Book Name:Aaqa Ka Pyara Kon?

    یتیم کی تعریف

          جس کا باپ فوت ہوجائے وہ یتیم کہلاتا ہے بشرطیکہ نابالغ ہو، بالغ لڑکا یتیم نہیں کہلاتا۔(مراٰۃ المناجیح ، ۵/ ۱۱۳)

سایۂ عرش نصیب ہوگا

           صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ رحمت نشان ہے : جس نے کسی یتیم یا بیوہ کی کفالت کی اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  اسے قیامت کے دن اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطافرمائے گا۔(المعجم الاوسط، ۶/ ۴۲۹، حدیث : ۹۲۹۲)

(حکایت : 6)

سزا کے بجائے وظیفہ مقرر کردیا

           ایک بچے نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے بیٹے کو مارا، لو گ اس بچے کو پکڑ کر ان کی زوجہ فاطمہ بنت عبدالملک کے پاس لے گئے۔ خلیفۂ وقت حضرتِ عمر بن عبدالعزیز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  دوسرے کمرے میں تھے ، شور سنا تو کمرے سے نکل آئے۔ اسی دوران ایک عورت آئی اور کہنے لگی :  یہ میرا بچہ ہے اور یتیم ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے پوچھا :  اس یتیم کو وظیفہ ملتا ہے ؟ عَرض کی :  نہیں۔ خادِم سے فرمایا :  اس کا نام وظیفہ خوار بچوں میں لکھ لو۔(سیرت ابن جوزی ص۲۰۷)

            سچ ہے کہ ہر بُلند مرتبہ شخص عاجزی اور دوسروں کی دِلجُوئی کرنے والا ہوتا ہے۔ اُس کی مثال تو اُس درخت کی سی ہوتی ہے، جس پر جتنے زیادہ پھل آتے ہیں اُس کی شاخیں اُسی قَدَر جھک جاتی ہیں، جو خوش نصیب کمزوروں کے ساتھ نَرمی اور مُرَوَّت کا برتاؤ کرتے ہیں، وہ قِیامت کے دِن شاداں وفرحاں ہونگے جبکہ مغروروں کو شرمندگی کے سِوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔

 سب سے پسندیدہ گھر

           تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا :  مسلمانوں کے گھروں میں سے بہترین گھر وہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتا ہو اور مسلمانوں کے گھروں میں سے بدترین گھر وہ ہےجس میں یتیم کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہو۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب الادب، باب حق الیتیم، ۴/ ۱۹۳، حدیث : ۳۶۷۹)

یتیم سے حُسنِ سلوک کی صورتیں

          مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان   اِس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : یتیم سے سلوک کی بہت صورتیں ہیں : اس کی پرورش، اس کے کھانے پینے کا انتظام، اس کی تعلیم و تربیت، اسے دین دار نمازی بنانا سب ہی اس میں داخل ہے۔غرضکہ جو سلوک اپنے بچے سے کیا جاتا ہے وہ یتیم سے کیا جائے(اور) بُرے سلوک میں مذکورہ چیزوں کی مقابل تمام چیزیں داخل ہیں۔(مراٰۃ المناجیح، ۶/ ۵۶۲)

    شیطان دسترخوان کے قریب نہ آئے

           نبیٔ رحمت ، شفیع امُتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : جس قوم کے دسترخوان پر یتیم ہوتاہے شیطان اس دسترخوان کے قریب نہیں جاتا۔

( معجم اوسط، ۵/ ۲۳۰، حدیث : ۷۱۶۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۷) بال بچے والے نیک آدمی کی فضیلت

          قرارِ قلب وسینہ ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : مَنْ قَلَّ مَالُہٗ، وَکَثُرَ عَیَالُہٗ، وَحَسُنَتْ صَلَاتُہٗ، وَلَمْ یَغْتَبِ الْمُسْلِمِیْنَ جَائَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَہُوَ مَعِیَ کَہَاتَیْنِیعنی جس کا مال کم ہو، اہل و عیال زیادہ ہوں، نماز اچھی ہو اور مسلمانوں کی غیبت نہ کرے ، قیامت کے دن وہ میرے ساتھ اس طرح آئے گا جس طرح یہ دو انگلیاں ملی ہوئی ہیں۔(مسندابی یعلی ، ۱/ ۴۲۸، حدیث : ۹۸۶)

کریم ایسا ملا کہ جس کے کھلے ہیں ہاتھ اور بھرے خزانے

بتاؤ اے مفلسو! کہ پھر کیوں تمہارا دل اِضطراب میں ہے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(حکایت : 7) 

  تمہاری دعا میری دعا سے افضل ہے

 



Total Pages: 19

Go To