Book Name:Aaqa Ka Pyara Kon?

مجھے گھورنے لگے۔ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سمجھ گئے، آپ نے فرمایا : یہ علم اسی طرح عزت والے کی عزت میں اضافہ کرتا ہے اور غلاموں کو تخت پر بٹھا دیتا ہے۔(الفقیہ والمتفقہ للخطیب البغدادی ، ۱/ ۱۳۹، رقم : ۱۱۷)

            علمِ دین کی برکت سے نہ صرف نیکیاں کمانے اور گناہوں سے بچنے کا موقع ملتا ہے بلکہ سابقہ گناہوں کا کفارہ بھی ہوجاتا ہے ، چنانچہ

گناہوں کا کفارہ

          حضور نبی کریم ، رَء ُوْفٌ رَّحیم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَ التَّسْلِیمنے اِرشاد فرمایا :  جس نے علم حاصل کیا تو یہ اس کے سابقہ گناہوں کا کفارہ ہوگیا۔

 ( تِرمِذی، کتاب العلم، باب فضل طلب العلم، ۴/  ۲۹۵، حدیث۲۶۵۷)

          مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان  فرماتے ہیں : طالبِ علم سے صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں جیسے وضو نماز وغیرہ عبادات سے ، لہٰذا س کا مطلب یہ نہیں ہے کہ طالب علم جو گناہ چاہے کرے یا مطلب یہ ہے کہ اللّٰہ تعالٰینیتِ خیر سے علم طلب کرنے والوں کو گناہوں سے بچنے اور گزشتہ گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کی توفیق دیتا ہے۔  ( مراٰۃ المناجیح ، ۱ /۲۰۳)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! علمِ دین دنیا میں عزت ، آخرت میں عظمت اور  قبر میں راحت کا سبب ہے ، چنانچہ

علم قبر میں سکون پہنچائے گا

           حضرتِ علّامہ جلالُ الدّین سُیُوطی الشّافِعی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی ’’شرحُ الصدور ‘‘میں نقل کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا عبدُ اللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں :

     سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ        کافرمانِ عافیت نِشان ہے : اِذَا مَاتَ الْعَالِمُ صَوَّرَ اللّٰہُ عِلْمَہٗ فِیْ قَبْرِہِ یُؤْنِسُہٗ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ یعنی جب کسی عالم کا انتقال ہوتا ہے اللّٰہ تَعَالٰی اس کے علم کو اس کی قبر میں متشکل (یعنی کوئی شکل عطا) فرما دیتا ہے جو قیامت تک اسے سکون پہنچاتا ہے

            (شرح الصدور، باب احادیث الرسول فی عدۃ امور، ص۱۵۸)

علم سیکھنے کے لئے چھ ضروری چیزیں

          حضرتِ سیِّدُنا امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الکافی کا فرمان ہے : حصولِ علم کے لئے چھ چیزیں ضروری ہیں : ذہانت، شوق ورغبت، محنت وکوشش، مناسب خوراک، استاذ کی صحبت اور طویل عرصے تک علم سیکھنا۔(المستطرف، الباب الرابع :  فی العلم والادب، ۱/ ۴۱)

زمین وآسمان والے استغفار کرتے ہیں

          فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے : اِنَّ طَالِبَ الْعِلْمِ یَسْتَغْفِرُ لَہٗ مَنْ فِی السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ. یعنی زمین وآسمان کی تمام مخلوق طالب علم کے لئے دعائے

     مغفرت کرتی ہے۔  (ابن ماجہ، المقدمۃ، فضل العلماء والحث علی طلب العلم، ۱/ ۱۴۶، حدیث : ۲۲۳، ملتقطاً)

            حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی فرماتے ہیں :  اس سے بڑا مرتبہ کس کا ہوگا جس کے لئے زمین وآسمان کے فرشتے مغفرت کی دعا کرتے ہوں، یہ اپنی ذات میں مشغول ہے اور فرشتے اس کے لئے استغفار میں مشغول ہیں۔ (احیاء العلوم، کتاب العلم، الباب الاول، ۱/ ۲۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۲) جنت میں میرے ساتھ ہو گا

          رسولِ اکرم ، نُورِمُجَسَّم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرتِ سیدنا اَنس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   کو ارشاد فرمایا :  اے میرے بیٹے! اگرتجھ سے ہوسکے تو اپنی صبح وشام اس حالت میں کر کہ تیرے دل میں کسی کا کینہ نہ ہو، پھر فرمایا :  اے میرے بیٹے ! یہ میری سنت ہے ، جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا۔ (ترمذی، کتاب العلم، باب فی الاخذ بالسنۃ واجتناب البدع، ۴/ ۳۰۹، حدیث : ۲۶۸۷)

سنت کو زندہ کرنے کا مطلب

          حضرت ِعلامہ عبدالرَّ ء ُوف مناوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  ایک اورحدیث پاک  کے اس حصے ’’جس نے میری سنتوں میں سے ایک سنت کو زندہ کیا‘‘ کے تحت لکھتے ہیں : سنت کو زندہ کرنے سے مراد سنت کا علم حاصل کرنا ، اس پر عمل کرنا، اسے لوگوں میں پھیلانا ، انہیں سنت پر عمل کی ترغیب دلانااور سنت کی مخالفت کرنے سے بچناہے ۔

(فیض القدیر، حرف الہمزۃ، ۲/ ۱۲، تحت الحدیث : ۱۱۹۵)

            حضرت علامہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی فرماتے ہیں : سنت کو زندہ کرنے سے مراد اپنے قول وعمل کے ذریعے اس سنت کی اشاعت وتشہیر کرناہے۔

(مرقاۃ المفاتیح، کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، ۱/ ۴۱۴، تحت الحدیث :