Book Name:Wilayat ka Aasan Rasta: Tasawwur-e-Shaikh

صورتِ کریمہ کاپائدار

الصلاۃ علی النبي صلی اللّٰہ تعالی  علیہ وسلم بإخلاص القصد وتحصیل الشروط والآداب وتدبّر المعاني حتّی یتمکن حبّہ من الباطن تمکّناً صادقاً خالصاً یصل بین نفس الذاکر ونفس النبي صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم،  ویؤلّف بینہما في محلّ القرب والصفا۔۔۔ إلخ۔

 ومستحکم ودائمی نقش دل میں   ہوجائے یہ یوں   حاصل ہوتا ہے کہ خالص نیت اور شرائط وآداب کی رعایت اور معانی میں   غور وفکر کے ساتھ حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم پر درود بھیجنے میں   ہمیشگی اختیار کرے یہاں   تک کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکی محبت ایسے سچے خالص طور پر دل میں   جم جائے جس کے سبب درود بھیجنے والے کے نفس کو حضورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے نفسِ مبارک سے ملاقات اور قرب اور صفائیِ قلب کے مقام میں   باہم الفت حاصل ہو ۔

            {22}علامہ فاسی محمد۱۹ ؎   بن احمد بن علی قصری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ’’مطالع المُسرّات شرح دلائل الخیرات‘‘  میں   فرماتے ہیں  :

قد ذکر بعض من تکلّم علی الأذکار وکیفیۃ التربیۃ بھا أنّہ

’’ یعنی بعض علماء جنہوں   نے اذکار اور ان سے مریدین کی تربیت کی

إذا کمل لا إلہ إلاّ اللّٰہ محمّد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم فلیشخّص بین عینیہ ذاتہ الکریمۃ بشریۃ من نور في ثیاب من نور یعني لتنطبع صورتہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم في روحانیتہ ویتألف معھا تألّفاً یتمکن بہ من الاستفادۃ من أسرارہ والاقتباس من أنوارہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم،  قال: فإن لم یرزق تشخص صورتہ فیری کأنّہ جالس عند قبرہ المبارک یشیر إلیہ متی ما ذکرہ فإنّ القلب متی ما شغلہ شيء امتنع من قبول غیرہ فيالوقت (إلی آخر کلامہ) فیحتاج إلی تصویر الروضۃ المشرّفۃ والقبور المقدّسۃ لیعرف صورتھا ویشخصھا

کیفیت بیان کی فرماتے ہیں   کہ جب  لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ذکر کامل ہوجائے تو چاہیے کہ حضور سید عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی صورت اُس کے آئینہ روح میں   نقش ہوجائے اور وہ الفت پیدا ہوجائے جس کے سبب حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے اسرار سے فائدہ حاصل کرسکے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکے انوار سے کچھ نور چن سکے،  وہی عالم فرماتے ہیں  : جسے حضور پُرنورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی صورتِ کریمہ کا تصوُّر مُیَسَّر نہ ہو وہ یہی خیال جمائے کہ گویا مز ارِ مبارک کے سامنے حاضرہے اور ہر بار ذکر شریف کے ساتھ مزارِ اقدس

بین عَینیہ من لم یعرفہا من المصلّین علیہ في ھذا الکتاب وھُمْ عامّۃ الناس وجمھورھم،  اھ ملخصاً.

 کی طرف اشارہ کرتا رہے یہ اس لئے کہ دل میں   ایک تصوُّر جم جائے تو اُس وقت دوسری کسی شے کو قبول نہیں   کرتا ‘‘

 اِسے نقل کرکے علامہ فاسی فرماتے ہیں  : جب یہ بات ٹھہری تو روضۂ مطہرہ قبرانور کی تصویر بنانے کی ضرورت محسوس ہوئی کہ جن ’’دلائل الخیرات‘‘پڑھنے والوں   کوان کا نقشہ معلوم نہیں   اور اکثر لوگ ایسے ہی ہیں   توانھیں   تصور جمانے میں   آسانی ہو۔‘‘

            {23} شیخ محقق۲۱  ؎  مولاناعبدالحق محدّث  قُدِّسَ سِرُّہ جَذْبُ الْقُلُوْب إِلٰی دِیارِ الْمَحْبُوْبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّموکتابتَرْغِیْبُ اَھْلِ السَّعَادَۃ میں   فرماتے ہیں  :

از فوائدصلاۃ بر سید کائنات  عَلَیْہِ أَفْضَلُ الصَّلَاۃ است تمثل خیال وے صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم درعین کہ لازم کثرت صلاۃ ست بانعتِ حضور وتوجّہ اللّٰھم صَلِّ وَسَلِّمْ عَلَیْہ اھ ملتقطاً۔

’’حضور سید کائنات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم پر درود شریف پڑھنے کے فوائد میں   سے ہے کہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کا خیال مبارک آنکھوں   میں   بس جاتا ہے جوکہ کثرتِ درود کو لازم ہے جبکہ درود شریف آپ صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ وَسَلَّم کی تعریف اور درود کے معنی پر توجہ کے ساتھ ہو ۔‘‘

            {24}امام محمد۲۲ ؎  ابن الحاج عبدری مکی  قُدِّسَ سِرُّہٗ ’’مَدْخَل‘‘ میں   فرماتے ہیں  :

’’من لم یقدر لہ بزیارتہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم بجسمہ فلینوِھا کلّ وقت بقلبہ ولیحضر قلبہ أنّہ حاضر بین یدیہ متشفِّعاً بہ إلی من منّ بہ علیہ کما قال الإمام أبو محمد بن السید البطلیوسي رحمہ اللّٰہ تعالی في رقعتہ التي أرسلھا إلیہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم من أبیات؎

’’یعنی جسے مزار اقدس حضور سید عالم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکی زیارت جسم سے نصیب نہ ہوئی ہو وہ ہر وقت دل سے اس کی نیت رکھے اور دل میں   یہ تصور جمائے کہ میں   حضور پر نورصَلَوَاتُ اللّٰہِ وَسَلَامُہٗ عَلَیْہکے حضو ر حاضر ہوں   حضور سے اس ذات کی بارگاہ میں   اپنے لئے شفاعت چاہ رہا ہوں   جس نے حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی امت میں   داخل فرماکر مجھ پر احسان کیا جیساکہ امام محمد بن سید بَطْلِیُوسِی  رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنی اُسی عرضی میں   جو مزار پر انوارپر بھیجی یہ اشعار عرض کئے کہ

إِلَیْکَ أَفِرُّ مِنْ زَلَلِيْ وَذَنْبِيْ

 یَارَسُوْلَ اللّٰہمیں   اپنی لغزش وگناہ سے حضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمہی کی پناہ چاہتا ہوں 

وَأَنْتَ إِذَا لَقِیْتُ اللّٰہَ حَسْبِيْ

 اور جب میں   خدا سے ملوں   تو حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مجھے کافی ہیں   

وَزَوْرَۃُ قَبْرِکَ الْمَحْجُوْجِ قِدَماً

حضور کی قبر مبارک کی زیارت کہ ہمیشہ سے جس کا حج ہوتا ہے (یعنی لوگ خاص اُس کی نیت کرکے دور دور سے حاضر ہوتے ہیں  )

مُنَايَ وَبُغْیَتِيْ لَوْشَاءَ رَبِّيْ

 



Total Pages: 27

Go To