Book Name:Aaqa Ka Pyara Kon?

             اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   ہمیں سنتیں اپنانے سنتیں پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اس حدیث میں کینے کا ذکر بھی ہوا ، آئیے کینے کے بارے میں چند ضروری معلومات حاصل کرتے ہیں، چنانچہ

کینہ کی تعریف

          کینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے ، اس سے (غیر شرعی) دشمنی اوربغض رکھے، نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ  باقی رہے ۔

(احیاء العلوم، کتاب ذم الغضب والحقدوالحسد، القول فی معنی الحقد، ۳/ ۲۲۳)

            مثلاً کوئی شخص ایسا ہے جس کا خیال آتے ہی آپ کو اپنے دل میں بوجھ سا محسوس ہوتا ہے، نفرت کی ایک لہر دل ودماغ میں دوڑ جاتی ہے ، وہ نظر آجائے تو ملنے سے کتراتے ہیں اورزُبان ، ہاتھ یاکسی بھی طرح سے اُسے نقصان پہنچانے کا موقع ملے تو پیچھے نہیں رہتے تو سمجھ لیجئے کہ آپ اس شخص سے کِینہ  رکھتے ہیں اور اگر ان میں سے کوئی بات بھی نہیں بلکہ ویسے ہی کسی سے ملنے کو جی نہیں چاہتاتو یہ کینہ نہیں کہلائے گا۔

کینہ کا حکم

          مسلمان سے بلاوجہ شرعی کینہ وبُغْض رکھنا حرام ہے۔(فتاویٰ رضویہ ۶/۵۲۶) حضرتِ سیدناعلّامہ عبد الغنی نابلسی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  فرماتے ہیں : حق بات بتانے یاعدل وانصاف کرنے والے سے بغض وکینہ رکھنا حرام ہے ۔(الحدیقۃ الندیۃ، ۱/ ۶۲۹)

مؤمن کینہ پرور نہیں ہوتا

          مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے : مؤمن کینہ پرور نہیں ہوتا۔

(الزواجر عن اقتراف الکبائر، الکبیرۃ الثالثۃ الغضب بالباطل...الخ، ۱؍۱۲۴)

مصافحہ کیا کرو کینہ دور ہوگا

           نبی مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : مصافحہ کیا کرو کینہ دُور ہوگا اور تحفہ دیا کرو محبت بڑھے گی اور بغض دور

     ہوگا۔ (مؤطا امام مالک، کتاب حسن الخلق، باب ماجاء فی المھاجرۃ، ۲/ ۴۰۷، حدیث : ۱۷۳۱)

لوگوں میں افضل ترین کون؟

          حضرت سیدنا معاویہ بن قُرَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   فرماتے ہیں : لوگوں میں افضل ترین وہ ہے جو اُن میں سب سے پاکیزہ سینے والا اورسب سے زیادہ غیبت سے بچنے والا ہے۔(المصنف لابن ابی شیبہ، کتاب الزہد، حدیث ابی قلابہ، ۸/ ۲۵۴، حدیث : ۸)

سب سے افضل صدقہ

          حضرتِ سیدنا حکیم بن حِزام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نے فرمایا :  ایک شخص نے سیِّدُالْمُبَلِّغِین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں عرض کی : سب سے افضل صدقہ کون سا ہے ؟ فرمایا : جو کینہ پر ور رشتہ دار پر کیا جائے۔(مسنداحمد بن حنبل، مسند حکیم بن حزام، ۵/ ۲۲۸حدیث : ۱۵۳۲۰)

(حکایت : 4)

دُورہی سے شرائط دکھانے والا نوکر

          ایک نک چڑھا رئیس اپنے نوکروں کو وَقْت بے وَقْت ڈانٹتا جھاڑتا رہتا تھا جس کی وجہ سے نوکروں کے دل میں اس کابغض وکینہ بیٹھ چکا تھا۔اس رئیس نے ہر نوکر کو اس کی ذمہ داریوں کی تحریری لسٹ(List) بنا کر دی ہوئی تھی اگر کوئی نوکر کبھی کوئی کام چھوڑ دیتا تو رئیس اُسے وہ لسٹ دِکھا دِکھا کر ذلیل کرتا ۔ایک مرتبہ وہ گھڑ سواری کا   شوق پورا کرکے گھوڑے سے اُتر رہا تھا کہ اُس کا پاؤں رِکاب میں اُلجھ گیااسی دوران گھوڑا بھاگ کھڑا ہوا ، اب رئیس اُلٹا لٹکاگھوڑے کے ساتھ ساتھ گھسٹ رہا تھا ۔ اس نے پاس کھڑے نوکر کو مدد کے لئے پکارا مگر اسے تو بدلہ چُکانے کا موقع مل گیا تھا ، چنانچہ اس نے اپنے مالک کی مدد کرنے کے بجائے جیب سے اُسی کی دی ہوئی لسٹ نکالی اور دُور ہی سے اس کو دکھا کر کہنے لگا کہ اِس میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ اگر تمہارا پاؤں گھوڑے کی رِکاب میں اُلجھ جائے تو اسے چُھڑانا میری ڈیوٹی ہے ۔ یہ سن کر رئیس نوکروں سے کئے ہوئے بُرے سلوک پر پچھتانے لگا ۔اللّٰہ تعالٰی ہمیں کینے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ 

مَدَنی مشورہ :  بغض وکینہ کے بارے میں مزید معلومات کے لئے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب’’بغض وکینہ ‘‘ کا مطالعہ بے حد مفید ہے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 



Total Pages: 19

Go To