Book Name:Naat khuwan aur Nazrana

             قاری ونعت خواں کو کھانا پیش کرنے کے سلسلے میں میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ارشاد فرمایا :  پڑھنے کے عِوَض کھانا کھلاتا ہے تو یہ کھانا نہ کھلانا چا ہئے ، نہ کھانا چاہئے اور اگرکھائے گا تو یہی کھانا اِس کا ثَواب ہوگیا اور (یعنی مزید)ثَواب کیا چاہتا ہے بلکہ جاہِلوں میں جو یہ دَستُور ہے کہ پڑھنے والوں کو عام حِصّوں سے دُونا(یعنی ڈبل) دیتے ہیں اور بعض اَحْمَق پڑھنے والے اگر اُن کو اَوروں سے دُونا نہ دیا جائے تو اِس پر جھگڑتے ہیں ۔ یہ زِیادَہ لینا دینا بھی مَنْع ہے اور یہی اُس کا ثَواب ہوگیا قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی (یعنی اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے ) :

لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا٘- (پ۱، البقرۃ ۴۱)

ترجَمۂ کنزالایمان : میری آیتوں کے بدلے تھوڑے دام نہ لو ۔ ( فتاوٰی رضویہ ج ۲۱ ص ۶۶۳ )

سب کیلئے کھانا

             اِسی صَفْحے پر ایک دُوسرے فَتوے میں ارشاد فرمایا :  جب کسی کے یہاں شادی میں عام دعوت ہے جیسے سب کو کھلایا جائے گا، پڑھنے والوں کو بھی کھلایا جائے گا اُس میں کوئی زِیادَت وتخصیص نہ ہوگی(یعنی دوسروں کے مقابلے میں نہ زیادہ ملے گا نہ ہی کوئی اسپیشیل ڈِش ہو گی) تو یہ کھانا پڑھنے کا مُعَاوَضَہ نہیں ، کھانا بھی جائز اور کِھلانا بھی جائز  ۔ (اَیضاً)

اعلٰی حضرت کے فتوے کا خُلاصہ

            قاری اورنعت خواں کی دعوت سے مُتَعَلِّق امامِ اَہلسنّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے فتاوٰی سے جو اُمُور واضِح ہوئے وہ یہ ہیں  :  {1}کھاناکھلانے والے کے لیے جائز نہیں کہ وہ ان نیک کاموں کی اُجْرَت کے طور پر مذکورہ اَفراد کو کھانا کھلائے {2} قاری اور نعت خواں کے لیے ناجائز ہے کہ وہ بطور ِاُجْرت دعوت کھائیں {3}اُجرت کی صورتیں پیچھے بیان کردی گئیں لہٰذا ’’ اُجرت کے کھانے ‘‘ کو نفس کی حرص کی وجہ سے ’’ نیاز‘‘ کہہ کر مَن کو منا لینا اِس کھانے کو حلال نہیں کر دے گا لہٰذا مذکورہ افراد میں سے کوئی قِرائَ ت یا نعت شریف پڑھنے کے بعد’’ صراحتاً یا دَلالتاًطے شدہ خُصُوصی دعوت‘‘ قَبُول کرتے ہوئے کھائیگا تو ثَوابِ اُخرَوِی سے محروم رہیگا بلکہ یِہی کھانا چائے بِسکُٹ وَغَیرہ اِس کا اَجْر ہوجائیگا {4} اگر عام دعوت ہو(یعنی وہ نعت خواں غیرحاضِر ہوتا جب بھی یہ دعوت ہوتی)تو اب ضِمناًان مذکورہ اَفراد کوکھلانے اور ان اَفراد کے کھانے میں کوئی مُضایَقہ نہیں {5}اگر دعوت تو عام ہو مگر قاری یا نعت خواں کے لیے خُصُوصی کھانے کا اِہتِمام ہو مَثَلاً لوگوں کیلئے صِرْف بریانی اور ان کے لیے سَلَاد، رَائتے اور چائے کا بھی اِہتِمام ہو یا دِیگر لوگوں کو ایک ایک حصّہ اور ان کو زِیادَہ دیا جائے تو وہ خُصُوصیّت و زِیادَت (یعنی مخصوص غذا اور اضافہ) اُجرت ہونے کے باعث فریقین کے لیے ناجائز وحرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے  ۔ لیکن یہ یاد رہے کہ اس میں بھی وُہی شرط ہے کہ پہلے سے صراحتا ًیا دَلالتاًطے ہو تب حرام ہے ورنہ اگر طے نہ تھا اور اس کے بِغیر ہی اہتمام ہوا تو پھر جائز ہے ۔

