکمت یہی علوم صِدِّیقیت ہیں   جو اِن خود ساختہ باطنی نبیوں   کو پوشیدہ طور پر دیئے جاتے ہیں  ۔

            یہاں   تک تو یہ معلوم ہوا کہ اولیاء میں   حکیم اسماعیل دہلوی کے نزدیک مَعْصُوم اور صاحب ِوحی ہوتے ہیں  ،  اب آئندہ عبارت سے معلوم ہوگا کہ تصورِشیخ کو جائز اور اچھا قرار دینے والے شاہ  وَلِیُّ اللّٰہصاحب انکے نزدیک نہ صرف حکیم بلکہ حکیموں   کے سردار ہیں   تو شاہ صاحب بھی انکے باطنی معصوم او ر صاحبِ وحی ہوئے تو تصوّرِشیخ کا جواز خود ہی معصوم اور صاحب وحی کے قول سے ثابت ہوگیا،  اب حوالہ ملاحظہ فرمائیں   اسی بحث میں   شاہ ولیُّ اللّٰہصاحب کو سَیِّدُ الْحُکَمَاء  لکھاہے:

ایں   صدیقیت را جنابسیِّدُ الحُکَماء وسید العلماء أعني: الشیخ وليّ اللّٰہ بقرب الوجود تعبیر می فر مایند۔

 ’’اس صدیقیت کو جناب حکماء اور علماء کے سردار شیخ شاہ   وَلِیُّ اللّٰہ قُرْبُ الْوُجُوْد سے تعبیرکرتے ہیں  ۔‘‘

             اب کیا شک رہا کہ اسماعیل دہلوی کے ایمان پر شاہ ولی صاحب بھی (اَسْتَغْفِرُ اللّٰہ) اِنہیں   چھپے رسولوں   بوڑھے معصوموں   میں   ہیں   اور ان شاہ صاحب کے علوم بھی پوشیدہ وحی کے ساتھ ان پر اترے اور شاہ صاحب کی عبارتیں   آپ سن چکے کہ تصوّرِشیخ کو ’’اَلْاِنْتِباہ‘‘ میں   کیسا جائز اور اچھا قرار دیا ہے اور اس کی کتنی تلقین اور تعلیم دی ہے،  پھر اب اس تصورِ شیخ کا انکاراسماعیل دہلوی کے ایمان کے مطابق خود اپنے خود ساختہ پیغمبر کا رد کرکے کافر ہوجانا ہی ہوا فرق صر ف اتنا ہوگا کہ چونکہ شاہ صاحب کو پوشیدہ نبی مانا ہے تو ظاہری پیغمبر کا انکار کرنے والا کھلا کافر اور پوشیدہ پیغمبر کا انکار کرنے والا ڈھکا چھپا کافر (اللّٰہ رَبُّ العٰلَمِینکی پناہ ایسے اَقوال سے اور عزت اللّٰہہی کے لئے ہے۔) اِن وہابی حضرات نے بات بات پر مسلمانوں   کو مُشْرِک بنایایہاں  تک کہ ان کے مذہب کے مطابق پر صحابہ وتابعین رَضِیَ اللّٰہُ  عَنْہُم تو ایک طرف انکے خود ساختہ پیغمبر بھی اور ہمارے سچے رسولوں  عَلَیْہِمُ السَّلَام میں   سے بھی کوئی شرک کرنے سے نہ بچا (مَعَاذَ اللّٰہیہ اُسکی سزا ہے کہ ہر جگہ اپنے منہ آپ ہی کافر ٹھہرتے ہیں   کہ جیسا کروگے ویسا بھروگے لاَحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْمَنَّان (نیکی کرنے اور برائی سے بچنے کی طاقت نہیں   مگراللّٰہکی توفیق سے جو غالب،  بہت احسان کرنے والاہے۔) مولیٰ تعالیٰ اپنے محبوبوں   کاصدقہ ہمیں   دین ِحق پر قائم رکھے اور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکی ملّت اور سنّت پر دنیا سے اٹھائے،  آمین ۔

            اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہ یہ حق وسچ کو ظاہر کرنے والا مختصر جواب جمادی الآخر ۱۳۰۹ ھ میں   ترتیب دیا اور تاریخ کے لحاظ سے اس کانام ’’اَلْیَاقُوْتَۃُ الْوَاسِطَۃُ فِيْ قَلْبِ عَقْدِ الرَّابِطَۃِ‘‘ رکھا۔

ربنا تقبّل منّا إنّک أنت السمیع العلیم وصلی اللّٰہ تعالی علی سیّدنا ومولانا محمد وآلہ وأصحابہ أجمعین آمین،  الحمد للّٰہ ربّ العٰلمین واللّٰہ سبحانہ وتعالی أعلم وعلمہ جلّ مجدہ أتمّ وأحکم۔

’’اے اللّٰہہماری طرف سے اسے قبول فرما بے شک تو سننے جاننے والا ہے اور اللّٰہدرود بھیجے ہمارے آقا ومولا حضرت محمد صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمپر اور آپ کی تمام آل اور اصحاب پر آمین،  تمام تعریفیں   اللّٰہکیلئے ہیں   اوراللّٰہسُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی سب سے زیادہ جاننے والا ہے اور اس کاعلم سب سے مکمل اور سب سے زیادہ مضبوط ہے ۔‘‘

کتبہ عبدہ المذنب محمد قاسم قــادری  عفـی عنـہ

بمحمد ن المصطفی النبیّ الامیّصلی اﷲ علیہ وسلم

تصوّرِ شیخ کا طریقہ:

از الوظیفۃ الکریمۃ

            خَلْوَت میں   آوازوں   سے دور ، رو بمکانِ شیخ اور وصال ہوگیا تو جس طرف مزارِ شیخ ہو اُدھر متوجّہ بیٹھے،  محض خاموش ،  باادب ، بکمالِ خشوع صورتِ شیخ کا تصور کرے اور اپنے آپ کو اس کے حضور حاضر جانے اور یہ خیال دل میں   جمائے کہ سرکارِ رسالت عَلَیْہِ أَفْضَلُ الصَّلَاۃِ وَالتَّحِیَّۃسے اَنوار وفیوض شیخ کے قلب پر فائض ہورہے ہیں  ،  میرا قلب قلبِ شیخ کے نیچے بحالت در یوزہ گَری (یعنی سائل کی طرح) لگا ہوا ہے، اُس میں   سے انوارو فیوض اُبل اُبل کر میرے دِل میں   آرہے ہیں  ، اِس تصور کو بڑھائے یہاں   تک کہ جم جائے اور تکلُّف کی حاجت نہ رہے، اس کی



Total Pages: 27

Go To