Book Name:Aaqa Ka Pyara Kon?

     اور مدنی تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے انہیں بہترین لوگ اور ہدایت کے ستارے قرار دیاچنانچہ ارشاد ہوا : اَ لَاوَاِنَّ اَصْحَابِیْ خِیَارُکُمْ فَاَ کْرِمُوْہُمْخبر دار! میرے صحابہ تم سب میں بہترین ہیں ان کی عزت کرو۔(المعجم الأوسط، ۵/ ۶،  حدیث : ۶۴۰۵) اور فرمایا :

اَصحَابِی کَالنُّجُومِ فَبِاَ یِّھِمْ اِقْتَدَیتُم اِھْتَدَیتُم

(یعنی) میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں ان میں سے جس کے پیچھے چلو گے راہ پاؤگے۔ (مشکوۃ المصابیح ، کتاب المناقب ، باب مناقب الصحابۃ، ۲/ ۴۱۶، حدیث : ۶۰۱۸)

میرے آقااعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ    فرماتے ہیں :     ؎

اہلسنّت کا ہے بَیڑا  پار اَصحابِ  حُضُور

        نَجم ہیں اور ناؤ ہے عِترَت رسولُ اللّٰہ کی  (حدائق بخشش، ص۱۵۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(حکایت : 2)                

  عمارت گرا دی

           صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَانمدنی آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی رضا پانے کے لئے کوشاں رہتے اور ہر ایسے کام سے بچنے کی کوشش کرتے جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو ناپسند ہوچنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   سے روایت ہے کہ ایک دن رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کہیں تشریف لے گئے تو ایک بُلند عمارت مُلاحظہ کی ، استفسار فرما یا :  یہ کس کی ہے ؟ عرض کی گئی :  یہ فُلاں انصاری صحابی کی ہے ۔یہ سن کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ خاموش ہو گئے۔ جب اُس عمارت کے مالِک حاضِر ہوئے تو انہوں نے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کو لوگوں کی موجودگی میں سلام عرض کیا ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اُن سے اِعراض کیا، اُنہوں نے یہ عمل کئی مرتبہ کیا ، حتّٰی کہ اپنے بارے میں ناراضی کا علم ہوگیا ، انہوں نے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَانسے کہا :  وَاللّٰہ !میں رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    کو ناراض پاتا ہوں ، وہ کہنے لگے :  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف لے جارہے تھے تو تمہاری عمارت دیکھی ، یہ سن کر وہ لوٹے اور عمارت ڈھا کر زمین بوس کردی ۔

  (ابوداؤد ، کتاب الادب ، باب ما جاء فی البناء ، ۴ /  ۴۶۰ ، حدیث :  ۵۲۳۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

کائنات کی بہترین خوشبو

          اگر رسولِ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ضرورتاً کہیں تشریف لے جاتے تو صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضوَان فِراق میں بے چین ہو جاتے اور معطر ومعنبر فضاؤں سے پوچھ پوچھ کر رحمتِ عالمیاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تلاش کرنے میں کامیاب ہوجاتے ، حضرتِ سیِّدُناابراہیم نَخعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   فرماتے ہیں :  رات کے وقت رسولُ اللّٰہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اعلٰی مہک سے تلاش کیا جاتا تھا ۔ (سنن الدارمی ، باب فی حسن النبی ، ۱/  ۴۵ ، حدیث :  ۶۵)حضرتِ سیِّدُناجابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   فرماتے ہیں :  بِاِذنِ پروردگاردوعالم کے مالِک ومختارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جس راستے سے بھی گزرجاتے تو بعد میں گزرنے والا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ    وَسَلَّمَ کے مبارک پسینے کی اعلٰی مہک کی وجہ سے پہچان جاتا تھا کہ یہاں سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ گزر ے ہیں ۔(سنن الدارمی ، باب فی حسن النبی ، ۱/  ۴۵ ، حدیث :  ۶۶)

گزرے جس راہ سے وہ سیّدِ والا ہو کر

رہ گئی ساری زمیں عنبرِ سارا ہو کر

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

مَدَنی آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عنایتیں

          دوسری طرف مدنی آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بھی اپنے جاں نثار و وفادار صحابہعَلَیْہِمُ الرِّضوَان  سے محبت واُلفت کے اظہار اور ان کو نوازنے میں کمی نہیں کی، چنانچہ فرمایا :  ہر نبی کے دو دو وزیر ہیں ، دو آسمان میں اور دو زمین میں ۔ آسمان میں میرے دو وزیر جبرئیل ومیکائیل ہیں اور زمین میں میرے دو وزیر ابوبکر وعمر ہیں ۔

(ترمذی ، کتاب المناقب ، باب فی مناقب ابی بکر و عمرکلیہما ، ۵/  ۳۸۲ ، حدیث :  ۳۷۰۰)

ایک مقام پر فرمایا :  ہر نبی کا ایک رفیق ہوتا ہے اور جنت میں میرے رفیق عثمان ہیں ۔  (ترمذی، کتاب المناقب ، باب مناقب عثمان ، ۵/  ۳۹۰، حدیث :  ۳۷۱۸)

نیز فرمایا :   اَنَا مَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُھَا یعنی میں علم کا شہر ہوں اور علی اُس کا دروازہ ہیں۔(مُستَدرَک، کتاب معرفۃ الصحابۃ، باب انا مدینۃ العلم، ۴/