Book Name:Aaqa Ka Pyara Kon?

جنت میں یوں ہوں گے

          رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا :  مَنْ عَالَ جَارِیَتَیْنِ دَخَلْتُ اَنَا وَہُوَ الْجَنَّۃَ کَہَاتَیْنِ وَاَشَارَ بِاِصْبَعَیْہِ یعنی جس نے دو بچیوں کی پرورش کی میں اور وہ جنت میں یوں ہونگے ، اور نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنی دو مبارک انگلیوں کو ملا کر اشارہ فرمایا ۔

(ترمذی، کتاب البروالصلۃ، باب ماجاء فی النفقۃعلی البنات والاخوات، ۳/  ۳۶۶حدیث : ۱۹۲۱)

مَدَنی مشورہ : بیٹی کی پرورش کے مزید فضائل اور دیگر معلومات کے حصول کے لئے مکتبۃ المدینہ کا32 صفحات پر مشتمل رسالہ ’’زندہ بیٹی کنویں میں پھینک

 دی ‘‘ ضرور پڑھئے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۵)خالہ، پھوپھی، نانی اوردادی کی کفالت کرنے کی فضیلت

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمارے مَدَنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بیٹیوں کے ساتھ ساتھ دیگر رشتہ دار عورتوں کی کفالت کی بھی فضیلت بیان فرمائی ہے چنانچہ خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ تقرب نشان ہے :  جس نے دو بیٹیوں ، دو بہنوں، دو خالاؤں، دو پھوپھیوں یا نانی اور  دادی کی کفالت کی وہ اور میں جنت میں یوں ہوں گے، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اپنی شہادت اور اس کے ساتھ والی انگلی کو ملایا۔(المعجم الکبیر، ۲۲/ ۳۸۵، حدیث : ۹۵۹)

جن کو سُوئے آسما ں پھیلا کے جل تھل بھر دئیے

صدقہ ان ہاتھوںکا پیارے ہم کو بھی درکار ہے     (حدائق بخشش، ص۱۷۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

(۶)  یتیم بچوں کی کفالت کا ثواب

          رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  جس نے تین یتیم بچوں کی کفالت کی وہ دن کو روزہ رکھنے ، رات کوعبادت کرنے اور اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے، میں اور وہ جنت میں یوں ایک ساتھ ہوں گے جیسے یہ دو انگلیاں، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے شہادت اور بیچ والی انگلی کو ملایا۔ ( سنن ابن ماجہ، کتاب الادب، باب حق الیتیم، ۴/ ۱۹۴حدیث : ۳۶۸۰ )

  یتیم کی کَفَالَت کرنے والا جنت میں میرے ساتھ ہوگا

           سرکارِ نَامْدَار، بِاِذْنِ پَروردگار غیبوں پر خبردارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : میں اور یتیم کی کَفَالَت کرنے والا جنت میں اِس طرح ہوں گے ، شہادت اور بیچ والی انگلی کی طرف اِشارہ کیا۔(بخاری، کتا ب الادب، باب فضل من یعول یتیما، ۴/ ۱۰۱حدیث : ۶۰۰۵)

 یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنے کی فضیلت

          سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ جو اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی رضا کے لئے کسی یتیم  (لڑکے یالڑکی)کے سر پر ہا تھ پھیرے گا تو جس جس بال پر سے اس کا ہاتھ گزرے گا اس کے عوض ہاتھ پھیرنے والے کیلئے نیکیاں لکھی جائیں گی اورجو اپنے زیرِ کفالت یتیم (لڑکے یالڑکی)کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا

     میں اور وہ جنت میں اس طرح ہونگے۔ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اپنی شہادت اور بیچ والی انگلیوں کو ملایا ۔

 (مسند احمد بن حنبل، حدیث ابی امامۃ، ۸/ ۳۰۰، حدیث : ۲۲۳۴۷)

وہ جنت میں میرا ساتھی یا پڑوسی ہوگا

            مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان   اِس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :  وہ جنت میں میرا ساتھی یا پڑوسی ہوگا جیسے بادشاہ کے خدام بادشاہ کی کوٹھی میں ہی رہتے ہیں مگر خادِم ہوکر ایسے ہی وہ بھی میرے ساتھ رہے گا مگر میرا اُمتی غلام ہوکر۔ یتیم بچہ سے کسی قسم کا سلوک ہو ثواب کا باعث ہے۔ (مفتی صاحب مزید لکھتے ہیں : ) دو انگلیوں سے مراد کلمہ کی اور بیچ کی انگلی مراد ہے جن میں فاصلہ بالکل نہیں۔(مراٰۃ المناجیح ، ۶/ ۵۶۳)

دل کی سختی دور ہوتی ہے

          یتیم کے سرپر ہاتھ پھیرنے اور مسکین کو کھانا کھلانے سے دل کی سختی دور ہوتی ہے۔ چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت  میں اپنے دل کی سختی کی شکایت کی۔ نبیِّ رحمت، شفیع امت   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرو اور مسکین کو کھانا کھلاؤ۔

(مسند امام احمد ، مسند ابی ھریرۃ، ۳/ ۳۳۵، حدیث : ۹۰۲۸)

 



Total Pages: 19

Go To