Book Name:Aaqa Ka Pyara Kon?

ہیں ، عثمان ، علی ، زبیر ، طلحہ ، عبد الرحمن بن عوف ، ابوعبیدہ بن جراح اور سعد بن ابی وقاص جنتی ہیں (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم حضرتِ سیِّدُنا سعیدبن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نو اَفراد کے نام بتاکر دسویں پر خاموش ہوگئے ، لوگوں نے کہا :  اے ابو الْاَعْوَر! (یہ ان کی کنیت تھی )ہم آپ کو اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی قسم دے کر پوچھتے ہیں کہ دسواں کون ہے ؟  فرمایا :  تم نے مجھے قسم دی ہے تو سنو ! دسواں  ابو الْاَعْوَر  ہے ۔ (ترمذی ، کتاب المناقب ، باب مناقب عبد الرحمن بن عوف ، ۵/  ۴۱۶ ، حدیث :  ۳۷۶۹)

    حضرتِ سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   فرماتے ہیں :  غزوۂ اُحد میں رسولُ اللّٰہ    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تیر نکال نکال کر مجھے عطا کرتے رہے اور فرمایا :  تیر چلاؤ! میرے ماں باپ تم پر فدا۔ (بخاری ، کتاب المغازی ، باب اذ ہمت ۔۔۔الخ ، ۳/  ۳۷ ، حدیث :  ۴۰۵۵)

جوہم بھی واں ہوتے خاکِ گلشن لپٹ کے قدموں سے لیتے اُترن

مگر کریں کیا نصیب میں تو یہ نامُرادی کے دن لکھے تھے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

خوشخبری

          اے عاشقانِ رسول!  جہاں حضورپُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے  اپنے ساتھ موجودین کو بشارتوں سے نواز اوہیں بعد میں آنے والے امتیوں کو بھی محروم نہ رکھا مثلاً :  یتیموں کی پرورش، بیٹیوں کی پرورش، کم کھانا، کم بولنا، یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنا، بڑوں کا ادب جیسے کئی اعمال کرنے والوں کو اپنی رضاکی خوشخبری دی تو کسی کو جنت کی بشارت عطافرماکر اپنے قرب کی نویدبھی سنائی۔ایسے ہی کم از کم 17 منتخب اعمال وفضائل پر مشتمل مختصر رسالہ ’’ آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا پیارا کون؟ ‘‘ ([1])    آپ کے سامنے ہے ، اسے پڑھئے اور عمل کرکے برکتیں پائیے ۔

عطارؔ ہمارا ہے سرِحَشر اِسے کاش!

دستِ شَہِ بطحا سے یِہی چِٹھّی ملی ہو   (وسائل بخشش، ص۳۱۵)

              اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   سے دعا ہے کہ ہمیں ’’اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش‘‘ کرنے کے لئے مدنی انعامات پر عمل اور مدنی قافلوں کا مسافر بنتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور دعوت اسلامی کی تمام مجالس بشمول’’ المدینۃ العلمیۃ‘‘کو دن پچیسویں رات چھبیسویں ترقی عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

شعبہ اِصلاحی کتب (المدینۃ العلمیۃ )

      (۱) عالِم اور طالبِ علم مجھ سے ہیں

            سرکارِمدینۂ منوّرہ، سردارِمکّۂ مکرّمہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    کا فرمانِ رحمت نشان ہے : لَیْسَ مِنَّا إِلَّا عَالِمٌ اَوْ مُتَعَلِّمٌیعنی ہم سے نہیں مگرعالم اور طالبِ علم( دین)۔ ( فردوس الاخبار، باب اللام، ۲/ ۲۱۴، حدیث : ۵۳۱۹)

            علمِ دین سیکھنے والے اسلامی بھائیو! تمہیں مبارک ہو کہ تم سے سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بڑا پیار کیا کرتے ہیں ، بلاشبہ علم دین سیکھنے سِکھانے کی بڑی اہمیت ہے اور اس کے لئے خاص تاکید کی گئی ہے، چنانچہ

پانچواں نہ بن کہ ہلاک ہوجائیگا

            سرکارِ مدینہ، سلطانِ باقرینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ عظمت نشان ہے : اُغْدُ عَالِمًا اَوْ مُتَعَلِّمًا اَوْ مُسْتَمِعًا اَوْ مُحِبًّا وَلَا تَــــــکُنِ الْخَامِسَۃَ فَتَہْلِکَ

یعنی عالِم بن یامتعلِّم، یا علمی گفتگو سننے والا یا علم سے محبت کرنے والا بن اور پانچواں (یعنی علم اور عالِم سے بُغْض رکھنے والا [2]؎ ) نہ بن کہ ہلاک ہوجائیگا۔

( معجم اوسط، ۴/ ۴۹، حدیث : ۵۱۷۱)

(حکایت : 3)

علم شرافت و مرتبے کی کنجی ہے

            حضرتِ سیِّدنا ابوالعالیہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ    فرماتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اکی خدمت میں حاضر ہوا، وہ اپنی چار پائی پر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے اردگرد قریش کے لوگ بیٹھے ہوئے  تھے۔ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے میرا ہاتھ پکڑکر مجھے اپنی چار پائی پر بٹھالیا تو قریش کے لوگ



 1    اس رسا لے کا یہ نام شیخ امیر اہلسنّت حضر ت علامہ مو لانا  ابو بلال محمدالیاس عطا ری قا دری دامت بر کا تہم العل لیہ نے رکھا ہے اور  دارلا فتاء اہلسنّت  کے اسلامی بھائی نے شرعی تفتیش فرما ئی ہے ۔

     فیض القدیر، ۲/۲۲، تحت الحدیث : ۱۲۱۳[2]  



Total Pages: 19

Go To