Book Name:Wilayat ka Aasan Rasta: Tasawwur-e-Shaikh

واجب علی کلّ مؤمن متی ذکرہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم أو ذُکرعندہ أن یخضع ویخشع ویتوقّر ویسکن من حرکتہ ویأخذ في ھیبتہ وإجلالہ بما کان یأخذ بہ نفسہ لو کان بین یدیہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم ویتأدّب بما أدّبنا اللّٰہ تعالی بہ‘‘۔

’’ ہر مسلمان پر واجب ہے جب حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ذکر کرے یا حضور کا ذکر اس کے سامنے کیاجائے کہ خضوع و خشوع ووقار بجالائے،  جسم کا کوئی ذرّہ حرکت نہ کرے،  حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکی ہیبت و تعظیم میں   اپنے نفس کو اُس طرف پر مُقَیَّد کرے جس طرح خود حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے سامنے خاص حضوری میں   رہتا حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ادب کرے جیساکہ اللّٰہ تعالیٰ نے ہمیں   اُس جناب کیلئے مؤدَّب ہوناسکھایا۔‘‘

{28} (جیسے فرمان ِ الٰہی ہے :

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲)(پ۲۶،  الحجرات: ۲)

ترجمۂ کنزالایمان : اے  ایمان والو اپنی آوازیں  اونچی نہ کرواس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں   ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں   تمہارے عمل اکارت (ضائع) نہ ہوجائیں   اور تمہیں   خبر نہ ہو ۔

            {29}علامہ۲۹ ؎   شہاب الدین خفاجی ’’شفاء ‘‘ کی شرح’’ نَسِیْمُ الرِّیاض‘‘ میں   مذکور ہ عبارت پر فرماتے ہیں  : 

یفرض ذالک ویلاحظہ ویتمثلہ فکأنّہ عندہ۔

یعنی ذکر شریف کے وقت یہ فرض و ملاحظہ کرے کہ خاص حضور ی میں   ہوں   حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی صورت کا تصور ایسا جمائے کہ گویا حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم اسکے پاس جلوہ فرماہیں  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم ۔

            {30}فاضل۳۰ ؎  رفیع الدین خان مراد آبادی ’’تاریخ الحرمین‘‘ میں   لکھتے ہیں  :

شبے در طواف بودم وہجوم بسیار  بود بخیالِ خود حضور آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم

ترجمہ:’’ایک روز میں   طواف میں   تھا اور ہجوم کثیر تھا اپنے خیال میں   میں   نے حضور پر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی

  یاد کردم  و تصور نمودم کہ آں   سرور عَلَیْہِ  وَآلِہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام در طواف ہستند وجماعۃ صحابہ بآنحضرت طواف مکینند ومن بطفیل ایشاں   در مجمع حاضر م وروزے پیش باب بیت اﷲ ایستادہ دُعا میکردم وباخود قصّۂ  روز فتح یاد کردم وتصور نمودم کہ جناب  اقدس نبوی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم  در دروازہ ایستادہ اند وصحابۂ کرام  بحسب مرتبہ  ومقام خود در خدمت شریف حاضر  اند وکفارِ قریش ترساں   وہراساں   در حضور آمدہ اند وآنحضرت از ایشاں   عفو 

 عَلَیْہِ وَسَلَّم کو یادکیا اور تصور کیا کہ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم طواف میں   ہیں  اور صحابہ کرام کی جماعت بھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے ساتھ طواف کررہی ہے اور میں   بھی ان کے طفیل اس مجمع میں   حاضر ہوں  ،  اور ایک دن میں   بَیْتُ اللّٰہ شریف کے دروازے کے سامنے کھڑا دعا کررہا تھااور فتح مکہ کا قصہ یادکیا اور تصور کیا کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم بھی اس دروازے میں   تشریف فرماہیں   اور صحابہ کرام بھی اپنے مقام اور مرتبہ کے مطابق خدمت ِاقدس میں   حاضر ہیں   اور کفارِقریش بھی ڈرتے کانپتے آرہے ہیں   اور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم  ان کو معاف فرمارہے ہیں 

فرمودہ ملاحظۂ  ایں   حال باعث شد بتوسل از آنجناب ودُعا در حضرت عزت جَلَّتْ عَظَمَتُہٗ برائے مغفرت خود جمیع اقارب  واحباب وقضائے حوائج دین و دُنیا،   ونرجو من اللّٰہ الإجابۃ إن شاء اللّٰہ تعالٰی؎

یہ حال سبب بنا کہ میں   بھی آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے توسُّل سے اللّٰہجَلَّ جَلَالُہٗ کی بارگاہ میں   اپنی اور اپنے رشتے داروں   اور دوستوں   کی مغفرت کیلئے اوردین ودنیا کی حاجتیں   پوری کرنے کیلئے دعا کروں   اور ہم اللّٰہتعالیٰ سے قبولیت کی امید رکھتے ہیں  ۔

دوستاں   راکجا کنی محروم!

دوستوں   کو کیونکر محروم رکھے گا

توکہ با دشمناں   نظر داری

تو جو دشمنوں   پر بھی نظر رکھتا ہے

            اَلْحَمْدُ لِلّٰہ فی الحال یہ ’’تیس حوالے‘‘  عظیم فائد وں  والے ہیں   اور جو باقی رہ گئے وہ ان سے بہت زیادہ ہیں  پھر انصاف پسند کو اس قدر بھی کافی اور جھگڑا لو آدمی کے لئے ایک دفتر بھی مفید نہیں  ،  ہم اللّٰہتعالیٰ سے معافی اور بے ادبی سے عافیت طلب کرتے ہیں   ۔

تنبیہ لطیف:

             یہ تو شاہ عبد العزیزعَلَیْہِ الرَّحْمَۃکی تقریر سے واضح ہوگیا کہ تصوّرِ شیخ کا جائز ہونا توقرآنِ مجید کی مُطْلَق (جس میں   قید نہ ہو)آیا ت سے ثابت اور حاصل ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ مسائل کے حل کیلئے اہل ذکر یعنی اَوْلِیَاءُ اللّٰہ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ  کی طرف رجوع کیا جائے یہ بات قرآنِ کریم کی اس آیت: فَسْــٴَـلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(۷)} (پ۱۴،  النحل: ۴۳)(ترجمۂ کنز الایمان: ’’تو اے لوگو علم والوں   سے پوچھو اگر تمہیں   علم نہ ہو ۔‘‘)سے ثابت ہے ۔ اور شاہ عبدالعزیز صاحب کے کلام میں   اشارہ کے طور پر اور وہابیوں   کے تیسرے معلّم مولوی خر م



Total Pages: 27

Go To