Book Name:Aaqa Ka Pyara Kon?

(۳)  قیامت میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا قُرب ملے

          سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  جمعہ کے دن مجھ پر درود کی کثرت کرو، کیونکہ جمعہ کے روز میری اُمت کا درود مجھ پر پیش کیا جاتاہے ، جس شخص نے مجھ پر کثرت سے درود پڑھا وہ قیامت کے دن سب سے زیادہ میرے قریب ہو گا۔

 (شعب الایمان، باب فی الصلوات، فضل الصلاۃ علی النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،     ۳/ ۱۱۰، حدیث : ۳۰۳۲)

              ان پر درود جن کو حجر تک کریں سلام        ان پر سلام جن کو تحیت شجر کی ہے

       جن و بشر سلام کو حاضر ہیں السلام              یہ بارگاہ مالک جن وبشر کی ہے     (حدائق بخشش، ص۲۰۹)

(حکایت : 5)

نجات کا پروانہ

          حضرت سَیِّدمحمد کُردی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہ الْقَوِیارشاد فرماتے ہیں : ’’ میری والدۂ مَاجدہ نے خبر دی کہ میرے والدِ ماجد (یعنی حضرت سیِّد محمد کُردی کے نانا جان) جن کا نام محمدتھاانہوں نے مجھے وَصِیَّت کی تھی کہ جب میرا اِنتقال ہوجائے اور مجھے غُسل دے لیا جائے تو چَھت سے میرے کَفن پر ایک سَبز رنگ کا رُقعہ گرے گا جس میں لکھا ہوگا ’’ھٰذِہٖ بَرَائَ ۃُ مُحَمَّدِنِ العَالِمِ بِعِلْمِہٖ مِنَ النَّار یعنی محمدجو عالمِ ہے اس کو اِس کے علم کے سبب جہنم سے چھٹکارا مل گیا ہے۔‘‘اُس رُقعے کو میرے کَفن میں رکھ دینا ۔ ‘‘چُنانچہ غُسل کے بعد رُقعہ گِرا ، جب لوگوں نے رُقعہ پڑھ لیا تو میں نے اسے اُن کے سینےپررکھ دیا ۔ اُس رُقعے میں ایک خاص بات یہ تھی کہ جس طرح اسے صفحہ کے اوپر سے پڑھاجاتا تھا اسی طرح صفحہ کے پیچھے سے بھی پڑھا جاتا تھا۔ میں نے اپنی والدئہ ماجدہ سے پوچھا کہ نانا جان کا عمل کیا تھا؟  اَمّی جان نے فرمایا :  

’’ کَانَ اَکْثَرُ عَمَلِہٖ دَوَامُ الذِّکْرِمَعَ کَثْرَۃِ الصَّلٰوۃِ عَلَی النَّبِی،

یعنی اُن کا یہ عمل تھاکہ وہ ہمیشہ ذِکرُاللّٰہ کرنے کے ساتھ ساتھ دُرُودِپاک کی کثرت بھی کیا کرتے تھے۔ ‘‘

                                                                                                                        (سعادَۃ الدارین، الباب الرابع ، اللطیفۃ السادسۃ التسعون، ص۱۵۲ )

    (۴)  بچیوں کی پرورش کرنے کی فضیلت

          سیِّدُ الْمُبَلِّغِین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  جس نے دو بچیوں کے بالغ ہونے تک پرورش کی تو میں اور وہ قیامت کے دن اس طرح آئیں گے۔پھر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنی دونوں مبارک انگلیوں کو ملاکر دکھایا۔(مسلم، کتاب البر، باب فضل الاحسان، ص۱۴۱۵حدیث : ۲۶۳۱)

  حضرتِ سیِّدُنا علامہ عبد الرء ُوف مناوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی فرماتے ہیں :  پرورش کرنے سے مراد یہ ہے کہ دو چھوٹی بچیوں کو پالے اور ان کی بہتری اور ضرورت کی چیزیں جیسے اخراجات اور کپڑوں کا انتظام کرتا رہے ۔  (فیض القدیر ، حرف المیم ، ۶/  ۲۳۰ ، تحت الحدیث :  ۸۸۴۵)

حضرتِ سیِّدُنا علامہ ملا علی قاریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ البَارِی فرماتے ہیں :  بالغ ہونے تک سے مراد یہ ہے کہ یا تو بلوغت کی عمر کو پہنچ جائیں یا شادیاں ہو کر شوہر والیاں ہوجائیں ۔

  (مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الاٰداب ، باب الشفقۃ الرحمۃ علی الخلق، ۸/  ۶۸۳ ، تحت الحدیث :  ۴۹۵۰)

 حضرتِ سیِّدُنا محمد علی بن محمد عَلّان صِدِّیقی شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں :  قیامت میں ساتھ آنے سے مراد یہ ہے کہ وہ میدانِ محشر میں میرے ساتھ آئے گا اور میرے قُرب میں موجود ہوگا ۔ (دلیل الفالحین ، جزء ۳ ، باب ملاطفۃ الیتیم ، ۲/  ۸۶، تحت الحدیث :    ۲۶۸)

حضرتِ علامہ عبد الرء ُوف مناوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی فرماتے ہیں :  انگلیاں ملانے سے اس با ت کی طرف اِشارہ کرنا مقصود تھا کہ یہ عمل کرنے والا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے قریب ہے ، یعنی اس کام کو کرنے والا ان درجات میں سے ایک درجے کا قرب پالیتا ہے جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو عطا ہوئے ہیں ۔                                                                                                                       (فیض القدیر ، حرف المیم ، ۶/  ۲۳۰ ، تحت الحدیث :  ۸۸۴۵)                                       

مُفَسِّرِشَہِیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان   اِس حدیث کے تحت لکھتے ہیں :  خوش دلی سے دو لڑکیوں کو پال دینا خواہ اپنی  بیٹیاں ہوں یا بہنیں ہوں یا یتیمہ بچیاں ، قیامت میں مجھ سے قرب کا ذریعہ ہے ، اور جسے اس دن حضور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) کا قُرب نصیب ہوجائے اسے سب کچھ مل جائے ۔

 (مراٰۃالمناجیح ، ۶/  ۵۴۶)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بچیوں کی پرورش کے انعام میں ملنے والی فضیلت جہاں سعادت مندوں کے لئے دل ودماغ کی راحتوں کا سبب ہے وہیں بیٹیوں کی پیدائش پر ناگواری کا اظہار کرنے والوں کے لئے درسِ عبرت بھی ہے جو محض اپنی انا کی تسکین اور جھوٹی عزت برقرار رکھنے کے لئے بیٹیوں کا باپ کہلانا پسند نہیں کرتے ، ایسوں کو بھی چاہئے کہ خوش دلی سے بچیوں کی پرورش کریں اور اُخروی انعامات کے مستحق قرار پائیں ۔

 



Total Pages: 19

Go To