Book Name:Wilayat ka Aasan Rasta: Tasawwur-e-Shaikh

قدس اوتعالی درنہایت تنزہ وترفع ومناسبتے کہ سببِ اضافہ واستفاضہ است درمیان مطلوب وطالب مسلوب ست لا جرم از پیر راہ دان راہ بین چارہ  نمودہ کہ برزخ بود (إلی قولہ)  پس در ابتداء ودر

’’اے میرے مخدوم! انتہائی مقصد اور روشن ترین مطلوب اللّٰہ تَبَارَک وَتَعَالٰیکی پاک بارگا ہ تک رسائی حاصل کرنا ہے لیکن طالبِراہ ابتدائی زمانہ میں   مختلف قسم کے دنیاوی  تعلقات کی وجہ سے انتہائی میل کچیل اور پستی میں   ہوتا ہے جب کہ اللّٰہ تعالیٰ کی ذاتِ پاک انتہائی پاکیزگی اور بلندی میں   ہے،  اور وہ مناسبت جو فیض دینے اور لینے کا سبب بنتی ہے وہ مطلوب اور طالب میں   نہیں   ہوتی لہٰذا ضروری ہوتاہے کہ راستہ جاننے اور دیکھنے والے پیر سے اس کا کوئی چارہ حاصل کیا جائے اور وہ چارہ تصوّرِ شیخ ہے، پس طالب ِراہ ابتداء میں 

توسط مطلوب  را بے آئینہ  پیر نمیتواں   دید۔

پیر کے آئینہ کے بغیر مطلوب کو نہیں   دیکھ سکتا۔‘‘

            {15}’’مکتوبات‘‘ کی  جلد دوم۱۴ ؎   میں   ہے:

نسبت رابطہ ہموارہ شمارا باصاحبِ رابطہ می دارد وواسطۂ  فیوض انعکاسی می شود شکرِ ایں   نعمت عظمی بجا باید آورد۔

ترجمہ:’’ تصوّرِ شیخ کی وجہ سے مرشد سے تعلق قائم رہتا ہے اور یہ تصورفیض ملنے کا ذریعہ ہے اس نعمتِ عُظْمٰی کے حصول پر شکر بجالانا چاہیے ۔ ‘‘

            {16}جلد سوم۱۵ ؎   میں   لکھا:

پرسیدہ بودند کہ لم ایں   چیست کہ چوں   در نسبت رابطہ فتور مِیْرَوَد در اتیان سائر طاعات التذاذ نمی یا بد بدانند کہ ہماں   وجہیکہ سبب فتور رابطہ گشتہ است مانع التذاذ ست (إلی قولہ) استغفار باید نمود تا  بکرم  اﷲ سبحانہ اثر آں   مرتفع گردد۔

’’انہوں   نے سوال کیا کہ اس بات میں   کیا راز ہے کہ جب تصوّرِ شیخ میں   فُتور آتا ہے تو تمام عبادتوں   میں   لذت حاصل نہیں   ہوتی وہ جانیں   کہ وجہ یہ ہے کہ رابطۂ شیخ میں   فتور آنا عبادتوں   کی لذت حاصل ہونے میں   رکاوٹ ہے،  استغفار کرنا چاہیے تاکہ اللّٰہ تعالیٰ کے کرم سے اس کا اثر اٹھ جائے۔‘‘

            {17}اور ذرا وہ۱۶ ؎   بھی ملاحظہ ہوجائے جو اُنہوں   نے’’ مکتوبات‘‘ کی جلد دوم مکتوب سیم میں   فرمایا ہے:

خواجۂ محمد اشرف ورزش نسبت رابطہ را نوشتہ بودند کہ بحدے  استیلا یافتہ است کہ در صلوات آنرا مسجود خود میداند ومی بیند واگر فرضاً نفی کند منتفی نمیگردد محبّت اطوار  این دولت متمنائے طلاب ست از ہزاران یکے را مگر بدہند صاحبِ این معاملہ مستعد تامُّ المُناسبۃ ست یحتمل کہ باندک صحبت شیخ مقتدا جمیع کمالات او را جذب نماید رابطہ را چر ا نفی کنند کہ او مسجود إلیہ ست نہ 