کیا ہر حال میں دعوت قَبول کرنا سنّت ہے ؟

            اگر نعت خواں اورقاری صاحِبان یہ کہیں کہ ہم نے نہ تو اس خُصُوصی دعوت کے لیے کہا تھا اور نہ ہی اُجْرَت کے طور پر کھاتے ہیں بلکہ دعوت قَبُول کرنا سُنّت ہے اس لئے تبرّک سمجھ کر نیازکھالیتے ہیں ، ایسا کہنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ اگر کسی اجتماعِ ذِکر ونعت کے موقع پر نیاز کے نام پر([1]) ’’ خُصُوصی دعوت‘‘ نہ کی جائے تو کیا اپنی دِلی کَیفِیات میں تبدیلی نہیں پاتے ؟ کیا انہیں اس بات کا اِحساس نہیں ہوتا کہ کیسے عَجیب(بلکہمَعاذَاللّٰہ) کنجوس لوگ ہیں کہ پانی تک کا نہیں پوچھا ؟ کیا آیَندہ اس جگہ پر نعت خوانی کے لیے آنے میں بے رغبتی نہیں ہو گی؟ اگر مذکورہ افراد اپنی دِلی کَیفِیات تبدیل نہیں پاتے اور آنے والے وساوس کو نفس وشیطان کی شرارت قرار دیتے ہوئے ضِیافَت نہ کرنے والے کی کسی کے سامنے نہ شکایت کرتے ہیں نہ ہی آیَندہ ایسی جگہ جانے سے کتراتے ہیں ، نیز دیگر غریب اسلامی بھائیوں کی دعوت قبول کرنے میں بھی پَس و پیش سے کام نہیں لیتے تو ان پر آفرین ہے ، ایسے نعت خواں قابِلِ سَتائِش ہیں مگر دلوں کی حالت ایسی ہوتی ہے …یا نہیں ؟ یہ قاری و نعت خواں حضرات خوب جانتے ہیں ، اپنے دل کی گہرائی میں جھانک کر اس کا فیصلہ خود ہی کرلیں ۔    ؎

  اللّٰہ  کر ے دل میں اتر جائے مری بات

وَسوسوں میں مت آئیے

            محترم نعت خواں !ممکن ہے شیطان آپ کو طرح طرح کے وَسوسے ڈالے ، بہکائے اور یہ باوَر کروانے کی کوشِش کرے کہ تُو تومُخلِص ہے ، تیرا کوئی قُصُور نہیں ، لوگ تجھے مجبور کرتے ہیں ، اور یہ بھی بے چارے مَحَبَّت کی وجہ سے بخوشی ایسا کرتے ہیں ، کسی کا دل نہیں توڑنا چاہئے ، تُو سب کچھ قَبول کر لیا کر اور یوں بھی یہ تیرے لئے تبرُّک ہے ۔ نیز اگر کوئی نعت خواں نابینا یا معذور ہو تو اُس کو وسوسے کے ذَرِیعے مات کرنا شیطان کیلئے مزید آسان ہو تا ہے ۔  دیکھئے ! نابینا ہو یابینا(یعنی دیکھتا) حکمِ شریعت ہر ایک کیلئے وُہی ہے جو میرے آقا اعلیٰ حضرت  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے فتاوٰی کی روشنی میں بیان کیا گیا ۔ ہم سب کا اِسی میں بھلا ہے کہ حرام کھانے ، کِھلانے سے بچیں ۔ نَفس کی چال میں آ کرشَرعی فتاوٰی کے مقابلے میں اپنی مَنطِق بگھار کر سادہ لوح عوام کو تو جھانسا دیا جا سکتا ہے مگر حرام پھر بھی حرام ہی رہے گا ۔  اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہم سب کو حرام کھانے پہننے سے بچائے  ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم 

حرام لقمے کی تباہ کاریاں

          منقول ہے :  آدمی کے پیٹ میں جب حَرام کا لقمہ پڑا ، تو زمین و آسمان کا ہرفِرِشتہ اُس پر لعنت کرے گا ، جب تک کہ وہ لقمہ اس کے پیٹ میں رہے گا اور اگر اسی حالت میں مریگا تو



[1]     اہلُ اللّٰہ  کے ایصالِ ثواب کیلئے نیاز کرنا بڑی نیکی ہے ، مگر اُجرت کے حکم میں آنے والی خصوصی دعوت کو نیاز کا نام نہیں دیا جا سکتا ۔



Total Pages: 7

Go To