Book Name:Naat khuwan aur Nazrana

اس کا ٹھکانہ جہنَّم ہو گا ۔  (مکاشَفَۃُ القُلُوب ص ۱۰)

نعت خوانی اِعزاز ہے

                                 پیار ے بلبلِ مدینہ ! جو نعت خوانی کی سعادت کے اِعزاز کو سمجھنے سے محروم ہو اسے حُبِّ مال و جاہ وغیرہ کی آفتیں سرمایہ داروں ، وزیروں اور افسروں وغیرہ کے یہاں ہونے والی محفلوں میں تو (خدانخواستہ نُمائشی ہوئیں تب بھی ) خوش دلی سے لے جائیں گی مگر غریب اسلامی بھائی جو نہ ایکو ساؤ نڈ کی ترکیب بنا سکے نہ آؤ بھگت کر سکے نہ ہی غربت کے سبب بے چارہ کثیر افراد جمع کر سکے وہاں جانے میں اس کا دل گھبرائے گا، جی اُکتائے گا اور گلا بھی   ’’ بیٹھ ‘‘ جائے گا ! جن کے دل میں واقعی عشق ومحبت اور نعت خوانی کی حقیقی عَظَمت ہے ایسے عاشقانِ رسول کوغریبوں کے یہاں طالِب ثواب ہو کر حاضِری دینے میں کون سی رکاوٹ   آ سکتی ہے ؟ امیر ہو یا غریب جو بھی شرعی تقاضوں کے مطابق اِخلاص کے ساتھ اجتماع ذِکرو نعت کا اہتمام کرے گا اُس کا اور اُس میں شریک ہونے والے ہر مسلمان کا اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ    وَجَلَّ بیڑا پار ہو گا ۔

مصطَفٰے کی نعت خوانی سے ہمیں تو پیار ہے                         اِنْ شَآءَاللہ دوجہاں میں اپنا بیڑا پار ہے

  نعت خوانی ایمان کی حفاظت کا ذَرِیعہ ہے

      نعت خوانی حُضورِ پُرنور ، شافِعِ یومُ النُّشُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی ثنا خوانی اور مَحَبَّت کی نشانی ہے اور حُضورِ پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    کی ثنا خوانی اور مَحَبَّت  اعلیٰ درجے کی عبادت اور ایمان کی حفاظت کا بہترین ذریعہ ہے لہٰذا جب بھی اجتِماع ذکر ونعت میں حاضری ہو تو با ادب رَہنا چاہئے اور مقصود رِضائے الٰہی ہو ۔  جہاں اختِتام پر لنگر وغیرہ کا اہتمام ہوتا ہوا یسی جگہ تاخیر سے پہنچنا سخت مَعْیوب اور اپنے لئے غیبت، تہمت اور بد گمانی کا دروازہ کھولنے کا سبب ہے ایسوں کے بارے میں بسا اوقات اِس طرح کی گناہوں بھری باتیں کی جاتی ہیں ، کھانے کا لالچی ہے ، کھانے کے وقت ہی پہنچتا ہے وغیرہ ۔  ہاں جو مجبور ہے وہ معذور ہے ۔

نعت خواں کی حکایت

    اب مخلص نعت خواں کی فضیلت اور معمولی سی بے احتیاطی کی شامت پر مُشتِمل نہایت ہی عبرت آموزحکایت مُلاحظہ فرمایئے ، چنانچِہ حضرت سیِّدُنا محمد بن ترین ’’مدّاحِ رسول ‘‘ (یعنی نعت خواں ) کیمُتَعلِّق مشہور ہے کہ انہیں جاگتے میں حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    کی آمنے سامنے زیارت ہوتی تھی ۔ جب وہ صبح کے وَقت روضۂ اطہر حاضر ہوئے تو حُضُورانور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ان سے اپنی قبرِ انور میں سے کلام فرمایا ۔  یہ نعت خواں اپنے اسی مقام پر فائز رہے حتّٰی کہ ایک شخص نے ان سے درخواست کی کہ شہر کے حاکم کے پاس اس کی سفارش کریں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حاکم کے پاس پہنچے اور سفارش کی  ۔ اس حاکم نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکو اپنی مسند پر بٹھایا  ۔ تب سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی زیارت کا سلسلہ ختم ہو گیا پھر یہ ہمیشہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی بارگاہ میں زیارت کی تمنّا پیش کرتے رہے مگر زیارت نہ ہوئی  ۔ ایک مرتبہ ایک شِعر عرض کیا تو دُورسے زیارت ہوئی ، حضورِاکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا  :  ’’ ظالموں کی مَسنَد پر بیٹھنے کے ساتھ میری زیارت چاہتا ہے اس کا کوئی راستہ نہیں  ۔ ‘‘ حضرت سیِّدُنا علی خواص  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں کہ پھر ہمیں ان بُزُرگ(نعت خواں ) کے متعلق خبر نہ ملی کہ ان کو سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی زیارت ہوئی یا نہیں حتّٰی کہ ان کا وصال ہو گیا  ۔ (میزان الشریعۃ الکبریٰ ص ۴۸) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

            جو لوگ ذاتی مَفاد کی خاطر اربابِ اقتِدار کے آگے پیچھے پھرتے ، کبھی کسی وزیر یا صدر وغیرہ کے یہاں موقع ملے تو اُڑتے ہوئے حاضِر ہو جاتے ، صدر تمغہ پہنا دے یا ہاتھ ملا لے تو اُس کی تصویر آویزاں کرتے دوسروں کو دکھاتے اور اس کو بہت بڑااعزاز تصوّر کرتے ہیں اُن کیلئے گزشتہ حکایت میں بہت کچھ درسِ عبرت ہے           

اَلْعَاقِلُ تَکْفِیْہِ الْاِ شَارَۃُ          یعنی عقلمند کیلئے اشارہ کافی ہے ۔

          پیارے نعت خواں !اگر آپ روحانیّت چاہتے ہیں ، تو سامِعین کی کثرت و قلِّت کو مت دیکھئے ، چاہے ہزاروں کا اجتماع ہو یافقط ایک ہی فرد، اُسی لگن اوردُھن کے ساتھ آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے تصوُّر میں ڈوب کر نعت شریف پڑھئے ، بلکہ تنہائی میں بھی ثناخوانی کی عادت بنایئے ۔  حضرت مولاناحسن رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے اس شعر کو صرف رسمی طور پرپڑھنے کے بجائے اس کی حقیقت کی طرف بھی متوجّہ رہئے ۔  

دل میں ہو یاد تری گوشہ ٔ تنہائی ہو

پھر تو خلوت میں عجب انجمن آرائی ہو

       اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ    وَجَلَّ پھر تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔     ؎

جلوے خودآئیں طالب دیدار کی طرف

اگر کوئی بات غلط پائیں تو میری اِصلاح فرما دیجئے  ۔

دعائے مغفرت کابھکاری ہوں  ۔

طالب غمِ مدینہ و بقیع و مغفرت و

بے حساب  جنّت الفردوس  میں آقا کے پڑوس کا طالب

 



Total Pages: 7

Go To