ترجمہ: ’’خواجہ محمد اشرف نے لکھا تھا کہ رابطہ کی نسبت یہاں   غالب ہوگئی ہے کہ نمازوں   میں   اُسے مَسْجُوْد جانتا اور دیکھتا ہوں  ،  اگر بالفرض اس کو دور بھی کرنا چاہتا ہوں   تو نہیں   ہوسکتا،  ہم نے جواب دیا (یعنی مجدد الف ثانی  عَلَیْہِ الرَّحْمَۃنے) اے محب محترم! طالبانِ حق اسی دولت کی تمنا کرتے ہیں   اور ہزاروں   میں   سے ایک کو ملتی ہے،  ایسے حال والا شخص کامل مناسبت کی اِسْتِعْداد رکھتا ہے اور شیخ مُقْتَدا کی قلیل صحبت سے تمام کمالات کو جذب کرلیتا ہے، رابطہ کی نفی کیوں   کرتے ہو، رابطہ مَسْجُوْد اِلَیْہ ہے نہ مَسْجُوْد لَہٗ،  محرابوں   کی اور مسجدوں   کی نفی کیوں   

مسجود لہٗ چر ا محاریب ومساجد را نفی نکنند ظہور ایں   قسم دولت سعادت منداں    را میسّر ست تا در  جمیع احوال صاحب رابطہ  را متوسط خود دانند و درجمیع اوقات متوجہ او باشند نہ در رنگ جماعۃ بے دولت کہ خود را مستغنی دارند وقبلہ توجہ را از شیخ خود منحرف سازند  ومعاملۂ خود را برہم زنند۔

نہیں   کرتے، اس قسم کی دولت سعادت مندوں   کونصیب ہوتی ہے تاکہ تمام احوال میں   صاحبِ رابطہ کو اپنا وسیلہ سمجھیں   اور تمام اوقات اسی طرف متوجہ رہیں   نہ ان بدبخت لوگوں   کی طرح جو اپنے آپ کو مُسْتَغْنِی جانتے ہیں   اور تَوَجّہ کے مرکز کو اپنے شیخ کی طرف سے پھیر لیتے ہیں   ۔‘‘

            اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اس واضح مفہوم والی عبارت کا ایک ایک لفظ نجدیت کی جڑیں   اکھیڑدینے والاہے ۔

            اب ہم علماء کی عبارات پر آتے ہیں  ،  {19}پاکیزہ کتاب ’’حَدَائِقُ۱۷ ؎  الأنْوار فِي الصَّلاَۃِ وَالسَّلاَمِ عَلَی النَّبِيَّ الْمُخْتارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم‘‘ میں   ہے :  

الحدیقۃ الخامسۃ في الثمرات التي یجتنیھا العبد بالصلاۃ

یعنی ’’پانچواں   حدیقہ ان پھولوں   کے بیان میں   جنہیں   بندہ حضور سیّد ِ

علی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم والفوائد التي یکتسبھا ویقتنیھا.

عالم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم پر درود بھیج کر چنتا ہے اور ان فائدوں   کے بارے میں   جنھیں  درود کی برکت سے حاصل کرتا ہے۔

            {20} پھر چالیس فائد ے گنوا کرکہتے ہیں  :

’’الإحدی والأربعون من أعظم الثمرات وأجلّ الفوائد المکتسبات بالصّلاۃ علیہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم انطباع صورتہ الکریمۃ في النفس‘‘.’’ وہ فائدہ جو نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمپردرود بھیج کر حاصل کرتے ہیں   ان جَلِیْلُ الْقَدْر فائدوں   میں  سے ایک حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی صورتِ کریمہ کا دل میں   نقش ہونا ہے ۔‘‘

            {21} امام ابو عبداﷲ۱۸ ؎  ساحلی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ’’بُغْیَۃُ السّالِک‘‘ میں   فرماتے ہیں  :

إنّ من أعظم الثمرات وأجلّ الفوائد المکتسبات بالصلاۃ علیہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم انطباع صورتہ الکریمۃ في النفس انطباعاً ثابتاً متأصّلاً متصلاً،  وذالک بالمداومۃ علی

’’ ثَمرات وفوائد کہ نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم پر درود بھیج کر حاصل کئے جاتے ہیں   ان کے اَعظم واَجل (سب سے عظیم اور جلیل القدر) سے یہ ہے کہ حضور پر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی



Total Pages: 27

Go To